احمد ایاز
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلوانفرادی، خاندانی اور سماجی کے لئے واضح اور متوازن رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ انہی رہنما اصولوں میں سے ایک اہم اصول پردہ ہے، جس کا تعلق براہِ راست حیا، وقار اور اخلاقی نظم سے ہے۔ بدقسمتی سے پردے کے تصور کو یا تو محض لباس تک محدود کر دیا جاتا ہے یا پھر اسے خواتین کی آزادی کے خلاف ایک رکاوٹ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ قرآنِ مجید میں پردے کا تصور نہایت مقصدی، متوازن اور اخلاقی بنیادوں پر قائم ہے۔
پردہ ۔ مفہوم اور پس منظر: لفظ پردہ فارسی زبان سے ماخوذ ہے جس کے معنی اوٹ، آڑ یا حجاب کے ہیں۔ اسلامی اصطلاح میں پردہ صرف جسم کو ڈھانپنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک جامع اخلاقی تصور ہے، جس میں لباس کے ساتھ ساتھ نگاہ، طرزِ گفتگو، حرکات و سکنات اور مجموعی سماجی رویّہ بھی شامل ہے۔ اسلام پردے کو مرد و عورت دونوں کے لئے لازم قرار دیتا ہے، اگرچہ اس کی عملی صورت اور حدود دونوں کے لیے مختلف ہیں۔
قرآن میں پردے کی بنیاد۔ مردوں سے آغاز:اسلامی تعلیمات کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ قرآن نے معاشرتی حیا کی ابتدا مردوں سے کی ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔ بے شک اللہ ان کے اعمال سے باخبر ہے۔‘‘(سورۃ النور 24:30)۔یہ آیت واضح کرتی ہے کہ معاشرتی پاکیزگی اور اخلاقی نظم کی ذمہ داری صرف عورت پر نہیں بلکہ مرد پر بھی عائد ہوتی ہے۔ نگاہ کی حفاظت پردے کا پہلا اور بنیادی درجہ ہے۔
خواتین کے لیے پردے کی قرآنی ہدایات :
اسی تسلسل میں قرآن مومن عورتوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے:’’اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو خود بخود ظاہر ہو، اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں۔‘‘(سورۃ النور۔ 24:31)۔اس آیت میں خواتین کے پردے کے بنیادی اصول بیان کیے گئے ہیں۔نگاہ نیچی رکھنا، عفت و پاکدامنی کی حفاظت، غیر ضروری زینت کی نمائش سے اجتناب، اور سینے کو اوڑھنی (خِمار) سے ڈھانپنا۔ یہ ہدایات اس بات کی دلیل ہیں کہ اسلام خواتین کو وقار، خودداری اور احترام کے ساتھ سماج میں دیکھنا چاہتا ہے۔
عوامی زندگی میں بیرونی لباس (جلباب)
پردے کے حوالے سے سورۃ الاحزاب کی آیت نہایت اہم ہے:’’اے نبی! اپنی بیویوں، اپنی بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکا لیا کریں۔ یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچان لی جائیں اور انہیں ایذا نہ دی جائے۔‘‘(سورۃ الاحزاب ۔ 33:59)۔یہ آیت واضح طور پر بتاتی ہے کہ پردے کا مقصد خواتین کی عزت و شناخت، سماجی تحفظ اور ہراسانی سے بچاؤ ہے۔ یہاں پردے کو کسی جبر یا پابندی کے بجائے تحفظ اور وقار کے ذریعے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
پردہ اور حجاب کا فرق: اکثر پردے کو صرف حجاب یا نقاب تک محدود کر دیا جاتا ہے، جبکہ قرآن میں پردہ ایک وسیع اخلاقی اور سماجی تصور ہے۔ لباس پردے کا ایک حصہ ضرور ہے، مگر مکمل پردہ اسی وقت ممکن ہے جب اس کے ساتھ اخلاقی رویّہ، شائستہ گفتگو اور باوقار طرزِ زندگی بھی شامل ہو۔
پردہ اور خواتین کی سماجی شرکت: یہ کہنا کہ پردہ خواتین کو سماج سے الگ یا محدود کر دیتا ہے، قرآن اور سیرتِ نبویؐ کے خلاف ہے۔ عہدِ نبوی ؐ میں خواتین تجارت کرتی تھیں، مسجد میں نماز ادا کرتی تھیں، علم حاصل کرتی اور سکھاتی تھیں اور سماجی و فلاحی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتی تھیں۔ پردہ سماجی شرکت کی نفی نہیں کرتا بلکہ اسے باوقار، محفوظ اور مہذب بناتا ہے۔
ازواجِ مطہراتؓ اور پردے کا خصوصی حکم: سورۃ الاحزاب میں ازواجِ مطہراتؓ کے لیے خصوصی ہدایات بھی دی گئیں:’’اور جب تم نبی کی بیویوں سے کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔ یہ تمہارے دلوں اور ان کے دلوں کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔‘‘(سورۃ الاحزاب ۔ 33:53)۔یہ حکم رسول اللہؐ کے گھرانے کے خصوصی مقام اور احترام کے پیشِ نظر تھا، تاہم اس سے پردے کے اخلاقی اصول پوری امت کے لیے واضح ہو جاتے ہیں۔
ثقافتی پردہ اور اسلامی پردہ: کئی معاشروں میں پردے کے نام پر خواتین کو تعلیم سے محروم رکھا گیا، انہیں زبردستی گھروں تک محدود کیا گیا اور ان کی رائے و شرکت کو دبایا گیا۔ یہ تمام رویّے اسلامی نہیں بلکہ ثقافتی ہیں۔ قرآن کہیں بھی خواتین کو علم، کام یا سماجی کردار سے نہیں روکتا بلکہ پردے کو شعور، اختیار اور ایمان کے ساتھ جوڑتا ہے۔
باطنی حیا کی اہمیت: اسلام میں صرف ظاہری پردہ کافی نہیں۔ قرآن بار بار تقویٰ، نیت اور کردار پر زور دیتا ہے۔ اگر لباس باحیا ہو مگر کردار میں دیانت، سچائی اور اخلاق نہ ہوں تو پردے کی اصل روح فوت ہو جاتی ہے۔
پردہ اور جدید دور: جدید دور میں خواتین تعلیم، ملازمت اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ اسلام اس کی مخالفت نہیں کرتا، بشرطیکہ لباس باوقار ہو، ماحول اخلاقی حدود میں ہو، اور عزتِ نفس و دینی اقدار محفوظ رہیں۔ درست اسلامی تناظر میں اپنایا گیا پردہ آج بھی خواتین کو شناخت، تحفظ اور وقار فراہم کر سکتا ہے۔
نتیجہ: اسلام میں خواتین کے لیے پردہ کوئی سماجی زنجیر یا جبر کا آلہ نہیں بلکہ قرآن پر مبنی حیا، وقار اور تحفظ کا ایک جامع نظام ہے۔ اس کا مقصد عورت کو کم تر ثابت کرنا نہیں بلکہ اسے عزت، احترام اور اخلاقی آزادی فراہم کرنا ہے۔اسلام عورت کی قدر کو اس کے کردار، علم اور اخلاق سے ناپتا ہے، نہ کہ صرف اس کی ظاہری شکل سے۔ پردہ اسی اسلامی تصورِ حیات کا ایک اہم جزو ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کے لیے توازن اور خیر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