اسلام نے نظام زندگی کے تمام شعبہ جات کی جس انداز میں رہنمائی فرمائی ہے، اس کی نظیر دنیا کے کسی بھی مذہب یا ملکی قانون میں ملنی مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔انسانوں کے بنائے ہوئے قوانین خواہ وہ کتنے ہی اعلی دماغ کے حاملین کیوں نہ ہوں، خالق کائنات کے قوانین کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔
بشری قوانین خواہشات کے تابع کبھی انسان کی غیر مستقل مزاجی کی وجہ سے خامیوں سے متاثر کبھی حکمرانوں کے مفادات کی ذاتی خودغرضی سے آلودہ اور کبھی کمزور ارادوں اور عزائم کی وجہ سے ہوائوں کے رخ کے مطابق چلنے والے ہوا کرتے ہیں۔جب کہ مجموعہ کائنات کے خاطر قوانین کا ذاتی اغراض ، شخصی مفادات اور خواہشات سے بالاتر ہونا ضروری ہے۔رب العالمین کا قانون پوری انسانیت کی مجموعی ضروریات کو پیش نظر رکھ کر خود احکم الحاکمین نے وضع کیے ہیں جن میں کسی بھی قسم کی نقص کمی اور کوتاہی کا شائبہ تک نہیں۔
اسلامی قانون وراثت کومعاشرے کے ہرنوع کے افراد خواتین و حضرات ، چھوٹے بڑے ، محتاج و ضرورت مند قریب اور دور کے مراتب کو پیش نظر رکھ کر ترتیب دیا گیا ہے۔انسانی دماغ جب بھی اسلام کے نظام وراثت کو بنظر غائر انصاف کی عینک لگا کر دیکھے گا تووہ یقینااس مذہب کی حقانیت و صداقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔
دنیا میں اسلام کا آفتاب طلوع ہونے سے قبل خواتین کو وراثت سے محروم کردیا جاتاتھا۔ اگر کسی کے گھر میں صرف بیٹیاں ہوتیں، والد کے انتقال کے بعد بیٹیوں اور اہلیہ کی ساری وراثت چاچا ہڑپ کرلیتا جس کے نتیجے میں وہ خواتین بے سہارا وبے یارو مددگار ہو کر رہ جاتیں۔اسلام نے نہ صرف اہلیہ کو حصہ دیا بلکہ بیٹیوں کو بھی دو تہائی حصہ عنایت کیا جب کی مابقیہ مرحوم کے دیگر رشتہ داروں کو دیا ۔جس عورت کو اسلام سے قبل اپنے شوہر کے ساتھ زندہ جلا دیا جاتا تھا اور جسے یورپ میں ایک طویل عرصہ تک انسان ہی تسلیم نہیں کیا گیا تھا، جسے وراثت سے مکمل محروم کردیا جاتا تھا، اسلام نے نہ صرف اس کو حیات نو عطاکی بلکہ اس کو مردوں کے برابر مساوی حقوق دیے اور اس کے حقوق کی ادائیگی کی تاکید اس قدر اہتمام کے ساتھ کی گئی جتنی تاکیدمردوں کے حقوق کے سلسلے میں نہیں کی گئی۔
باب وراثت میں اس کو بیٹی کی حیثیت سے نصف جائیداد کا حق دارٹھہرایا گیا(اگر تنہا ہو) بیوی کی حیثیت سے جائیداد کے چوتھائی حصے کا مالک قرار دیا گیا(اگر اولاد نہ ہو)۔ ماں کی حیثیت سے جائیداد کا چھٹا حصہ اس کے نام کر دیاگیا۔پھر بھی اگر کوئی ناداں اسلام پر وارثوں کے حقوق تلفی کا الزام تراشتا ہے تویقیناوہ سورج پر تھوکنے کے مانند ہی ہوگا۔
عصر حاضر میں کچھ نا سمجھ افراد کی جانب سے اسلام پر پوتے کو وراثت نہ دینے کے حوالے سے انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔یہ غلط فہمی دراصل اسلامی قانون وراثت سے ناواقفیت کی وجہ سے ہے۔ درحقیقت اسلام نے پوتے کو مکمل بیٹے کے مانند قرار دے کر بیٹے کے برابر وراثت کا حقدار ٹھہرایا ہے ۔پوتے کو وراثت ملنے کی مکمل 27 صورتیں ہیں جن میں سے 26 صورتوں میں پوتے کو وراثتا اور ایک صورت میں وصیتاً نفقتا اور ہبتا جائیداد ملتی ہے۔ اسلام نے پوتے کو کسی بھی حالت میں وراثت سے محروم نہیں کیا ہے۔یہاں پر یہ چھوٹا سا مضمون ان تمام صورتوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
آگے بڑھنے سے قبل کچھ اصولی باتیں بغور پڑھ لیجئے
وراثت میں کس چیز کو معیار بنایا جائے
1: نظر یہ ہے کہ ضرورت واحتیاج کو پیش نظر رکھا جائے ۔اس نظریے کو مان لیا جائے تو پھر غریب ہمسائے کو پہلے وراثت دی جانی چاہیے تھی نا کہ اہل و عیال اور اولاد کو۔
2 :دوسرا پہلو یہ نکلتا ہے کہ وراثت ضرورت اور قرابت دونوں چیزوں کو پیش نظر رکھ کر دی جائے۔ اس نقطہ نظر کے مطابق دور کے رشتہ دار اگر وہ زیادہ ضرورت مند ہیں مثلا خالہ زاد پھوپھی زاد تایازاد کو وراثت دی جانی چاہیے نہ کی اپنے سگے بیٹوں کو۔جس کو شاید دنیا میں کوئی تسلیم نہ کرے۔
