عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//کشمیر میں ماہِ رمضان کے آغاز کے ساتھ ہی افطاری سے جڑی اشیاء کی خرید و فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کھجور، ببری بیول، تازہ میوہ ، شربت، فروٹ چاٹ، سموسے اور دیگر روایتی اشیا ء اب صرف گھریلو ضرورت تک محدود نہیں رہیں بلکہ ایک منظم کاروباری شکل اختیار کر چکی ہیں۔ بازاروں میں بڑھتی چہل پہل اس بات کی گواہ ہے کہ افطاری اب ایک باقاعدہ سیزنل بزنس بن چکی ہے جس سے سینکڑوں چھوٹے تاجروں اور دکانداروں کا روزگار جڑا ہوا ہے۔رمضان شروع ہوتے ہی شہر اور قصبہ جاتی بازاروں میں افطاری آئٹمز کی طلب اچانک بڑھ جاتی ہے۔ دکانداروں کے مطابق کھجور کی مختلف اقسام، خاص طور پر بیرونی کھجوریں، سب سے زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ببری بیول تریش ،مشروبات، سیب، کیلا، انگور اور اسٹرابیری جیسی فروٹس کی مانگ میں بھی کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔
فروٹ منڈیوں میں علی الصبح سے ہی گہماگہمی رہتی ہے اور تھوک کاروبار میں بھی تیزی آ جاتی ہے۔بازاروں میں افطاری کے لیے مخصوص اسٹالز اور عارضی دکانیں بھی قائم کی جاتی ہیں، جہاں ریڈی میڈ افطاری پیکٹس، فروٹ چاٹ اور مشروبات فروخت کیے جاتے ہیں۔ نوجوان طبقہ اور دیہاڑی دار افراد اس سیزن کو کمائی کا ایک اہم موقع سمجھتے ہیں۔ کئی گھریلو خواتین بھی گھروں میں تیار کردہ اشیاء جیسے سموسے، پکوڑے اور شربت فروخت کر کے گھریلو آمدنی میں اضافہ کر رہی ہیں۔تاجروں کا کہنا ہے کہ رمضان کے دوران افطاری سے جڑی تجارت عام دنوں کے مقابلے میں دو سے تین گنا بڑھ جاتی ہے۔ اگرچہ طلب میں اضافے کے ساتھ قیمتوں میں بھی کسی حد تک اضافہ دیکھنے میں آتا ہے، تاہم صارفین افطاری کو ایک دینی اور سماجی ضرورت سمجھتے ہوئے خریداری جاری رکھتے ہیں۔ انتظامیہ کی جانب سے قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے دعوؤں کے باوجود، کچھ علاقوں میں نرخوں پر شکوک و شبہات بھی سامنے آتے ہیں۔ماہرین کے مطابق افطاری کا یہ منظم ہوتا کاروبار نہ صرف مقامی معیشت کو سہارا دیتا ہے بلکہ رمضان کے دوران عارضی روزگار کے مواقع بھی پیدا کرتا ہے۔ البتہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری پر نظر رکھی جائے تاکہ عام صارف پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کشمیر میں رمضان کے دنوں میں افطاری اشیاء کی تجارت ایک مضبوط اور منظم سیزنل بزنس بن چکی ہے، جو مذہبی روایت کے ساتھ ساتھ مقامی بازاروں کی معیشت میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