کابل//افغانستان کے دارالحکومت کابل میں افغان نائب صدر کے قافلے پر ہونے والے حملے میں اْن کے محافظوں سمیت کم سے کم 10 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے ہیں۔ تاہم نائب صدر امراللہ صالح حملے میں محفوظ رہے ہیں۔امراللہ صالح کے ترجمان رضوان مراد کے مطابق افغانستان کے دشمنوں نے بدھ کو ایک مرتبہ پھر امراللہ صالح کو نشانہ بنایا لیکن وہ اپنے اس مقصد میں ناکام رہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ افغان نائب صدر سڑک کنارے نصب بم حملے میں محفوظ رہے ہیں تاہم ان کے محافظوں کو نقصان پہنچا ہے۔افغان حکام نے حملے میں 10 افراد کی ہلاکت اور 15 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔طالبان نے حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ حملے میں ان کا کوئی رکن ملوث نہیں ہے۔افغان نائب صدر امراللہ صالح کے قافلے پر حملے کے بعد افغانستان اور بیرونِ ملک سے مذمتی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔افغان صدر اشرف غنی، قومی مصالحتی کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ، سابق صدر حامد کرزئی اور متعدد افغان رہنماؤں نے حملے کی مذمت کی ہے۔کئی افغان رہنما امر اللہ صالح کے دفتر پہنچے اور ان سے ہمدردی کا اظہار کیا، جب کہ اقوام متحدہ، امریکہ، پاکستان، نیٹو اور کینیڈا نے ٹوئٹر پر حملے کی مذمت کی ہے۔افغانستان میں تاریخی اعتبار سے محفوظ سمجھے جانے والے صوبے پنج شیر میں 20 برسوں کے دوران پہلی مرتبہ منگل کو طالبان کی جانب سے حملہ کیا گیا۔حکام کا دعویٰ ہے کہ طالبان حملہ آوروں نے متعدد افراد کو اغوا کر لیا ہے۔صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ عسکریت پسندوں نے ضلع افشار کی ایک چیک پوسٹ پر بھی حملہ کیا اور وہاں سے افغان سیکیورٹی فورسز کے بھی کئی اہل کاروں کو اغوا کر لیا ہے۔