افسانچے

خاص بات

محلے میں ایک مشہور ومعروف تاجر کے بیٹے کی شادی کے موقع پر گانے بجانے کی محفل اپنے شباب پر تھی۔۔مکان کی تیسری منزل پر بہت سارے لوگ لطف اندوز ہو رہے تھے۔۔۔اسلم نچلی منزل سے تیسری منزل پر جارہا تھا اور تیزی سے زینے طے کر رہا تھا۔ سیڑھیوں پر ایک لڑکی، جو اوپر سے نیچے آ رہی تھی، اچانک اس سے ٹکرا گئی۔۔وہ گرنے والی ہی تھی کہ اسلم نے اسے بازووں میں جکڑ لیا۔۔
وقت جیسے تھم گیا۔۔وہ اپنی بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اس کی سیاہ گھنیری زلفیں اس کے شانوں اور سینے پر بکھری ہوئی تھیں۔ اس کے دہکتے عارض گلاب کی پنکھڑیوں ایسے لب اورصراحی دار گردن دیکھ کر اسلم پر جیسے نشہ چھا گیا۔۔اس کی گرم گرم سانسیں اسلم کی سانسوں میں گھل مل جارہی تھیں۔۔۔ اچانک لڑکی نے اپنا آپ چھڑانے کی کوشش کی
مجھے چھوڑ دو۔۔
نہیں چھوڑوں گا۔
کوئی دیکھ لے گا۔
تو کیا ہوگا؟
میری بدنامی ہوگی۔
کوئی بات نہیں ہم شادی کر لیں گے۔
مجھے چھوڑ دو۔۔۔اسلم نے اسے کس کے اپنی بانہوں میں بھینچ لیا تھا۔۔۔وہ بانہوں کی گرفت سے آزاد ہونے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔۔۔
اچانک کوئی اوپر سے نیچے آ یا۔ اسلم نے اسے آزاد کیا اور وہ ایک ہرنی کی طرح یہ جا وہ جا۔۔۔۔
ماجد خان اپنے دوست عارف کو یہ سین سنا رہا تھا۔۔کیسا لگا۔۔۔۔؟ ماجد خان نے پوچھا۔
عارف نے جواب میں کہا۔عام سا فلمی سین ہے، اس میں خاص بات کیا ہے؟
ماجد خان نے کچھ لمحے توقف کے بعد کہا،
اس میں خاص بات یہ ہے کہ وہ لڑکا میں تھا اور وہ لڑکی مجھے پھر کبھی نہیں ملی۔ میں وہ لمحات کبھی بھول نہ سکا ۔۔۔میری عمر ساٹھ سال ہے میں آج بھی تنہا اس کا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔۔۔۔
 
 

بلاعنوان

 
صداقت علی عورتوں کے بین الاقوامی سال کے موقع پر ایک سیمینار میں تقریر کر رہا تھا۔ ہر کوئی بڑے غور سے سن رہا تھا۔۔وہ کہہ رہا تھا ہم مرد عورتوں پر تشدد ڈھاتے ہیں۔ تشدد جسمانی بھی ہوسکتا ہے اور ذہنی یا روحانی بھی۔۔مردوں کو کوئی حق نہیں کہ وہ عورت پر کسی قسم کا تشدد ڈھایں۔ عورت کسی بھی طرح مرد سے کم نہیں ہے۔ میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ عورت کو پھول سے بھی یہیں مارنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے بہت نازک بنایا ہے اور پھر وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔۔۔۔۔۔۔۔تقریر کو خوب سراہا گیا اور اسے انعام سے بھی نوازا گیا۔۔۔۔
وہ گھر پہنچا۔ دروازے پر کھڑا رہ کر اس نے کال بیل کا بٹن دبایا ۔۔دروازہ کھلنے میں تھوڑا وقت لگا تو وہ بیقرار ی محسوس کرنے لگا۔۔اُس نے دوبارہ کال بیل کا بٹن دبایا ۔۔۔۔اب اسے غصہ آیا۔۔۔۔اتنی دیر ‌میں دروازہ کھلا اس کی بیوی سامنے کھڑی تھی۔۔۔۔اس نے ایک زناٹے دار تھپڑ بیوی کے دائیں گال پر رسید کیا۔۔اور اس کی گردن پکڑ کر اس سے کہا۔۔۔اتنی دیر لگادی دروازہ کھولنے میں۔ بھنگ پی کر سو رہی تھی کیا۔۔۔۔۔؟
 
