نیویارک//نئی امریکی انتظامیہ کی جانب سے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں طالبان کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے پر نظرِ ثانی کے اعلان کا کئی افغان رہنماؤں نے خیر مقدم کیا ہے۔خیال رہے کہ امریکی صدر کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیون نے اپنے افغان ہم منصب حمداللہ محب سے جمعے کو گفتگو کے دوران کہا تھا کہ امریکہ، طالبان کے ساتھ امن معاہدے کا دوبارہ جائزہ لے گا۔امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہارن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ "واشنگٹن اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ا?یا طالبان نے معاہدے کے دوران کرائی جانے والی یقین دہانیوں پر عمل کرتے ہوئے دہشت گرد گروپوں سے روابط ختم کیے ہیں یا نہیں۔"بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اس بات کا بھی جائزہ لے گا کہ طالبان تشدد کم کرنے اور افغان حکومت اور دیگر دھڑوں کے ساتھ ٹھوس مذاکرات میں کس حد تک سنجیدہ ہیں۔ایملی ہارن کا اپنے بیان میں مزید کہنا تھا کہ امریکہ افغانستان میں قیامِ امن کے ہر عمل کی حمایت کرے گا جس کے لیے وہ سفارتی کوششیں بھی جاری رکھے گا۔ تاکہ فریقین اتفاق رائے سے کسی سیاسی تصفیے تک پہنچ سکیں۔بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے امن معاہدے پر نظرِ ثانی کے اعلان پر ردِعمل دیتے ہوئے افغانستان کے قائم مقام وزیر برائے امن عبداللہ خانجانی نے کہا کہ معاہدے پر نظرِ ثانی کا حاصل جنگ اور تشدد کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ہفتے کو ایک بیان میں عبداللہ خانجانی نے کہا کہ "امریکی جائزے کے بعد افغانستان میں تشدد کے مکمل خاتمے اور دیرپا امن کے اہداف حاصل ہونے چاہئیں۔"افغان صدر کے ترجمان صادق صدیقی نے بھی ہفتے کو ایک بیان میں کہا کہ طالبان امن معاہدے پر عمل درا?مد سے گریز کرتے ہوئے تشدد کی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔اپنی ٹوئٹ میں اْن کا کہنا تھا کہ "امن معاہدے کے بعد اب تک وہ اہداف حاصل نہیں ہو سکے جس کے لیے یہ معاہدہ ہوا تھا۔ کیوں کہ افغانستان میں تشدد کی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں۔"امریکہ کی جانب سے امن معاہدے پر نظرِ ثانی کے عندیے پر ردِعمل دیتے ہوئے طالبان نے کہا کہ وہ امن معاہدے پر پوری طرح کاربند ہیں۔ قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے ترجمان محمد نعیم نے بتایا کہ وہ دوسرے فریق سے بھی یہ توقع رکھتے ہیںہ