انسانی زندگی میں ازداجی رشتہ وہ پاکیزہ بندھن ہے جس میں جسموں سے زیادہ دِل جُڑتے ہیں اور ضرورتوں سے بڑھ کر اعتمادو ذمہ داری کااحساس کار فرما ہوتا ہے۔ نکاح اگرچہ قانونی اعتبار سے ایک معاہدہ ہے مگر اپنی روح کے اعتبار سے اخلاقی عہد، نفسیاتی وابستگی اور باہمی اعتماد پر قائم زندگی کا وعدہ ہے۔اگراس رشتے کو صرف سماجی دباؤ، معاشی مصلحت یا وقتی ضرورت کے تحت قائم کیا جائے اور دلوں کے جوڑ، فکری قربت اور جذباتی اشتراک کو ثانوی حیثیت دے دی جائے تو یہ رشتہ اندر ہی اندر سے کھوکھلا ہو کر رہ جاتا ہے اورجہاںمیاں بیوی کے درمیان گفتگو رسمی اور شفقت ناپید ہو جاتی ہے وہیں محبت محض ایک فرض یا ذمّہ داری کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
بیوی خود کو تنہائی کے ایسے حصار میں گھرا پاتی ہے جہاں اس کی بات سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ گویاعورت کو جب شریک ِ حیات کے بجائے ایک ذمّہ داری یا ایک ملکیت سمجھاجائےتو اُس کی خودی مجروح ہوجاتی ہے،جس کے باعث محض ازدواجی خلا پیدا نہیں ہوتا بلکہ یہ خلا ایک خطرناک صورت حال میں بدل جاتا ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ توجہ، قدردانی اور قربت چاہتا ہے، جب یہ گھر کے اندر میسر نہ ہوں تو کہیں نہ کہیں باہر اس کی بازگشت سنائی دینے لگتی ہے۔ کسی تیسرے شخص کا ہمدردانہ لہجہ، دو لفظوں کی توجہ یا وقتی احساسِ اہمیت اس خالی دل میں جگہ بنا لیتا ہےاور یوں وہ رشتہ جو محبت، اعتماد اور وفاداری پر قائم ہونا تھا، غفلت اور بے توجہی کے سبب غیر محسوس طور پر لغزش کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔اس لئے لازم ہے کہ نکاح یا شادی کو محض حقوق و فرائض کی فہرست ہی نہیں سمجھ لینا چاہئے اور نہ اس کی روح یعنی مکالمہ، احترام، جذباتی شراکت اور باہمی احساس کو نظر انداز کر دینا چاہئے۔ورنہ رشتہ قانوناً تو باقی رہتا ہے مگر اخلاقاً زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ ازدواجی زندگی کی بقا ءاس بات میں ہے کہ شوہر اور بیوی ایک دوسرے کے لیے صرف کفیل یا تابع نہ ہوں بلکہ رفیقِ سفر بنیں، ایک دوسرے کو سُنیں، سمجھیں اور اہمیت دیں۔ محبت کا اظہار، احترام کی فضاء اور مکالمے کی روایت وہ ستون ہیں جو نکاح کو محض ایک معاہدے سے اُٹھا کر ایک زندہ، بامقصد اور محفوظ رشتہ بنا دیتے ہیں۔ جب یہ روح زندہ رہے تو نہ خلا جنم لیتا ہے اور نہ کسی تیسرے کے لئے جگہ باقی رہتی ہے۔
یاد رکھیں کہ انسانی وجود کی اصل بھوک محض جسمانی ضرورتوں تک محدود نہیں ہوتی، روٹی، کپڑا اور مکان زندگی کو چلانے کے وسائل تو فراہم کرتے ہیں مگر زندگی کو معنی اور سکون عطاء کرنے کے لئے توجہ، اعتراف اور احترام ناگزیر ہوتے ہیں۔ بالخصوص عورت کی نفسیاتی ساخت میں یہ عناصر غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ اس کی جذباتی دنیا گفتگو، احساسِ قرب اور باہمی التفات سے نشوونما پاتی ہے۔ جب ازدواجی زندگی میں یہ بنیادی جذباتی غذائیں میسر نہ ہوں تو دل آہستہ آہستہ محرومی کے احساس میں مبتلا ہو جاتا ہے اور یہی محرومی رفتہ رفتہ نفسیاتی کمزوری کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔
ایسی صورتِ حال میں عورت اکثر کسی بغاوت یا شعوری انکار کے جذبے سے نہیں بلکہ لاشعوری طور پر اس شخص کی طرف مائل ہونے لگتی ہے جو اس کی بات توجہ سےسُنتا ہو، اس کے دُکھ کو محض سن ہی نہ لے بلکہ سمجھنے کی کوشش بھی کرے اور جو اُسے یہ احساس دلائے کہ وہ محض ایک ذمّہ داری نہیں بلکہ ایک معتبر اور قابلِ قدر انسان ہے، یہ توجہ بظاہر معمولی الفاظ، ہمدردانہ رویّے یا سادہ سی مسکراہٹ کے ذریعے ملتی ہے، مگر جذباتی محرومی کے شکار دِل کے لئے یہی معمولی اشارے غیر معمولی کشش اختیار کر لیتے ہیں۔اس مسئلے کی جڑ عورت کی فطری کمزوری نہیں بلکہ رشتے کی جذباتی بے توجہی ہے۔ اگر شوہر اپنی شریکِ حیات کو وقت دے، اس کی بات سنے، اس کے احساسات کو تسلیم کرے اور اسے احترام و اعتراف کا احساس دلائے تو نہ صرف جذباتی محرومی ختم ہو سکتی ہے بلکہ نفسیاتی مضبوطی بھی جنم لیتی ہے۔ اسی طرح عورت کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ وقتی تسکین اور دائمی اقدار میں فرق کو پہچانے اور جذبات کی لغزش کو تقدیر کا جبر سمجھنے کے بجائے خود احتسابی اور مکالمے کے ذریعے درست سمت میں لے آئے۔ بالآخر ازدواجی زندگی کی کامیابی اسی میں ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے جذباتی محافظ بنیں نہ کہ محرومی کا سبب۔