رکیاوک //امریکا اور روس کے درمیان بحر منجمد میں جہاز رانی کے مسئلے پر تنازع سر اٹھانے لگا۔ خبررساں اداروں کے مطابق جوبائیڈن کی انتظامیہ کو ماسکو حکومت کی جانب سے بحرمنجمد میں جہاز رانی کے علاوہ عسکری نقل و حرکت پر شدید تشویش ہے۔ یہ علاقہ بین الاقوامی ورثہ ہے اور کسی ایک ملک کو اس کی ملکیت کا اختیار نہیںہے۔ بحر منجمد کی نگرانی کے لیے ایک آرکٹک کونسل قائم ہے،جس کی سربراہی روس کے پا س ہے۔ ماسکو حکومت سمندر کے شمالی راستے میں اپنے قوانین نافذ کرنا چاہتی ہے اور ناروے سے الاسکا تک جانے والے راستے پر 8 ممالک کا بلاک قائم کرکے وہاں عسکری موجودگی کو بڑھانے کی خواہش مند ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعرات کے روز آرکٹک کونسل کا اجلاس منعقد ہوا،جس میں امریکی اور روسی وزرائے خارجہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر امریکا کی کوشش رہی کہ وہ کونسل کے ارکان کوروس کے پیش کردہ منصوبے سے باز رکھے۔ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن اور روسی ہم منصب سرگئی لاروف نے آئس لینڈ کے دارالحکومت رکیاوک میں آرکٹک کونسل میٹنگ کے موقع پر ایک علاحدہ ملاقات کی۔ فریقین نے میڈیا کے سامنے ایک دوسرے کو یقین دلایا ہے کہ ان کی حکومتیں سخت کشیدگی کے باوجود مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔بلنکن کا کہنا تھا کہ اگر واشنگٹن اور ماسکو کی قیادتیں مل کر کام کریں تو یہ دنیاایک محفوظ جگہ بن سکتی ہے۔