پونچھ//مرکزی علی جامع مسجد پونچھ میں ولادت باسعادت امام حسنِ مجتبیٰ ؑپر نور محفل کا اہتمام کیا گیا۔اتوار کو بعد نماز ظہرین مونین کی جانب سے منعقدہ اس محفلِ نور کی ابتداء بھی تلاوت کلام پاک سے کی گئی جس کے بعدحمد ، نعت منقبت اور قصیدے کے نذارانہ عاشقان محمد و آل محمد ؐنے پیش کئے دوران محفل مومنین کو خطاب کرتے ہوئے مولانا سید سجاد حسین صفوی نے کہا کہ امام حسن علیہ السلام نے بالکل سرکار دوعالم حضرت محمد مصطفٰی ؐاور علی ؑکے نقش قدم پر چلتے ہوئے دین خدا وندی کی ترویج کی ۔انہوں نے جہاں حضرت امام حسنؑ کی ولادت با سعادت پر تمام مومنین کوہدیہ تبریک پیش کیا وہیں انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہم امام (ع) کی زندگی کو سمجھ سکیں۔انہوں نے کہا کہ مشہور ہے کہ آپؑ کی ولادت شبِ نیم رمضان سن ۳ ھجری’ مدینہ منوّرہ میں واقع ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ امام سجّادؑ فرماتے ہیںکہ جب حضرتِ فاطمہ(س) کے بطن مبارک سے آپؑ اس دنیا میں وارد ہوئے تو انہوںنے ان کے والد علیؑ سے عرض کیا کہ ان کا نام رکھیں ،علیؑ نے فرمایا میں نام رکھنے میں رسول خدا ؐ پر سبقت نہیں لے جا ؤنگا اور اسی وقت رسول خداؑ وارد ہوئے تو امام حسنؑ کو ایک زرد کپڑے میں لپیٹ کررسول خداؐ کو دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جب رسول اللہ ؐ نے امام حسنؑ کو اپنی آغوش میں لیا اسی وقت خداوندِمتعال نے جبرائیل کو وحی دے کر بھیجااور کہا کہ جائو نبی کریم ؐ کو مبارک باد دو اور ان سے کہو بیشک علیؑ کی منزلت آپؑ کے نزدیک ویسی ہی ہے جیسے’’ہارونؑ‘‘ کی منزلت موسیٰ ؑ سے تھی۔جبرئیل نے پیغام پہنچایا اورپھر اظہار کیا کہ خدا نے آپؑ کو مامور کیا ہے کہ اسکا نام ہارونؑ کے بیٹے کا نام رکھو لہٰذا آنحضرتؑ نے انکا نام شبر یعنی حسن ؑرکھا۔انہوں نے کہا کہ براء ا بن عازب کہتے ہیں کہ میں نے پیغمبرؐ کو دیکھا کہ آپ امام حسنؑ کواپنے دوشِ مبارک پر لئے ہیں اور فرماتے ہیں:اللھمّ انّی احبّہ فاحبّہ ‘‘خدایا میں اسے دوست رکھتا ہوں اور تو بھی اسے دوست رکھ۔انہوں نے کہا آپ ؐ کی محبت اور لگاؤ حسنینؑ سے اتنا تھا کہ آپ انہیں ریحانہ یعنی اپنے پھول کی خوشبو کہتے تھے۔