 

اَلا نفسی

 
وہ دونوں اب بوڑھے ہوچکے تھے۔ ان کے بیٹے ان سے دور  تھے۔اس لیے دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے۔دونوں کئی بیماریوں میں مبتلا تھے۔۔۔پچھلی بار دونوں ڈاکٹر کے پاس گئے تھے۔ ڈاکٹر نے سمجھایا کہ شوگر اور ہای بلڈپریشر کی دوائیاں زندگی کے آخری دن تک استعمال کرنی ہیں اور ہاں ہائی بلڈ پریشر کی دوا لینا کبھی بھول نہ جائے گا۔۔جس دن مس ہوگئی اسی دن دماغ کی شریان پھٹ جانے کا خطرہ ہوسکتا ہے اور مریض کی جان بھی جاسکتی ہے۔ڈاکٹر کی یہ باتیں دونوں کے دل میں گھر کرگئیں۔۔مرد نے دوائیاں خرید کر گھر میں رکھ لیں۔ دونوں کے پاس اپنا اپنا ڈبہ تھا۔ ان می شوگر اور ہای بلڈ پریشر کی دوائیاں موجود تھیں۔۔۔
آج صبح جب مرد نے دوائیوں کا ڈبہ کھولا تو دیکھا کہ ہائی بلڈ پریشر کی دوا ختم ہوگئی ہے۔۔۔۔
اس نے بیوی سے کہا۔ بلڈ پریشر کی دوا ختم ہوگئی ہے تمہارے ڈبے میں موجود ہے مجھے ایک ٹیبلٹ‌دو ۔۔۔۔ آج تو ہڑتال ہے، بازار بند ہے کل ملے گی،
بیوی نے ڈبہ کھول کر دیکھا اس میں صرف ایک ٹیبلٹ بچی تھی۔۔۔اسے ڈاکٹر کی بات یاد آگئی اس نے جلدی سے ٹیبلٹ حلق سے اتاری اور شوہر سے کہا۔۔۔۔’’میرے پاس بھی نہیں ہے۔۔۔۔‘‘
 
 

