گزشتہ سال 5؍ اگست کو جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی۔ ارباب اقتدار اس بات کا والہانہ انداز سے چرچا کر رہے تھے، بلکہ اب بھی کر رہے ہیں کہ جموں و کشمیر کو ترقی کی پٹری پر لانے میںاب کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ سرکاری محکمہ جات میں انسدادی قوانین کا براہ راست اطلاق ہو گا، جس سے کے کہ کرپشن پر کاری ضرب پڑ جائے گی۔ سیاسی اثرو رسوخ کے دور کا خاتمہ ہوکے اب سرکاری خدمات لوگوں کے آنگن میںمیرٹ (merit)کی بنیادوں پر پہنچ جائیں گیں۔ نوجوانوں کو روزگار دلوانے کی خاطر نت نئی اسکیمیں وضع کی جائیں گیں۔ اسی طرح سے کئی سارے دعوے تو کیے گئے ، لیکن ایک سال سے زائد کا عرصہ تو بیت گیا، لیکن زمینی صورتحال میں کوئی بہتری دکھائی نہیں دے رہی ہے۔اس ساری بدمزگی کے تناظر میں سوال کیا جا سکتا ہے کہ جن چیزوں کو بنیاد بنا کر جموں و کشمیر کی خصوصیت حیثیت ختم کر دی گئی ، آخر وہ چیزیں کب آئیں گیں؟ پرانی بوتل نئی شراب کے مصداق اسے سراسر ناٹک بازی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔
مانٹیسکیو (Montesquieu)ایک فرانسیسی ماہرِ سیاسیات گزرے ہیں۔ انہوں نے1774 ء میں اپنی کتاب قوانین کی روح(The Spirit of the Laws) میںایک شہرہ آفاق نظریہ(theory) پیش کیا ، جس کوسیاسیات ہی نہیں بلکہ انتظامیہ کے طالب علم بھی بڑے شوق سے پڑھتے ہیں۔ اس نظریے کے مطابق اگرطاقت و اختیارات (Power and Authority ( کو کسی ایک شخص یا ادارے کے حوالے کیا جائے ، تو اس کا مطلب تاناشاہی (tyranny) ہے۔اس قسم کے کسی خدشے کو دفن کرنے کے لئے اُنہوں نے طاقت یا اختیارات استعمال کرنے کو ریاست کے تین اہم اداروں میں تقسیم کیا ہے ۔ ایک عاملین کا ادارہ (Executive)، دوسرا قانون سازی کا ادارہ (Legislative) ،تیسرا عدلیہ کا ادارہ (Judiciary)۔ ان تینوں اداروں کا آپس کے معاملات میںکوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔ ہر ایک ادارہ دوسرے ادارے کے ساتھ مربوط طریقے سے (in co-ordination with)اپنے اپنے حدود میں کام کرے گا۔ ایسا کرنے سے ہر ایک ادارے کی اپنی الگ پہچان ہو گی اور ایک دوسرے کے کام کاج میں کسی کو رخنہ ڈالنے کی گنجائش بھی نہ ہوگی۔
مانٹیسکیو کے بعد ایک اور فرانسیسی ماہرِ سماجیات ایمائل ڈرکائم (Emile Durkheim) نے 1893ء میںاپنی کتاب ’’سماج میں محنت کی تقسیم‘‘ in Society) Division of Labour) لکھی، جو کہ اُنہوں نے اپنے تحقیقی مقالات کی بنیادوں پر ترتیب دی۔ فرد اور سماج کے مابین تعلقات کے حوالے سے اس کتاب کو سماجیات میں ریڑھ کی حیثیت حاصل ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے ایک اور غیر مختلف نظریہ پیش کیا، جس کے مطابق افراد کو سماجی حیثیت پر بنائے رکھنے اور زیادہ سے زیادہ پیداوار صاف و شفاف طریقے سے برآمد کرنے کے لئے افراد کا ایک دوسرے کے ساتھ محنت و مزدوری بانٹنا ضروری ہے۔ اس سے ہر کوئی اپنے کام سے کام رکھے گا اور سماج کے پیش کردہ فلاحی قوانیں کی پاسداری ہوگی۔ ہر کوئی قانون کی پاسداری کرکے سُکھ شانتی سے زندگی جی پائے گا۔ مانٹیسکیو اور ڈرکائم کے اِن دو نظریات کا اگر ایک سرسری جائزہ لیا جائے، تو یہ کہنا بے جاہ نہ ہوگا کہ دونوں نظریات ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں اور دونوں کا محور ایک ہی موضوع کے ارد گرد گھومتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ انتظامیہ کو کس طرح سے بدعنوانیوں سے پاک رکھا جائے، ریاست کی ترقی میں ہر کوئی کس طرح اپنا رول نبھائے ، امن و چین کا ماحول کس طرح عام کیا جائے اور لوگوں کی زیادہ سے زیادہ خدمت کس طرح سے کی جائے۔علاوہ ازیں، پہلا نظریہ اگر انتظامی سطح کی بات کر رہا ہے تو دوسرا انفرادی سطح کے معاملات کا احاطہ کر رہا ہے۔
