ملک بھر میں پارلیمانی انتخابات کے چرچے زور و شور سے ہورہے ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتیںاور ان کے اُمیدوار انتخابی پرچارر کے میدان میں سرگرم عمل ہیں لیکن انتخابات کا بیانیہ صرف یہ نظر آتا ہے کہ آیا بی جے پی کو ہارنا ہے یا جیتنا ہے۔ اسے یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ نریندر مودی کو دوبارہ وزیراعظم بنانے اور بننے سے روکنے کے لئے سارے ملک کی سیاسی جماعتوں نے دومحاذ بنالئے ہیں۔ برسراقتدار ہونے کے سبب بی جے پی کا محاذ بظاہر زیادہ بڑا اور طاقت ور ہے بلکہ مخالف مودی محاذ کے مقابلہ میں زیادہ متحد ومنظم ہے۔ بڑے افسوس کی بات ہے کہ بھاجپا مخالف جماعتیں ملک بھر میں ’’مہاگٹھ بندھن‘‘ بنانے میں ناکام رہی ہیں جس کی وجہ مخالف بھاجپا جماعتوں کی انا، خودپرستی اور خوش فہمیاں ہیں اور کانگریس کی انا پرستی اور دوسری جماعتوں سے خودکو برتر سمجھنے کی دیر ینہ ذہنیت بھی کار فرما ہے ۔اس کی مثال پنجاب، ہریانہ بلکہ دہلی میں بھی کجریوال کی ’’عاپ‘‘ پارٹی سے اتحاد کرنے کا انکار ہے۔
الیکشن کے تمام معاملات میں ملک کا 90 فیصد میڈیا خاص طور پر نجی ٹی وی چینلزبھاجپا کا بھونپو بنے ہوئے ہیں۔ اس سے زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کا الیکشن کمیشن جسے انتہائی غیر جانبدار اور بے باک ہونا چاہئے، وہ بظاہر مودی اور بھاجپا کے زیراثر کام کررہا ہے۔اس کی ایک مثال یہ ہے کہ ہمارے ملک کی مسلح افواج (جن کو ہمارے ملک کا محافظ ہی نہیں بلکہ آن بان اور شان کہا جاتا ہے )کی یو پی کے وزیر اعلیٰ ادتیہ ناتھ (جن کو ہم یوگی نہیں مانتے ہیں) جو نہ صرف اپنے عمل بلکہ اپنے حلیہ، وضع قطع اور لباس سے ہی وزیر اعلیٰ یا سیاست دان سے زیادہ کٹر ہندوتو وادی مہنت نظر آتے ہیں،نے یہ کہہ کر فوجی کی توہین کی کہ یہ ’’مودی سینا ‘‘ ہے۔ بی جے پی سے تو خیرکسی ایسی اُمید کی توقع ہی نہیں تھی کہ وہ وزیر اعلیٰ یوپی ادتیہ ناتھ کی اس گفتنی پر اُن کی سرزنش کرتی تاہم کو الیکشن کمیشن سے اُمید تھی کہ وہ انہیں اپنے ماڈل کوڈ آف کنڈکٹ سے تجاوز کر کے ملکی افواج کی توہین پر ادتیہ ناتھ کی نہ صرف سرزنش کرے گی بلکہ ان کے خلاف ضابطے کی کارروائی بھی کرے گی۔ 2014ء انتخابات میں یوپی کے شعلہ بیان مسلم قائد اعظم خان کو انتخابی پروپیگنڈہ میں کسی بے ضابطگی کرنے کے سلسلہ میں کئی دن تک انتخابی تشہیر سے منع کردیا گیا تھا۔ اس کا فائدہ بھاجپا نے اُٹھایا تھا لیکن موجودہ الیکشن کمیشن ایسے معاملات میں صرف ایک سرزنش یا وارننگ کو کافی سمجھ کر چپ سادھ لیتی ہے۔
2014ء کے انتخابات میں نریندر مودی نے اپنے ایک انتخابی حلقہ میں ایک پولنگ بوتھ کے قریب ہاتھ میں اپنی جماعت کا انتخابی نشان یعنی کنول لے کر انتخابی تشہیر کرکے ضابطۂ اخلاق کی شدید خلاف ورزی کی تھی اس بابت باضابطہ طورشکایت بھی گئی لیکن اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے کچھ نہیں کیا ۔اگر کیا بھی ہو تو کوئی ایسی بات نہیں کی جو میڈیا میں قابل ذکر مانی جاتی۔ اسی طرح نریندر مودی نے 2019ء کے انتخابا ت کے لئے بھی انتخابی ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ انتخابات میں مذہب، ذات پات کے نام پر فرقہ پرستی کی بڑی سختی سے ممانعت کی گئی ہے لیکن وزیر اعظم نریندر مودی ہندومسلم مسائل کو راست نہ سہی بالواسطہ ابھار کر اپنی فرقہ پرستی کا ثبوت دیتے رہے ہیں ۔ گزشتہ سال یوپی کی ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں مودی نے قبرستان اور شمشان نیز عید اور دیوالی کا ذکر کرتے ہوئے علی الا علان فرقہ پرستی کا مظاہرہ کیاتھا۔ اس سال بھی انہوں نے یوپی میں ہی یوپی کے نوجوان مسلم قائد عمران مسعود کا مذاق اس طرح اڑایا کہ ُاس پر بھی فرقہ پرستی کی چھاپ تھی۔ پاکستان میں بالاکوٹ پر فضائی حملہ کا ذکر وہ یوں کرتے ہیں جیسے یہ اُن کا اپنا ذاتی’’ کارنامہ‘‘ ہو اور بالاکوٹ پر حملہ کے سلسلہ میں بھاجپائی قائدین اوربھاجپا کہ زیراثر میڈیا کے بیانات میں اس قدر تضاد ہے کہ مخالف جماعتوں کو بالاکوٹ پر حملہ اور اس سلسلہ میں کئے گئے مبالغہ آمیز دعوؤں کا ثبوت مانگنا پڑا۔ بجائے ثبوت دینے کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ثبوت مانگنے والوں کو ہی’’ ملک کا غدار‘‘ قرار دے دیا۔ وزیراعظم کی انتخابی تقاریر میں مخالف جماعتوں کی (خاص طور پر کانگریس، سونیا گاندھی، راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی )کاذکر انتہائی حقارت آمیز انداز میں کیا جاتا ہے۔ نہ صرف نریندر مودی بلکہ بھاجپا کے دیگر قائدین بھی (خاص طور پر امت شاہ) انتخابی ضابطہ اخلاق کی دھجیاں اُڑاتے ہوئے مخالف جماعتوں کی توہین کرتے ہیں لیکن مندرجہ بالا تمام باتوں پر میڈیا ہی نہیں بلکہ الیکشن کمیشن نے پُراسرار خاموشی اختیار کررکھی ہے۔ میڈیا تو خیربی جے پی کا خریدکردہ یا تابعدار ہے لیکن الیکشن کمیشن ایک آزاد خودمختار ادارہ ہے جس پر انتخابات سے تعلق رکھنے والی ہر چیز پر نظر رکھنا فرض ہے لیکن 2019ء میں انتخابات کی نگرانی کرانے والا الیکشن کمیشن مکمل طور پر جانب دار لگتا ہے ۔ جب کمیشن بی جے پی نیتاؤں کی ہر ناجائزاور غیر جمہوری بات پر خاموش ر ہے تو بھلا وزیر اعظم نریندر مودی کی اشتعال انگیزیوں اور حزب مخالف کی جماعتوں کی توہین کرنے والی تقاریر پر کوئی اعتراض کرنے کی الیکشن کمیشن کیسے ہمت کرسکتا ہے؟
ایک آخری اہم بات یہ ہے کہ انتخابی قواعد کے مطابق رائے دہی کے آغاز سے تقریباً 40؍ گھنٹے قبل ہر قسم کی انتخابی تشہیر کو روک دینا قانوناً لازم ہے لیکن بھلا ہو ٹیلی ویژن کا مودی جی کہیں بھی تقریر کریں 90 فی صد ٹی وی نیوز چینلز ان کی ہر تقریر کو راست یا Liveدکھانا ضروری سمجھتے ہیں۔ جب تلنگانہ اور آندھرا میں رائے دہی سے قبل اور رائے دہی کے دن انتخابی تشہیر ممنوعہ تھی ،اس دن بھی وزیراعظم مودی کی دوسرے مقامات پر کی جانے والی تقاریر کے ذریعہ بھاجپا اور مودی کی انتخابی تشہیر کا سلسلہ جاری تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ملک بھر میں رائے دہی کے پہلے دن سے مختلف جماعتوں کی ریلیوں اور جلسوں میں کی جانے والی تقاریر اور ہر قسم کی انتخابی تشہیر کی ٹیلی کاسٹ روک دی جائے یا صرف مقامی حدتک محدود رکھاجائے تاکہ جن علاقوں میں انتخابی تشہیر پر پابندی ہو ،وہاں ٹیلی ویژن کے ذریعہ کسی بھی جماعت کی انتخابی تشہیر اور قائدین کی تقاریر پہنچ ہی نہ سکیں۔ الیکشن کمیشن پر یہ اعتراض بارہا کیا جاچکا ہے لیکن اس مقتدر قومی ادارے نے ان اعتراضات واحتجاجات پر کوئی توجہ نہیں کی ہے۔ اس طرح میڈیا اور الیکشن کمیشن کی جانبداری کی وجہ سے دوسری جماعتوں کے مقابلہ میں بھاجپا کو زیادہ فائدہ ہورہا ہے جو آزادانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کی روح کے خلاف ہے ۔ ا س طرز عمل سے تمام جماعتوں اور اُمیدواروں کو مساوی سہولتیں فراہم کرنے کی قانونی شرط بھی پوری نہیں ہوتی۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ ٹی وی چینلز پر بھاجپا اپنا پروپیگنڈہ پیسے دے کر کرتی ہے تو ٹی وی چینلز کو پروپیگنڈہ کے لئے دی جانے والی رقومات یا کوئی اپنا ٹی وی چینلز (نموٹی وی) چلانے کے اخراجات کا شمار اُمیدواروں کیلئے مقرر کردہ اخراجات کی جملہ رقم میں ہونا چاہئے لیکن شاید ہی ہوتا ہے یہ اعراض بھی الیکشن کمیشن کی جانبداری پر دلالت کرتا ہے ۔ خاص طور پر نمو ٹی وی چینلز کے معاملہ میں الیکشن کمیشن کا رویہ بلا روک ٹوک انتہائی قابل اعتراض چل رہا ہے ۔ مختصراًیہ کہ برسراقتدار ہونے کی وجہ سے بھاجپا انتخابات میں اس کا مکمل فائدہ اٹھا رہی ہے اوریہ مخالف جماعتوں کی کمزوری ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کے جانب دارانہ رویہ پر اس طرح احتجاج نہیں کررہی ہیں جس طرح کیا جانا چاہئے۔ ع
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Ph: 07997694060
Email: [email protected]