‌ناری

 
رادھا نیند سے جاگی۔ آنکھیں ملتے ہوئے شوہر کے  پیروں کو چھو کر اپنی مانگ پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔کچن میں جاکر ناشتہ تیار کیا۔۔پتی اور چھ سالہ رام کو جگایا اور ان کے ساتھ ناشتہ کیا۔رام کو نہلایا اور سکول کے لیے تیار کیا۔۔پھر پتی کو دفتر جانے کے لیے تیار کیا۔۔دونو‌ں کو دروازے پر گلے سے لگایا۔اور الوداع کہا۔
کچن کا کام ختم کرنے کے بعد سبزیاں لانے بازار چلی گئی۔۔خریداری کرتے وقت اس کی نظر موہن پر پڑی۔ دونوں بچپن میں ایک ساتھ کھیلے تھے۔ رادھا اس سے ملی اور دونوں دیر تک بچپن کی رنگین یادوں میں کھوئے رہے
موہن نے اس سے کہا۔  شادی نہ ہو سکی مگر میں آج تک تمہیں بھول نہ سکا۔۔۔۔رادھا نے بھی پیار سے کہا۔۔۔۔میں بھی نہیں۔۔۔یہ کہہ کر وہ گھر کی طرف چل پڑی۔
دن کو وہ سبزیاں دھو رہی تھی کہ اس کا فون بج اٹھا؛
کیسی ہو رادھا۔۔۔۔۔دوسری طرف سے آواز آئی۔
ہوٹل وکٹوریہ کے ریستوران میں دو بجے تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔۔۔آجانا ورنہ تمہاری ساری چٹھیاں تمہارے شوہر کو۔۔۔۔۔۔فون کٹ گیا۔۔۔۔۔۔دو بجے وہ ریستوران میں اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔  
چار بجے وہ گھر پہنچی اور شوہر اور بیٹے کا بے صبری سے انتظار کر نے لگی۔ وہ آگیے بیٹے کو سینے سے لگایا،
شوہر کا بریف کیس ہاتھوں میں لیا۔ اس کے جوتوں کے تسمے کھولے ۔دونوں بیڑ روم میں چلے گئے۔۔۔ شوہر نے پوچھا۔۔۔دن بھر کیا کرتی رہی۔
بس آپ کی یادوں کے سہارے دن گزارا۔ آپ کے بغیر کہیں جانے کو من ہی نہیں کرتا ہے۔۔شوہر خوش ہوا اور اسے اپنے قریب لاکر اس کے ہونٹوں کا بوسہ لیا۔
رات کو شوہر بیڈ پر لیٹا ہوا آنکھیں  بند کیے کچھ سوچ رہا تھا۔اس نے میکسی پہنی اور بتی بجھا کر پتی کے بغل میں لیٹ گئی۔
پتی نے اسے زور سے بانہوں میں جکڑ لیا اور وہ آنکھیں بند کیے اپنے اس آئیڈیل مرد کے بارے میں سوچنے لگی، جو ہر پل اس کے ذہن پرسوار ہوتا ہے۔۔۔۔
 
 

لوازمات

میری جگہ لینے کے لئے کچھ لوازمات ضروری ہیں ویسے میرا مشورہ ہے کوئی اور میدان ڈھونڈ لو۔۔اس میدان میں بہت کچھ سہنا پڑتا ہے۔ گالی گلوچ بے عزتی وغیرہ۔ کبھی کسی کو اغوا تو کسی کو قتل کر نا پڑتا ہے۔کبھی رشوت دینی اور کبھی لینی پڑتی ہے۔ اکثر ضمیر کا سودا کرنا پڑتا ہے۔
واحد بخش سمرقندی نے اپنے بھانجے نوید عالم سے کہا
جو بھی ہو جیسے بھی ہو مجھے آپ جیسا بننا ہے بس مجھے آپ جیسا بننے کا شوق ہے۔۔۔۔نوید عالم نے کہا۔
ٹھیک ہے۔۔۔اچھا یہ بتاؤ۔ اگر تمہیں بھری محفل میں کوئی گالیوں سے نوازے تو تم کیا کروگے۔۔۔؟
کچھ نہیں مسکراتا رہوں گا۔
اگر کل کو کوئی تمہیں فرش پر گھسیٹے تو۔۔۔اور ماں بہن کی گالی دے تو؟
میں کہوں گا سبز گھاس یا قالین پر گھسیٹا گیا گالی سن کر ان سنی کروں گا۔
اگر کل کو کوی صحافی تمہارا کارٹون بنائے اور تمہیں گدھا، کتا، بیل، گھوڑایا چوہا، شتر مرغ،گائے دکھائے۔یا تمہیں رشوت لیتے ہوئے دکھائے، یا قتل کرتے ہوئے دکھایئے تو تم کیا کروگے۔؟
تو میں اس صحافی کو تازہ گلاب کے پھول بطور تحفہ بھیجوں گا۔۔۔
اگر  اسٹیج پر کبھی بولتے ہوئے کوئی منچلا آکر تمہیں تھپڑ مارے تو؟
میں اسے دوسرا گال پیش کروں گا۔۔۔
شاباش تم میری جگہ لے سکتے ہو۔ تم میں سیاسی لیڈر بننے کے سارے گُن موجود ہیں۔