ویسے بھی یہ بات عقل کے عین مطابق ہے کہ سماجی و گروہی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے دوران کام کو جتنا زیادہ افراد کے بیچ بانٹا جائے، اتنی ہی زیادہ پیداوار ہو گی اور ہر کوئی اپنا کام بحسن خوبی انجام دے سکے گا۔ چنانچہ ان دونوں جدید نظریات سے بہت پہلے اصل میں یہ اصلاحات عہدِ فاروقی ؓ(اسلام کے دوسرے خلیفہ راشد ) میں ہی عملاً استعمال کئے گئے تھے، کہ ریاست کے انتظام کی خاطر اور لوگوں کو زیادہ سے زیادہ راحت پہنچانے کی لئے مختلف ہائے محکمے تعینات کئے جائیں ۔ جیسے کہ ملٹری کا ادارہ ، زکوٰۃ وصول کرنے کا ادارہ، عدلیہ کا ادارہ، وغیرہ وغیرہ۔ انسانی فطرت بھوک، حرص، طمع و لالچ پر مبنی ہے، خاص کر ایسے لوگوں کی جنہیں نہ کسی بعد از موت زندگی کا احساس ہوتا ہے ،نہ کسی بلند و برتر طاقت کی۔ طاقت کے نشے میں انسان کھبی بھی چور ہو سکتا ہے اور وہ اپنی نفسا نی خواہشات کی تسکین کے لئے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لئے موجودہ دور کے علماء و فلاسفاء نے مندرجہ بالا نقطہ نگاہ سامنے رکھا کہ کیسے انسانوں کی خواہشات پر لگام لگایا جائے اور وہ ایک قانون کے تابع چلیں۔ کم وبیشتر ، موجودہ دور کے ’مہذب‘ اقوام بھی انہی راہنماء اصولوں کے مطابق اپنے اپنے ممالک کا نظام ہائے کار چلا رہے ہیں۔
لیکن ہمارے خطہ جموں و کشمیر کا حال اِس سے کچھ زیادہ ہی مختلف ہے۔ یہاں نہ عملی شتر مرغ چل رہے ہیں نہ ہی بیچارے کاغذی گھوڑے۔ یہاں پر کسی اور ہی نئی قسم کی کھپ کو عملی میدان میں لایا گیا ہے۔کیوں کی یہاں پر عدلیہ کے احکامات پر کام ندارد ہے، عاملیں حضرات کا ہاتھ ہر میز پر بھاری ہے، قانون ساز حضرات کی کوئی سننے والا ہی نہیں ہے، ہر ایک عہدہدار دوسرے عہدے دار کے کا م کاج کی نسیں کاٹ رہا ہے۔ گذشتہ دہائیوں کیtrending storiesاس بات کی گوہی دینے کے لئے کافی ہیں، کہ کیسے یہاں قانون کو مالا بنا کر قانوں توڑنے والوں کو ہی پہنائی جارہی ہے، کیسے یہاں سیاسی اثر رسوخ کی بنیادوں پر راتوں رات لوگ بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوتے ہیں، کیسے یہاں اعلیٰ عہدے دار روزگار کے اشتہارات میں من مانی تحریفیں کرتے ہیں، کیسے یہاںپر سیاسی اثر و رسوخ والے عام آدمی کا استحصال کرتے ہیں، کیسے یہاںپر سیاسی چمچے سرکاری مراعات کو اپنے گھر کی جاگیر سمجھتے ہیں، کیسے یہاں پر ’خاص الخاص‘ کے خصوصی افراد کو کاغذ کی’ آدھی پرچی ‘پر منصہ براجماں کیا جاتا ہے۔اس فہرست میں یہ مثالیں مکمل نہیں ہیں، بلکہ یہ کچھ ایسی مثالیں ہیں جن سے یہا ں کے عام آدمی کو ہر روز مسابقہ ہونا پڑ رہا ہے۔ اصلی اور بڑی مثالیں اعلیٰ دفاتر کے میزوں پر دیکھی جاسکتی ہیں، کہ کس طرح سے بڑے بڑے رقومات کا گھپلا کیا جاتا ہے، کس طرح سرکاری کاغذ کو غیر سرکاری انداز میں لاکھوں روپیوں کے عوض چور بازار میںبھیجا جارہا ہے۔ لوگوں سے جی ایس ٹی کے نام پر جو ٹیکس بٹورا جاتا ہے ،اس کو لوگوں کے پاس ہی آنا ہوتا ہے۔ لیکن لوگوں تک پہنچتے پہنچتے اس پیسے کی کرایہ میں اتنا اضافہ ہوتا ہے کہ مستحقین کو لینے کے دینے پڑتے ہیں۔ حالانکہ سرکاری احکامات و قوانین اور ’فلاحی اسکیموں‘ کے مطابق یہاں پر کسی کو غریب نہیں ہونا چاہے ، کسی پر بے روزگاری کا گرد و غبار نہیں ہونا چاہیے ، کسی کی تعلیم رکنی نہیں چاہے اور عوام کو زندگی جینے میں کوئی اڈچن پیش نہیں آنی چاہے ۔
