گزشتہ 14 ستمبر سے منعقد ہونے والے پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں، پہلے ہی دن،مہاجر مزدوروں کا معاملہ زیرِبحث ہوا۔ اپوزیشن کی طرف سے پوچھا گیا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے نقل مکانی کرتے وقت سڑک حادثات میں کتنے مزدوروں کی اموات ہوئی؟ کتنی ریاستوں میں اس طرح کے کتنے واقعات پیش آئے؟ کیا متوفی مزدوروں کے اہل خانہ کو، حکومت کی طرف سے، کوئی مالی امداد یا معاوضہ دیا گیا؟ ان سوالات کے جواب میں مرکزی لیبر اور روزگار کی وزارت نے باور کرایا کہ حکومت کے پاس ایسے کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہیں جس سے لاک ڈاؤن کے دوران سڑک اور ٹرین حادثوں کا شکار بننے والے مزدوروں کی تعداد کا پتہ چلے۔
یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے جب حکومت، اپنی تمام تر ذمہ داریوں سے یہ کہہ کر اپنے آپ کو برطرف کر لے کہ اسکے پاس مطلوبہ اعداد و شمار دستیاب نہیں ہے۔ حکومت ایسے ڈیٹا کو عام کرنے سے اجتناب برتتی رہی ہے جس سے اسکی پالیسیوں پر سوالیہ نشان لگے، اور کامیابی کے دعوئوں کی ہوا نکل جانے کا خدشہ ہو۔ مودی سرکار ایسے اعداد و شمار کو جاری نہ کرنے میں ہی بھلائی سمجھتی ہے۔ تلخ حقیقتوں کے ڈیٹا کی پردہ داری'ڈمیج کنٹرول'کا ایک حربہ ہے۔ گزشتہ سال قومی شماریاتی کمیشن کے کنزیومر ایکسپینڈیچر سروے(consumer Expenditure Survey 2017-18)کے اعداد و شمار، جو کھپت، روزگار اور دیگر معاشیالات کی تصویر بتاتے ہیں،کو عام نہیں کیا گیا۔
موثر پالیسی سازی کیلئے اعداد و شمار ضروری
مشہور ماہرِ معاشیات ہیشن فو( Fu Haishan) کا کہنا ہے "اعداد و شمار موثر پالیسی سازی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور عوامی خدمات کے نظم و نسق کے لئے بنیاد کا کام کرتے ہیں" ۔مطلب یہ کہ کسی بھی معیشت میں منصوبہ بندی کے لئے فعال اعداد و شمار کی دستیابی پہلی شرط ہے۔ ڈیٹا کا تجزیہ کرنے سے ہی اس بات کا پتا چلتا ہے کہ معیشت کے پہئے کو کیسے حرکت میں لایا جائے؟ معیشت کے کس حصے کو کب، کہاں، کتنے اور کس طرح کے وسائل کی ضرورت ہے ،اسکی جانکاری ڈیٹا ہی فراہم کرتا ہے۔
'ایویڈینس بیسڈ پالیسی' (policy based evidence) پالیسی بر مبنی ثبوت دورِحاضر کے پبلک پالیسی کا بزورڈ (buzzword) ہے۔عام پالیسی سازی کا کلمہ عام ہے۔ دنیا کی کامیاب ترین معیشتوں نے عوامی پالیسی سازی کے لئے اسی طریقے کو اپنایا ہے۔ ایویڈینس بیسڈ پالیسی کا یہی مطلب یہ ہے کہ پالیسیوںکی تشکیل اور انکی عمل درآمد ثبوت اور حقائق کی بنیاد ہونی چاہئے۔ یہ جاننا دلچسپ ہوگا کہ ابھیجیت بینرجی، ایستھر ڈفلو اور مائیکل کریمر کو پچھلے سال اکنامکس کا نوبل انعام "عالمی غربت مٹانے کے لیے تجرباتی تحقیق" کرنے پر دیا گیا۔ ان ماہرینِ اقتصادیات کا کام ایویڈینس بیسڈ پالیسی کے زمرہ میں آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ثبوت کے لئے اعداد و شمار چاہئے، اور اگر اعداد و شمار ہی نہیں ہوں گے تو پالیسیوںکی کامیابی کا جائزہ کیسے لیا جائے گا۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں شہری کی زندگی کو متاثر کرنے والے ہر اعداد و شمار، خواہ معاشی قو یا غیر معاشی،لازمی طور پر جمع کئے جاتے ہیں۔ انہیں ڈیٹا کے ذریعہ پبلک پالیسیوں کی تشکیل اور انکا نفاذ کیا جاتا ہے۔
ڈیٹا ایجنسیوں میں ہم آہنگی ہونی چاہئے
بھارت میں بھی اعداد و شمار جمع کرنے کی قدیم روایت رہی ہے۔ حکومت برطانیہ کے دور میں پہلی بار'اسٹیٹسیکل ایبسٹریکٹ(Statistical Abstract 1840-1865) کی اشاعت کی ذریعہ اعداد و شمار کو عام کیا گیا۔ رائل کمیشن آن ایگریکلچر اور انڈین انڈسٹریل کمیشن اور ریاستوں کے ڈسٹرکٹ گیزٹ کے ذریعہ ڈیٹا جمع کیا گیا۔
آزادی کے بعد اعداد و شمار پر خصوصی توجہ دی گئی۔ انڈین اسٹیٹسٹیکل انسٹی ٹیوٹ (آئی ایس آئی)، مرکزی اعداد و شمار کے دفتر (سی ایس او) اور قومی اعداد و شمار کے دفتر (این ایس ایس او) جیسے ادارے قائم کئے گئے۔ ڈیٹا کو جمع کرنے اور منصوبہ بندی میں ان اداروں نے نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
2012 میں بھارتی حکومت نے نیشنل ڈیٹا شیئرنگ اینڈ ایکسیسیبلٹی پالیسی(National Data Sharing and Accessibility Policy 2012)کے تحت گورنمنٹ ڈیٹا پلیٹ فارم' نام کا ایک آن لائن پورٹل بنایا ہے۔ حکومت نے وعدہ کیا کہ اس پورٹل پرہر قسم کے سرکاری اعداد و شمار پبلک ڈومین میں دستیاب ہونگے۔ حکومت کے تمام وعدوں کی طرح یہ وعدہ بھی شرمندئہ تعبیر نہ ہو سکا۔ وجہ وہی …حکومت کے پاس میٹا ڈیٹا (metadata) موجود نہیں ہے۔
پچھلے تیس برسوں میں بھارتی معیشت میں ڈھانچے ور پیمانے کی سطح پر نمایاں تبدیلیاں نمودار ہوئی ہیں۔ ہم دنیا کی پانچویں بڑی معیشت ہیں۔ اتنی بڑی معیشت میں ڈیٹا جمع کرنا اور جمع کرنے کے دوران مختلف اداروں اور شعبوں میں ہم آہنگی اور ربط وضبط ہونا ایک بڑاچیلنج ہے۔مثلاً ملک کے تقریباً ایک تہائی حصے پر ہر سال خسک سالی کا خطرہ لاحق ہوتا ہے، جس سے تقریبا 15 کروڑ افراد متاثر ہو سکتے ہیںوہیں دوسری طرف ملک میں ہر سال تقریباً ساڑھے تین کروڑ لوگ سیلاب سے بھی متاثر ہوتے ہیں۔ پورے ملک میں 5 ہزار سے زیادہ درمیانی اور بڑے باندھ ہیں۔ اس کے باوجودملک و عوام کو سال در سال سیلاب اور خشک سالی جیسی آفات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے جان و مال کی بڑی تباہی ہوتی ہے۔ ظاہر ہے ان آفات اور مصیبتوں سے نجات پانے کے لئے موثر واٹرمینجمنٹ ( management water ) کی اشد ضرورت ہے۔ ستم ظریفی ہے کہ ملک کے پاس ان آفات سے متعلق اعداد و شمار ایک جگہ پر دستیاب ہی نہیں!
