اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اعتدال سے باہر ،سحری اور افطار کا اہتمام مشکل ہونے لگا

 سرینگر //ناجائز منافع خوری اور عام صارفین سے اضافی قیمتوں کی وصولی کی شکایت کے بیچ محکمہ عوامی تقسیم کاری وامورصارفین نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ اپریل سے اب تکناجائزمنافع خوروں سے 8لاکھ کا جرمانہ وصول کیا گیا ہے اور گوشت کی قیمتوں کواز خود بڑھانے والے قصابوں کے خلاف بھی کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ وادی میں امسال رمضان المبارک کے آتے ہی مہنگائی کاطوفان امڈ آیا ہے۔ناجائز منافع خور،گران فروش اور ذخیرہ اندوز عوام کو دودو ہاتھوں سے لوٹتے رہے ہیں ۔ عوام جہاں پہلے ہی مہنگائی کے بوجھ تلے دبی ہوئی ہے اور ا س پر مزید اشیاء خوردونوش کی قیمتوں اضافے سے سحری اور افطار کا اہتمام بھی مشکل ہو گیا ہے۔محکمہ امور صورفین کی جانب سے ماہ رمضان میں عام صارفین کو قیمتوں میں رعایت دینے کی خاطر پچھلے 10 روز میں کئی بار سرکاری نرخ نامے جاری کئے گے تاہم اُس کے باوجود بھی بازاروں میں مہنگائی کا جن بے قابو ہے اور ماہ رمضان میں بھی سبزیوں سے لیکر پھل تک غریب شہریوں کے دسترخوان سے باہر ہو رہے ہیں۔وادی کے بازاروں میں اس وقت سبزیاں جہاں مہنگے داموں فروخت ہو رہی ہیں ،وہیں پھل بھی عام صارفین کے دسترس سے باہر ہیں۔ اسی طرح گوشت کی قیمتیں کسی جگہ 500روپے سے کم نہیں ہیں ۔حالیہ دنوں صوبائی کمشنر نے بھی اس کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کیلئے روزانہ کی بنیادوں پر چیکنگ شروع کرنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے حکام کو روزانہ رپورٹ پیش کرنے کو کہا تھا ،عام صارفین کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال کے مقابلے میں اس سال سبزیوں اور پھلوں کی قیمتوں میں بیس سے تیس فیصد کا اضافہ ہوا ہے ۔عوام کا ماننا ہے کہ پھلوں سبزیوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کیلئے کوئی منظم میکانزم نہ ہونے کے سبب عام صارفین مہنگائی کا شکار ہو رہے ہیں ۔عام صارفین کے مطابق محکمہ امور صارفین کے بعض چیکنگ سکارڈ ٹیمیں کالا بازاری اور ذخیرہ اندوزی کے ذریعہ قیمتو ں میں اضافہ کی کوششوں کے خلاف کاروائی توکرتے ہیں لیکن ان کی یہ کاروائی اثرانداز نہیں ہوپاتی کیونکہ محکمہ کی جانب سے ایک بازار میں کارروائی کی جاتی ہے تو دوسرے بازاروں میں صورتحال جوں کی توں برقرار رہتی ہے۔ عام لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وادی کشمیر میں مہنگائی کو کم کر کے لوگوں کو فائدہ پہنچایا جائے کیونکہ وادی میں ابھی بھی صارفین گراں فروشوں کے رحم وکرم پر ہیں ۔تنور احمد نامی راجباغ کے ایک شہری نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ روزانہ کی بنیادوں پر بازار سے سبزیاں اور پھل افطار اور سحری کیلئے خریدتے ہیں لیکن اُس کو کہیں پر بھی قیمتوں میں کوئی کمی دکھائی نہیں دیتی ۔عاصم نامی ایک شہری نے بتایا کہ سبزیاں ہوں یا پھل لیکن قیمتیں وہی وصول ہوتی ہیں جو پہلے ہوتی تھیں ۔اعتراض کرنے پر یہی کہا جاتا ہے کہ لینی ہیں تولو، ورنہ واپس لوٹ جائو ۔ ایسی ہی شکایات دیگر صارفین نے بھی کی ہیں۔محکمہ خوراک کے صوبائی ڈائریکٹر محمد قاسم وانی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وادی میں ضلع تحصیل اور بلاک سطوں پر ٹیموں کو مقرر کی گیا ہے جبکہ کئی ایک جگہوں پر انتظامیہ کے اعلیٰ افسران بھی کام پر لگائے گئے ہیں تاکہ قیمتوں کو اعتدال پر رکھا جا سکے ۔انہوں نے کہا کہ اپریل سے آج تک ناجائزہ منافع خوروں کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے ہوئے 8لاکھ کا جرمانہ وصول کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مہنگا گوشت فروخت کرنے والے کئی ایک قصابوں کے خلاف بھی کاروائی عمل میں لائی گئی  ۔انہوں نے ناجائز منافع خوروں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کس جگہ کوئی مہنگے داموں اشیاء کو فروخت کرتا ہوا پایا گیا تو اُس کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