بھدرواہ //انجمن ترقی گوجری ادب ضلع ڈوڈہ کی جانب سے بدھ کے روز خانہ بدوش آبادی خصوصاً گوجر طبقہ کے نوجوانوں کو اپنے میراث سے واقف کرنے کے لئے بھدرواہ کے ایک صحت افزا مقام جائی میں ایک مشاعرہ کا اہتمام کیا گیا ، جس میں دو درجن نامور گوجری شاعروں اور وادی چناب کے اُبھرتے ہوئے ذہین نوجوانوں نے بھی شرکت کی۔اپنی نویت کا یہ پہلا مشاعرہ گوجر طبقہ کو اپنے منفر د تمدن اور زبان سے واقف کرنے اور نوجوانوں کو آج کل کی زندگی میں تعلیم کی اہمیت سمجھانے کے لئے منعقد کیا گیا تھا۔انجمن ترقی گوجری ادب ضلع ڈوڈہ کے جنرل سیکرٹری جان محمد حکیم نے تقریب کی صدارت کی جبکہ نظامت کے فرائض اُبھرتے ہوئے ایک جوان سال شاعر بشارت نازکی نے انجام دئے۔مشاعرے میں شرکت کرنے والوں کو سامعین خصوصاً خواتین نے کافی داد دی اور گوجری مشاعرے سے لُطف اندوز ہوئے۔اپنے تعارفی خُطبہ میں جان محمد حکیم نے مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعرا کا شکریہ ادا کیا۔انجمن ترقی گوجری ادب ضلع ڈوڈہ کے صدر خاقان سجاد نے کلچرل اکیڈمی اور اے آئی آرکی جانب سے گوجری کو اپنا جائز حصہ نہ دینے پر اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ وادی چناب میں 1.3لاکھ گوجر آبادی ہونے کے علاوہ وادی چناب کے چراگاہوںمیں خانہ بدوش 30,000 کنبے رہائش پذیر ہیں ،جس کی وجہ سے ہم نے اے آئی آر اور کلچرل اکیڈمی کو گوجروں کو اپنا حصہ دینے کا مطالبہ کیا لیکن اس پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔انہوںنے کہا کہ ہمارے پاس اب ایجی ٹیشن شروع کرنے کے علاوہ کو ئی چارہ نہیں ہے۔مشاعرے میں شرکت کرنے والے شعرا میں جان محمد حکیم ، خاقان سجاد، خُدا بخش خیالی ، عبدالقیوم بے تاب، بشارت نازکی، محمد شریف آفتاب،محمد حنیف چراغ،محمد آصف جان ،بلال زم زم ، علی محمد آفتاب اور محمد یوسف نورانی بھی شامل تھے۔