سرینگر //جموں کشمیر ہائی کورٹ نے جموں کشمیر میں اسلامک بینک متعارف کرانے پر مرکزی وزارت خزانہ، ریزرو بینک آف انڈیا اور جموں کشمیر سرکار کو مفاد عامہ عرضی پر جواب دینے کیلئے مزید 3ہفتے دیئے ہیں۔ چیف جسٹس پنکج متھل اور جسٹس سندھو شرما پر پشتمل ڈویژن بینچ نے مفاد عامہ عرضی کیخلاف اپنا جواب پیش کرنے کیلئے تین ہفتوں کی مزید مہلت دی ہے۔مذکورہ مفاد عامہ عرضی جموں کشمیر پیپلز فورم نامی ایک غیر سرکاری رضا کار تنظیم نے2018میں دائر کی ہے جس میں مرکزی وزارت خزانہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اسلامک بینکنگ کو متعارف کرائے جیسا کہ دیپک موہنتے کمیٹی اور آر بی آئی کے انٹر ڈیپاٹمنٹل گروپ نے سفارش کی ہے۔این جی او نے آر بی آئی سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر جموں کشمیر بینک سمیت دیگر بینکوں میں شریعہ کے مطابق اسلامک بینک کا آغاز کرے۔فورم نے کہا ہے کہ جموں کشمیر بینک ایسے تمام کھاتوں کی تفاصیل ظاہر کرے جو کھاتے دیوالیہ ہوچکے ہیں کیونکہ یہ لوگوں کا پیسہ ہے۔2018کو ہائی کورٹ نے متعلقہ اداروں نیز بینکوں کو اس مفاد عامہ عرضی پر جواب دینے کیلئے کہا تھا۔تب انہیں چار ہفتے دیئے گئے تھے۔