عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//جموں و کشمیر اسمبلی کی ہاؤس کمیٹیوں کی چیئرمین شپ کی تقسیم کے معاملے پر سیاسی کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔ اپوزیشن جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اس پیش رفت پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امکان ظاہر کیا ہے کہ وہ اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں سے بائیکاٹ کا فیصلہ کرسکتی ہے، جبکہ پارٹی نے اس حوالے سے جلد ایک اہم اجلاس بلانے کا اعلان کیا ہے۔ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے لیڈر آف اپوزیشن سنیل کمار شرمانے کہا کہ ہاؤس کمیٹیوں کی چیئرمین شپ کی تقسیم مکمل طور پر غیر منصفانہ اور یکطرفہ ہے، جس میں حکمران اتحاد نیشنل کانفرنس اور اس کے اتحادیوں کو غیر معمولی برتری دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنے کیلئے بی جے پی کی قیادت جلد اجلاس منعقد کرے گی، جس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا پارٹی اسمبلی کی کمیٹیوں کی کارروائیوں کا حصہ بنی رہے یا مکمل طور پر ان سے الگ ہوجائے۔
سنیِل کمار شرما نے الزام عائد کیا کہ موجودہ طرزِ عمل کے ذریعے اسمبلی کو ایک سیاسی جماعت کے زیر اثر ادارہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جہاں اپوزیشن کو مؤثر کردار ادا کرنے سے روکا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ طرزِ عمل جمہوری اقدار اور پارلیمانی روایات کے منافی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن کی آواز کو کمزور کرنا اور اسے فیصلوں کے عمل سے دور رکھنا نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ یہ عوامی مینڈیٹ کی بھی توہین کے مترادف ہے۔اپوزیشن لیڈر نے اسپیکر اسمبلی پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ غیر جانبداری کے بجائے حکمران اتحاد کے مؤقف کو ترجیح دے رہے ہیں، جس سے ایوان کی ساکھ متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی چیئرمین شپ میں تناسبی نمائندگی کے اصول کو نظرانداز کیا گیا ہے، کیونکہ نیشنل کانفرنس کے 54 اراکین کے مقابلے میں انہیں آٹھ چیئرمین شپ دی گئی ہیں، جبکہ بی جے پی کے 29 اراکین کے باوجود صرف ایک چیئرمین شپ دی گئی ہے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر جمہوری اصولوں اور عددی طاقت کو بنیاد بنایا جائے تو یہ تقسیم کس طرح منصفانہ قرار دی جا سکتی ہے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اس تنازع نے اسمبلی کے اندر سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھا دیا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس مسئلے پر مزید کشیدگی پیدا ہونے کا امکان ہے۔