یواین آئی
تل ابیب// اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری تنازعہ کے درمیان سنیچر کو رات دیر گئے وسطی غزہ میں ایک پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی بمباری میں 30 سے زائد فلسطینی مارے گئے۔یہ اطلاع غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان اشرف القدرہ نے ایک بیان میں دی۔حماس نے ٹیلی گرام پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ اسرائیل نے براہ راست شہریوں کے گھروں پر بمباری کی۔ مرنے والوں میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ترک انادولو ایجنسی کیلئے کام کرنے والے 37 سالہ صحافی محمد علاؤل نے کہا ’’اسرائیلی فضائی حملے نے المغازی کیمپ میں میرے پڑوسیوں کے گھر کو نشانہ بنایا، جس سے میرا ساتھ والا گھر جزوی طور پر منہدم ہو گیا‘‘۔ علاؤل نے انکشاف کیا کہ اس کا 13 سالہ بیٹا احمد اور ان کا چار سالہ پوتا قیس ان کے بھائی ساتھ مارے گئے اور ان کی بیوی، ماں اور دو دیگر بچے زخمی ہوئے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا بمباری کے وقت اس علاقے میں اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) تعینات تھیں۔اسرائیلی چیف آف اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل حرزی حلوی نے ہفتے کے روز غزہ شہر کا محاصرہ مکمل کرنے کے بعد غزہ کے اندر موجود فوجیوں نیدورہ کیا۔وزیر دفاع یوو گیلانٹ نے کہا کہ اسرائیلی فوج غزہ میں لڑ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جنوب اور شمال (غزہ شہر کے) سے کام کر رہے تھے اور آبادی والے علاقوں میں داخل ہو گئے تھے۔