پانی سے متعلق ڈیٹا سینٹرل واٹر کمیشن اور ریاستوںکے آبپاشی محکمے جمع کرتے ہیں؛ جیو اسپیشل (geospatial) یعنی جغرافیائی۔مکانی کے اعداد و شمار ہندوستانی خلائی جانچ ایجنسی یعنی اسرو (Indian Space Research Organisation)کے ذمہ ہے؛ اور موسمیاتی ڈیٹابھارتی محکمہ موسمیات ((India Mateorological Departmentجمع کرتا ہے۔ کئی بار ان محکموں اور ایجنسیوں کے مابین ہم آہنگی نہیں ہو پاتی۔ جسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ڈیٹا کی عدم دستیابی سے موثر پالیسیاں بن ہی نہیں پاتی ہیں۔
اعداد و شمار تک کھلی رسائی
دشواریوں سے آنکھیں چرانے سے پریشانیاں خود بہ خود ختم نہیں ہو جاتیں۔ بہتر یہی ہے کہ دشواریوں سے متعلق ڈیٹا اور حقائق سامنے لائے جائیں۔ اعداد و شمار کو جمع کرنے میں حکومت کی غیر ضروری مداخلت کو ختم کیا جائے۔
گزشتہ سال نیشنل سیمپل سروے آفس یعنی این ایس ایس او کو بھی ختم کردیا گیا ہے۔ اس کو مرکزی شماریات کے دفتر یا سی ایس او میں ضم کرکے ایک نیا ادارہ 'قومی شماریاتی آفس' یا نیشنل اسٹیٹسٹیکل کمیشن (این ایس او) بنادیا گیا ہے۔ این ایس او کا سربراہ وزارتِ شماریات اور پروگراموں کی عمل درآمد کا سکریٹری ہوگا۔ نوٹ کرنے لائق بات یہ ہے کہ این ایس او کی جواب دہی عوام کے تئیں نہیں بلکہ حکومت کے تئیں ہوگی۔ ظاہر ہے کہ حکومت کے دباؤ میں 'ڈیٹا فجنگ' (Fudging data) یعنی اعداد و شمار میں گڑبڑی کا خطرہ لاحق ہے۔بوقت ِ ضرورت مطلوبہ ڈیٹا جاری نہ کرنے کے واقعات ہونے کے خدشات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ این ایس او کو اور بھی زیادہ فعال و جواب دہ بنایا جائے۔ حکومت کے ہر محکمے میں بلاک سے لیکر ریاستی سطح تک کے ہر دفاتر میں ڈیٹا بینک بنایا جائے جہاں سے بہ آسانی مطلوبہ ڈیٹا حاصل کیا جا سکے۔موجودہ معاشی نظام کی ضرورتوں کو دیکھتے ہوئے اعداد و شمار کو جمع کرنے کے ذمہ دار اہلکاروں میں شماریاتی قابلیت اور مہارت کے فروغ کے لئے کی تربیت و ٹرائینگ کا معقول انتظام ہونا چاہئے۔ عوام الناس میں بھی شماریاتی خواندگی ( literacy data ) کو بھی فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ معیشت کے تمام تر متعلقین…حکومت، عوام، تحقیقی ادارے اور شہری تنظیمیں وغیرہ کو معیاری فارمیٹ میں اعداد و شمار تک کھلی رسائی ( access open) اور دستیابی کو یقینی بنائی جائے۔ڈیٹا تک کھلی رسائی سے منصوبہ بندی اور پالیسی سازی میں عوام اور معیشت کے متعلقین کی شرکت بڑھے گی۔ معیشت اور اقتصادیاتی فیصلوں میں عوام الناس کی حصہ داری جمہوریت کی بنیاد کو مستحکم کرنے کا ضامن ہے۔
(کالم نگار بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈکر بہار یونیورسٹی، مظفر پور میں اقتصادیات کے اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
رابطہ۔ [email protected]