افسانچے

 

نیا نام

جب بھی اسکی کوئی نئی تخلیق کسی رسالے یا کسی اخبار میں چھپ جاتی تو.اسکے چاہنے والے اسکو فون پہ مبارک باد دیتے..سینکڑوں فون کالز رسیو کرنا پڑتی تھیں..ایس، ایم ،ایس ..مسیجز کی بھر مار ہوتی۔پورے ہفتہ قارئین دل کھول کر مبارک بادی کے پیغامات بھیجتے رہتے تھے..اب اسکے مداح لاکھوں میں تھے..ہر طرف شازیہ ترنم کے چرچے تھے.فیس بک پہ جب بھی اسکی کوئی کہانی پوسٹ ہوتی..تو لوگ دیوانے ہوجاتے تھے..واہ واہ.کی صدائیں گونجتی رہتی تھیں..
پھر وہ شام کو جیون ساتھی سے یوں کہتے "دنیا کتنی عجیب ہے ..پوری زن مرید … ایک سال پہلے تک اپنے اپنے نام یوسف پرواز کے نام سے لکھتا ،تو کوئی پڑھتا کیا ،شاید نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا تھا میری تخلیق کو.اب جعلی نام مطلب شازیہ کے نام سے لکھتا ہوں تو …لوگ میری کہانی میں موجود فل اسٹاپ کو بھی غور سے پڑھتے ہیں.اور تم جب میری مدد کرتی ہو ..فون کالز رسیو کرتی ہو.قارئین کی باتیں سنتی ہو..عجیب تو لگتا ہے.مگر دنیا پہ ہنسی بھی آتی ہے "
پھر دونوں کھلکھلا کر ہنسنے لگتے..
 

غیرت

اچانک اسے اپنی بیوی پہ شک ہونے لگا کہ اسکا چکر کسی اور کے ساتھ چل رہا ہے..پورے ایک سال سے وہ اسکا پیچھا کرتا.اسکی حرکات پہ نظر رکھتا۔۔کوئی اسکو فون کرتا تو دروازے سے کان لگاتا ۔اس نے پورا ارادہ کر لیا تھا کہ جس دن وہ اپنی بیوی کو رنگے ہاتھوں پکڑے گا اسی دن اسکا قتل کر کے جیل جائے گا کیونکہ اسکی غیرت اجازت نہیں دیتی کہ اسکی بیوی اس کے ساتھ دھوکہ کرے..کبھی کبھی اسکو لگتا تھا کہ وہ خوامخواہ اُس پر شک کر رہا ہے لیکن کبھی یہ محسوس ہوتا تھا کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے۔ اسکی بیوی اس سے بہت پیار کرتی تھی..اس سے بھی زیادہ۔
اب وہ اسکی بانہوں میں تھا..لیکن بہت اداس۔اُس نے اداسی کی وجہ پوچھی۔تو یہ ایک آہ بھر کر بولا "مجھے اپنی بیوی پہ شک ہے۔شاید مجھے دھوکہ دے رہی رہے۔ یہ سن کر وہ زور زور سے ہنسنے لگی.اور بولی "واہ رے مرد ذات..خود چار سال سے میرے ساتھ چوری چوری رشتہ جوڑنے رکھا ہے..اپنی بیوی کو دھوکہ دے رہے ہو..اور شک کرتے ہو اُسی پر..اور اگر وہ رکھے بھی رشتہ کسی اور سے تو کیاہوا؟جیسے تم اسکو دھوکہ دے رہے ہو،وہ بھی دیگی..مرد خاموشی سے سب سنتا رہا….
 

جان بچ گئی

وہ بہت پڑھا لکھا تھا۔قابل بھی تھا،مگر غریب تھا۔سینکڑوں جگہ انٹرویوں دیئے مگر نوکری نہیں ملی۔آخر اس نے خودکشی کا ارادہ کر لیا۔۔۔پل سے جہلم میں چھلانگ لگائی مگر کچھ جوانوں کی نظر اس پہ پڑیں تو اس کؤ بچا لیا..اب کؤنسلنگ کے لئے اس کو ایکسپرٹ کے پاس لے گئے۔ جس نے اس کی خوب کونسلنگ کی اور ایک ادارہ کا پتہ دے دیا جو اپنا کام کاج شروع کرنے میں مدد کرتا ہے۔انھوں نے نوجوان  کو ٹریننگ دی اور بینک کے حوالے کیا..بینک نے اسکو لون دیا اور اس نے اپنا کاروبار شروع کیا۔ کاروبار چل پڑا تو حالات بگڑ گئے۔ کبھی ہڑتال اور کبھی کرفیو، کام چلانے کی اجازت نہیں دیتے تھے..اب قرض کی ادائیگی کا تقاضہ ہونے لگا ۔روز روز بینک والے فون کرتے تھے.اور گھر بھی ملنے کے لئے آنے لگے..اسکو پھر سے ڈپریشن ہوا..کچھ مہینوں بعد اسنے چپل جوتا پہننا چھوڑ دیا..بال اور داڑھی بڑھنے لگی..کپڑوں پہ میل جمع ہونے لگی اور آہستہ آہستہ بات کرنا بھی چھوڑ دی اور گھر بار بھی چھوڈ دیا…گھر والے روتے بلکتے اسکو ڈھونڈ کر پھر اسی کونسلر کے پاس لے گئے اور بولے دیکھئے یہ وہی جواں ہے جس کو آپ نے بینک والوں کے پاس بیجا۔اس نے سر تا پا جوان پہ نظر ڈالی..اور بولا یہ وہی ہے نا جس نے پل پر سے چھلانگ لگائی تھی "؟؟
"جی ہاں "نوجواں کے باپ نے جواب دیا .تو کؤنسلر بولا "__چلو شکر ہے اسکی جان تو بچ گئی…… …..
 
 

پاپا جلدی آجانا

سرحد پہ رات بھر گولی باری ہوتی رہی۔صبح ہوئی سکوت چھا گیا۔پھر سے اس پار کے اور اس پار کے سپاہی اپنے اپنے حصے کی سر زمین پہ پھر نے لگے۔ کہیں کہیں خون کے دھبے تھے..رنگ تو لال تھا،اسلئے یہ کہنا مشکل تھا کہ یہ خون یہاں کے جوان کے جسم سے نکلا تھا یا وہاں کے جوان کے جسم سے…
اس طرف شنکر ورما تھا اوراس طرف غلام رسول..دونوں دوست بن گئے تھے..لیکن آج دونوں کے چہرے اترے اترے تھے.اس وجہ سے نہیں کہ رات بھر وہ ایک دوسرے سے لڑرہے تھے۔بلکہ اس وجہ سے کہ دونوں نے چھٹی کی درخواستیں دے رکھی تھیں،لیکن دونوں کی درخواستیں نا منظور ہوئی تھیں..دور کہیں ریڈیو پہ گانا بج رہا تھا..سات سمندر پار سے ..گڈیوں کے بازار سے.اچھی سی گڈیا لانا "پاپا جلدی آجانا"۔،،
 
رابطہ؛حسینی کالونی چھترگام کشمیر…
فون؛9066250817