اسلام آباد: سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے غربت اور بھوک سے نبرد آزما افغانستان کے لیے ایک ارب ریال کی امدادی رقم کا اعلان کیا ہے۔پاکستان کی راجدھانی اسلام آباد میں ہونے والے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے کونسل اجلاس میں سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے افغانستان کے لیے مالی امداد کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں معاشی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔ جنگ زدہ ملک میں خواتین اور بچے ہماری مدد کے منتظر ہیں۔وزیر خارجہ فیصل بن فرحان نے مزید کہا کہ افغانستان میں بھوک و افلاس سے خواتین اور بچوں کے متاثر ہونے کا پوری طرح ادراک ہے۔ افغان مسئلے کو انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر دیکھنا چاہتے ہیں۔فیصل بن فرحان نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ افغانستان میں امن چاہتے ہیں اور یہ کہ جنگ زدہ ملک کی کشیدہ صورتحال کا اثر خطے اور دنیا پر پڑ سکتا ہے۔سعودی وزیر خارجہ نے کم سے کم وقت میں اجلاس بلانے اور بہترین انتظامات کرنے پر پاکستان کو خراج تحسین بھی پیش کیا۔واضح رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی میزبانی میں اسلام آباد میں اسلامی تعاون تنظیم کے ممالک کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس جاری ہے جس میں دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے، افغانستان کے انسانی بحران، خوراک کی فراہمی اور اقتصادی بحالی کے لیے چھ نکاتی حکمت عملی کا اشتراک کیا گیا ہے۔پاکستان کی دعوت پر اجلاس میں 22 ممالک کے وزرائے خارجہ، 10 نائب وزرائے خارجہ سمیت 70 وفود شریک ہیں۔وزیر اعظم عمران خان نے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ ستم ظریفی ہے کہ 41 سال قبل جب پاکستان میں او آئی سی کا اجلاس ہوا اس وقت بھی اس کا موضوع افغانستان ہی تھا، افغانستان گزشتہ 40 سال سے مشکلات کا سامنا کرتا رہا ہے اور اگر دنیا نے اس وقت کوئی اقدام نہیں اٹھایا تو افغانستان میں سب سے بڑا انسانی بحران دیکھنا پڑے گا‘۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹروں، اساتذہ اور سرکاری ملازمین کی تنخواہیں ادا نہ کی جائیں تو کوئی حکومت قائم نہیں رہ سکتی، اگر دنیا کو داعش کے خطرے سے بچانا ہے تو افغانستان کو مستحکم کرنا ہوگا۔امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے خان کا کہنا تھا کہ امریکا کو چاہیے کہ 4 کروڑ افغان عوام اور طالبان حکومت کو علیحدہ علیحدہ دیکھے، انہوں نے کہا امریکا 20 سال تک طالبان کے ساتھ جنگ میں رہا لیکن یہ افغان عوام کا سوال ہے۔