3:تیسرا نکتہ نظر یہ ہے کہ باب میراث میں صرف قرابت کو معیار قراردیا جائے۔ اسلام نے اسی اصول کو پیش نظر رکھا۔ قریب کے ہوتے ہوئے دور والا رشتہ دار محروم ہو جائے گا یعنی الاقرب فالاقرب۔
اب آئیے اصل موضوع کی طرف اور دیکھیں کہ ایک یتیم پوتے کو دادا کی جانب سے کس طرح وراثت مل رہی ہے
1۔مورث دنیا سے رخصت ہوتا ہے۔ میت کے بھائی بھی زندہ ہیں چاچا بھی ہے بہن بھی اور ایک یتیم پوتا ہے اسلام ساری پراپرٹی یتیم پو تے کو دیتا ہے۔
2 ۔میت اپنے پیچھے باپ کو چھوڑتا ہے، ماں کو چھوڑتا ہے اور ایک پوتا بھی ۔اسلام چھٹا حصہ والدین میں سے ہر ایک کو الگ الگ دینے کے بعد باقی ساری وراثت یتیم پوتے کو دیتا ہے۔
3۔ میت اپنے پیچھے ایک بیٹی اور ایک پوتے کو چھوڑتا ہے ۔ اسلام نصف وراثت بیٹی کو اور ما بقیہ نصف وراثت یتیم پوتے کو دیتا ہے۔
درج بالا صورتوں کو بغور دیکھ لیجئے ۔کیا اسلام نے یتیم پوتے کو وراثت سے محروم کیا ہے ۔کیا اسلام نے کسی قرابتدار کا والعیاذ باللہ کو ئی حق مارا ہے جیسا کہ دشمنان اسلام ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں۔
اب آئیے ایک اور صورت کی جانب جس کو بہت زیادہ اچھالا جا رہا ہے۔ دادا دنیا سے رخصت ہوتا ہے، دادا کے چار بیٹے تھے جن میں سے ایک کا دادا کی حیات ہی میں انتقال ہو جاتا ہے اور اس متوفی بیٹے کا ایک بیٹا ہوتا ہے۔اس لیے اس صورت میں یہ بیٹا اپنے متوفی باپ کی وراثت کا ذو الفروض کے حصص نکالنے کے بعد تنہا حقدار ہوگا جو کچھ بھی پراپرٹی اس کے باپ نے ذاتی ملکیت میں سے چھوڑی ہوگی اس کا تنہا مالک اس کا بیٹاہو گا۔قانون وراثت میں چونکہ وراثت موت کے بعد تقسیم ہوتی ہے۔اور دادا اس بیٹے کے انتقال کے وقت زندہ ہی تھا اس لیے اس کی وراثت ا بھی تقسیم نہیں ہو سکتی، اس لیے اس یتیم پوتے کے باپ کو بھی ابھی وراثت نہیں ملی ہوگی۔ امکانی طور پر یتیم پوتا فقر میں مبتلا ہو سکتا ہے ۔اب شرعی اعتبار سے اس یتیم پوتے کی ساری ذمہ داری دادا کے کندھوں پر عائد ہوتی ہے۔
دادا پر کس کس اعتبار سے یتیم پوتے کی ذمہ داری اٹھانا واجب ہے۔
1۔ نفقہ :زندگی میں دادا پر سب سے زیادہ اقرب رشتہ دار ہونے کے اعتبار سے شرعی لحاظ سے اس یتیم پوتے کی مکمل کفالت( کھانا پینا رہنا سہنا لباس تعلیم و تربیت وغیرہ) واجب ہے۔ اس کو اسلامی قانون میں نفقہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ فقہاء (اسلامی قانون دانوں )نے اس پر کتابوں میں کتاب النفقات کے عنوان سے مستقل ابواب قائم کیے ہیں۔
2۔وصیت : اسلام میں وارث کے لئے وصیت کا تصور نہیں ۔یہاں قریبی رشتہ دار (بیٹوں) کے ہوتے ہوئے پوتے کو، جو کہ دور کا رشتہ دار ہے، وراثت نہیں مل پائے گی ۔اس لیے دادا پر قرآن کریم کی آیت کے تحت کتب علیکم اذا حضر احدکم الموت ان ترک خیرا الوصیہ (اگر اس آیت کو منسوخ نہ مانا جائے) کے تحت اگر پوتا واقعی مستحق ہے، شرافت و انسانیت اور مروت کے تقاضے کے تحت وصیت لازم ہے
3۔ہبہ: انسان اپنی زندگی میں اپنے مال کا مکمل مالک ہے۔ وہ جس طرح چاہے حق حلال میں تصرف کر سکتا ہے۔ اس لیے دادا اس بات کا مکمل اختیار رکھتا ہے کہ وہ اپنی جائیداد کا معتدبہ حصہ حسب ضرورت پوتے کے نام کر ے۔گویا دادا بذریعہ نفقہ، وصیت، اور ہبہ اپنے بیٹوں سے بھی زیادہ یتیم پوتے کو دے سکتا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسلام نے ہر حقدار کو حسب قرابت بنا کسی کی حق تلفی کے مکمل حصّہ دیا ہے اور یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ دنیا کے کسی بھی مذہبی اور ملکی قانون میں اس قدر جامع نظام وراثت موجود نہیں۔انسانوں کے خود ساختہ قوانین رب العالمین کے قوانین کا مقابلہ ہرگز ہرگز نہیں کر سکتے۔رب العالمین ہمیں ہر حقدار بالخصوص خواتین کو ان کا حق وراثت دینے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
رابطہ۔ خادم التدریس اشرف العلوم حیدر پورہ سرینگر کشمیر