اب اس صورتحال سے بچنے کے لئے اسی سسٹم کے ’کاغذی گھوڑوں‘ نے ایک احتجاج کا حق عوام کو دیا تھا۔ عوام احتجاج و مظاہرے کر کے اپنے مسائل کا منصفانہ حل مانگ سکتے ہیں، لیکن اس خطہِ بد نصیب کا حال یہ ہے کہ یہاں پر ہر کسی کام کو سیاسی نظر سے دیکھا جارہا ہے، حتیٰ کہ کسی انسان کی انفرادی عمل کو بھی سیاسی تھرمامیٹر کے اوپر نانپا جارہا ہے۔ چنانچہ ریاست کا سیاسی نظام پچھلے ستر دہائیوں سے تختئہ مشق بنا ہوا ہے، اس طرح سے کسی ’غیر سیاسی‘ مسئلے کی حل کی آواز اٹھانی بھی ناجائز ٹھہر گئی ہے۔ حد تو یہ ہے کہ پانی یا بجلی کی خاطر اگر آپ اپنے دل کو تسکین دینے کے لئے ہی سہی، احتجاج کرنے کی کوشش کریں گے، تو آپ کو امن و امان میں خلل ڈالنے والے کے لقب سے پکارتے ہوئے جیل کی راہ دیکھنی پڑتی ہے۔ خواتیں اپنے گھر کے خالی مٹکوں کو لے کر جب مجبواََ سڑک کی راہ لیتے ہوئے کسی گویائی رکھنے والے عہدہدار تک اپنی بات پہنچانا چاہتے ہیں ، تو انہیں پانی کے بدلے ’سرکاری دنڈے‘ کھانے پڑتے ہیں۔اپنی اعلیٰ اسناد کو لے کر جب ایک بے روز گار نوجوان کو عین الیقین کے طور پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ اُس کے حق پر شب و خون مارا گیا اور وہ کسی سرکاری دفتر میں تھوڑا بلند آواز میں بات کرتا ہے، تو اسے’ شر پسند عناصر‘ کا لقب دے کر باہر کیاجاتا ہے۔ ’عوامی خدمت گار‘ کو اپنی خطیر تنخواہ سے جب پیٹ نہیں بھرتا تو وہ ’کمیشن‘ ’چائے ‘ یا ’پارٹی‘ کے نام پر اپنے پیٹ کو وسعت دیتا ہے۔ اس ساری صورتحال میں ’’عوام کے یہ خدمت گذار‘‘ اپنی اِن چھتر چھائوں میں جتنے مفادات بھی اکھٹا کرتے ہیں ، اُ س سے اُن کا حق مانا جاتا ہے۔گویا چوری، لوٹ گھسوٹ، غبن و دھوکہ دہی کو اب ’نارمل‘سمجھا گیا ہے۔ کسی’ سرکاری کاغذ‘ کو صبح ہاتھ میں تھامنے سے پہلے آپ کودس باریہ سوچنا ہوتا ہے کہ کس میز والے کو کتنی ’چائے‘ پلانی ہے۔ یہ چیز اس بات کا ثبوت پیش کرتی ہے کہ ہمارے اندر یہ’ احساسِ سخن ‘ راسخ ہوچکا ہے کہ ’عوامی خدمت گار‘ کو چائے پلانا ایک معمول ہے ۔ ایک صورتحال یہ ہے کہ آپ کے اوپر ظلم ہو رہا اور آپ اس کو نہیں مانتے اور ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اس کے خلاف نبرد آزما ہو جاتے، وہی دوسری صورتحال یہ ہے کہ آپ پر ظلم ہو رہا ہے اور آپ اس کو تسلیم کرتے ہیں اور اس طرح کرتے ہیں جیسے کہ یہ’ نارمل‘ ہے ۔ بالفاظِ دیگر، ایسے کرپٹ نظام کو ہم نے بہت ’نارمل‘ تسلیم کیا ہوا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حال کتنا بے حال و بد حال ہے۔
عالمی انتظامی پیمانے (Worldwide Governance Indicators)ایک بین لاقوامی منصوبہ ہے جو دنیا کے تقریباََ تمام ممالک میں انتظامی صورتحا ل کا نقشہ پیش کرتا ہے۔ اس منصوبے کے مطابق جن چھ پیمانوں پر انتظامیہ کو نانپا جا رہا ہے اُن میں سب سے پہلے رائے دہی اور احتساب(Voice and Accountability) ہے، اس کے بعد سیاسی استحکام و تشدد کی عدم موجودگی (Political Stability and Absence of Violence)ہے، اس کے بعد سرکاری چاشتی(Government Effectiveness)، اس کے بعد فلاحی اداروں کا بہترین چلائو (Regulatory Quality) ، اس کے بعد قانون کی بالادستی(Rule of Law) اور آخر میں بدعنوانیوں پر روک تھام(Control of Corruption ) ہے۔ اِن سب پیمانوں کو لے کر اگر ہمارے خطہ بدنصیب کا موازنہ کیا جائے،تو ایک حساس انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