محمد تسکین
بانہال // سالانہ امرناتھ یاترا کے دوران جموں سرینگر قومی شاہراہ پر عقیدت، خدمتِ خلق، مذہبی رواداری اور قومی یکجہتی کی ایک خوبصورت تصویر دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ضلع رام بن کے چندرکوٹ اور بانہال کے لامبر گراؤنڈ میں تین درجن سے زائد لنگر قائم کیے گئے ہیں، جہاں مقدس امرناتھ گھپا کی طرف جانے والے اور وہاں سے واپس آنے والے ہزاروں یاتریوں کی شب و روز بے لوث خدمت کی جا رہی ہے۔ان لنگروں میں روزانہ ہزاروں یاتریوں کو مفت چائے، ناشتہ، مٹھائیاں اور تازہ و لذیذ کھانے پیش کیے جا رہے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں سے آئی مذہبی، سماجی اور فلاحی تنظیمیں مکمل طور پر رضاکارانہ بنیادوں پر یہ خدمات انجام دے رہی ہیں، جنہیں یاتری بے حد سراہ رہے ہیں۔شری بابا امرناتھ شیو شکتی سیوا ٹرسٹ، دہلی کے وکی اروڑہ نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا لنگر گزشتہ سولہ برسوں سے مسلسل یاتریوں کی خدمت میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا’’جب تک سانس ہے، سیوا کا یہ سفر جاری رہے گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مرد و خواتین رضاکار دن رات خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر یاتریوں کا مسکراتے چہروں کے ساتھ استقبال کرتے ہیں اور ان کی ہر ممکن سہولت کا خیال رکھتے ہیں۔اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے سنجے شرما، جو شری شیو شکتی ویلفیئر ٹرسٹ کے لنگر کی نگرانی کر رہے ہیں، نے بتایا کہ ان کی تقریباً دو درجن رضاکاروں پر مشتمل ٹیم پوری لگن کے ساتھ یاتریوں کی خدمت میں مصروف ہے۔ انہوں نے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ صفائی، بجلی، پانی، سیکورٹی اور دیگر بنیادی سہولیات بہترین ہیں، جس کی بدولت یاتریوں کا روحانی سفر مزید آرام دہ، محفوظ اور یادگار بن رہا ہے۔پنجاب کے شہر جالندھر سے تعلق رکھنے والے یاتری وریندر کپور اور درشن شرما، جو مقدس گھپا کے درشن کے بعد واپس لوٹے، نے بتایا کہ وہ گزشتہ پندرہ اور انیس برس سے مسلسل امرناتھ یاترا کر رہے ہیں اور ہر سال انتظامات میں مزید بہتری دیکھنے کو مل رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ لنگروں میں پیش کی جانے والی بے لوث خدمت، مذہبی عقیدت، انسان دوستی اور قومی یکجہتی کا جذبہ امرناتھ یاترا کی ایک منفرد پہچان بن چکا ہے، جو ہر سال لاکھوں یاتریوں کے دلوں پر خوشگوار نقوش چھوڑ جاتا ہے۔