سرینگر // فوج کا کہنا ہے کہ جنگجوئوں کی تعداد کم ہونے سے حفاظتی صورتحال ٹھیک نہیں ہوتی جب تک نہ عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک کو ختم نہیں کیاجاتا۔ رنگریٹ سرینگر میں جیک لائی ریجمنٹ پاسنگ آوٹ پریڈ کی تقریب کے حاشیہ پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے لیفٹیننٹ جنرل ڈی پی پانڈے نے کہا’’ کچھ لوگ جو آزادی کا شوق رکھتے ہیں، انہیں حدمتارکہ اور پاکستان و افغانستان کی سرحدوں پر کیا صورتحال ہے، غور کرنا چاہئے‘‘۔انہوںنے کہاکہ ’’ جب تک نیٹ ورک ختم نہیں ہوگا صورتحال ٹھیک ہونے میں وقت لگے گا‘‘۔ انہوںنے کہاکہ ’30سال قبل جو کچھ بھی ہوا، وہ کشمیری لوگوں کیلئے ایک عظیم بحران تھا، ہاں!ایسا ممکن ہے کہ افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلاء کے بعد کشمیر میں چند عسکر یت پسند دھکیلے جاسکتے ہیں، لیکن اب 30برس قبل والی صورتحال نہیں ہے‘۔ انہوںنے کہاکہ ’ہم حد متارکہ یااندرون ملک پر کسی بھی چیلنج کا سامنا اور ناکام بنانے کیلئے پوری طرح تیار ہے‘۔جی او سی نے کہاکہ فوج کیلئے ہمیشہ پہلی ترجیح روایتی تربیت ہے ، پھر اس کے بعد انسداد شورش آپریشن یا دراندازی مخالف آپریشن ہے ، جب بھی پولیس کو کسی آپریشن کیلئے ہماری ضرورت پڑے گی، ہم ان کے ساتھ شامل ہونگے‘‘۔ انہوںنے کہاکہ ’ہماری نظر دشمنوں پر ہے نہ کہ جنگبندی پر، ہم کسی بھی صورتحال کاسامنا کرنے کیلئے تیار ہے اور ہر سطح پر جواب دینے کے اہل ہے‘۔ نئی دہلی اور جموںوکشمیر کے لیڈروں کے مابین ہونے والی بات چیت کا کشمیر کی صورتحال پرپڑنے والے اثر سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں جی او سی پانڈے نے کہاکہ حفاظتی صورتحال اور سیاسی عمل دو الگ الگ معاملے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ مذاکرات ایک لگاتار ہونے والا عمل ہے جبکہ حفاظتی صورتحال ایک الگ معاملہ ہے جو مختلف سطح پر نمٹا جاتا ہے۔ انہوںنے کہاکہ کشمیر میں امسال تک حد متارکہ پر اس وقت صفر دراندازی ہے لیکن لانچنگ پیڈ ابھی بھی سرگرم ہیں، جو کچھ بھی حدمتارکہ پر ہوگا، اسے موثر اور پیشہ وارانہ طریقوں سے نمٹا جائیگا۔