حال ہی میںمتحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان عمل میں آنے والے امن معاہدے کو جہاں مشرق وسطیٰ سمیت پوری عالمی صورت حال کے تناظر میں غیرمعمولی اہمیت کا حامل قرار دیا جارہا ہے وہیں اس معاہدہ کے عمل کے پس پشت مسلم دنیا کی تقسیم در تقسیم کا بھی عندیہ مل رہا ہے۔ ایک طرف فلسطین کے صدر محمود عباس نے اسرائیل امارات معاہدہ کو مسترد کردیا،دوسری طرف اس معاہدہ کے خلاف ترکی ،ایران ،پاکستان اور دیگر کئی مسلم ممالک کا شدید ردعمل بھی سامنے آیا ہے جبکہ دنیا بھر کی نظریں اس معاہدہ پر چپ سادھ بیٹھی ہوئی سعودی عرب کی شاہی حکومت پر ٹکی ہوئی ہیں کہ اْس کی جانب سے کس طرح کا ردعمل سامنے آتا ہے تاہم اندازہ یہی لگایا جاسکتا ہے کہ فی الحال سعودی عرب اس معاہدے پر محتاط رویہ اپنا نے پر مجبور ہےکیونکہ ترکی،ایران ،ملائشیااور پاکستان کے ساتھ بڑھتی ہوئی چپکلش اوربگڑتے ہوئے حالات کے ساتھ ساتھ یمن،قطر ،کنیڈا اور لبنان کے ساتھ اُس کے جاری تنازعات سے وہ مسلم دنیا میں تنہا ہونے لگا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کلیدی رول کے نتیجہ میں اسرائیل اور عرب امارات کے درمیان تعلقات کی بحالی میں جو پیش رفت ہوئی ہے ،اُس کی تصویر اب صاف طورپر منظرعام پر آنے لگی ہے۔متحدہ عرب مارات اور اسرائیل کی جانب سے جو مشترکہ اعلامیہ سامنے آیا ہے، اْس کے مطابق دونوں ملک اگلے ہفتے سفارت خانوں کے قیام،سرمایہ کاری، سیاحت،براہ راست پروازوں ،سیکورٹی، ٹیکنالوجی، توانائی، ثقافت اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے متعلق معاہدے کرنے والے ہیں۔ اس پیش رفت میںامریکی صدرٹرمپ نے جو نمایاںکردار ادا کیا، اْس کی صراحت مشترکہ اعلامیہ میں یوں کی گئی ہے کہ صدر ڈونالڈٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور ابوظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زید کے مابین جو گفت و شنید ہوئی ہے،اْس میں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان مکمل تعلقات کے قیام پر اتفاق کیا گیا۔ اعلامیے میں مشرق وسطیٰ کے لئے اسٹرٹیجک ایجنڈا لانے کا بھی ذکر ہواہے اور صدر ٹرمپ نے یہ نویدبھی سنائی ہے کہ خطے میں اسرائیل اوردیگر مسلم عرب ملکوں کے مابین مزید سفارتی کامیابیاں متوقع ہیں جبکہ اماراتی سفارت خانے نے فلسطینیوں کو یہ تسلی بھی دی ہے کہ یواے ای ہمیشہ اْن کے لئے مضبوط حمایتی کا کردار نبھاتا رہے گا۔یہاں اس بات کا تذکرہ کرنا ضروری ہے کہ ا ب متحدہ عرب امارات، اسرائیل کیساتھ تعلقات بحال کرنے والی خلیج کی پہلی ریاست بن گئی ہے، جس کے اسرائیل کے ساتھ کئی برسوں سے خفیہ روابط چلے آرہے تھے اور اس معاملے میں اومان اور بحرین بھی سفارتی طور پراسرائیل کیساتھ جُڑے رہے ہیں۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے 2018ء میں اومان کا دورہ کیا تھا جبکہ بحرین نے گزشتہ برس اسرائیلی صحافیوں کی میزبانی بھی کی تھی۔شائداسی لئے اومان اور بحرین نے اسرائیل اور امارات کے درمیان تعلقات کی بحالی کے اعلان کا خیر مقدم کرنے میں کسی عجلت سے کام نہیں لیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے توسط سے جو خبریں سامنے آرہی ہیں ،اْن کے مطابق ترکی، ایران اور پاکستان نے متحدہ عرب امارات (یو اے ای)کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات معمول پر لانے کے فیصلے پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس پر فلسطین کاز کے ساتھ غداری کرنے کا الزام لگایا ہے۔ حسن روحانی کاکہناہے کہ فلسطینی عوام کے جذبات مجروح کردیئے گئے اورطیب اْردوان کاکہناہے کہ وہ امارات کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات معطل کرسکتے ہیں۔ ترک وزارت خارجہ کی جانب سے واضح کیا گیا کہ امارات کو فلسطینیوں کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کرنے یا فلسطین کے لیے اہم معاملات پر مراعات دینے کا کوئی اختیار نہیںجبکہ تاریخ اور خطے کے لوگوں کا ضمیر اِسے کبھی نہیں بھولے گا اور متحدہ عرب امارات کے اس منافقانہ رویے کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔ اماراتی معاون وزیر کاکہناہے کہ ہم نے خود مختار ریاست کا فیصلہ اپنے مفادات کوسامنے رکھ کر لیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کیساتھ تعلقات کادفاع کرتے ہوئے کہاہے کہ اس اقدام کا مقصد مشرق وسطیٰ کی ڈپلومیسی میں بڑی تبدیلی اور اماراتی مفادات کاتحفظ ہے۔امارات کے معاون وزیر عمر سیف گھوباش نے معاہدے پر فلسطینیوں کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہےکہ معاہدہ عرب دنیا کی طرف سے کسی اور قابل عمل تجویز کی عدم موجودگی میں پیشرفت کرچکا ہے کیونکہ ہم مشکل حالات میں داخل ہونے اور چیزوں کو بدلنے کے قابل ہیں ، ہم اس معاہدے سے سامنے آنے والی مثبت پیشرفتوں کو دیکھنے کے منتظر ہیںاورہم نے اپنے مفادات اور اپنے حساب کتاب کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک خودمختار ریاست کی حیثیت سے یہ فیصلہ لیا ہے۔ابوظہبی کے رہنما شیخ زید النہیان کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا ہے کہ فلسطینی علاقوں کا مزید انضمام روکنے کے لیے اسرائیل سے معاہدہ طے پاگیا ہے لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نے کسی لحاظ اورمروت کے بغیر فوری طور پر اس کی تردید کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ اسرائیل زمین کے حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوگا ،جس سے اس گمان کو تقویت ملتی ہے کہ جس طرح مصر اور اردن سے اسرائیل کے امن معاہدے فلسطینیوں کے حقوق کے حوالے سے کسی مثبت پیش رفت کا ذریعہ نہیں بن سکے ،اسی طرح امارات اور اسرائیل کا سمجھوتہ بھی فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم اور ناانصافی کے ازالے میں نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوگا۔ بظاہر یہی وجہ ہے کہ فلسطین کے صدر محمود عباس نے اسرائیل امارات معاہدہ مسترد کرتے ہوئے اسے فلسطینی عوام کے خلاف’’ جارحیت‘‘ اور ان کے مقصد سے ’’غداری‘‘ قرار دیا ہے اور عرب لیگ کا اجلاس بلاکر اس میں اس معاہدے اور اس سے رونما ہونے والی صورت حال پر غور کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ فلسطینیوں کی سرزمین پر اسرائیل کے قیام کا سرے سے کوئی قانونی اور اخلاقی جواز نہیں بنتا۔ حتیٰ کہ اسرائیل کے بانی بھی اس کا ناجائز ہونا تسلیم کرتے ہیں۔ امریکی محققین پروفیسر جان میئر شیمر اور پروفیسر اسٹیفن والٹ نے اپنی کتاب ’’دی اسرائیل لابی اینڈ یوایس فارن پالیسی‘‘ میں یہ خط نقل کیا ہے کہ اسرائیل کے پہلے وزیر اعظم ڈیوڈ بن گوریان عالمی یہودی کانگریس کے صدر ناہم گولڈ مین کولکھے گئے اپنے تاریخی اہمیت کے حامل خط میں اس سچائی کا برملا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر میں کوئی عرب لیڈر ہوتا تو اسرائیل سے کبھی سمجھوتہ نہ کرتا۔یہ ایک فطری بات ہے کہ ہم نے اْن سے اْن کا ملک چھینا ہے۔ اگرچہ یہ درست ہے کہ ہمارا تعلق اسرائیل سے ہے لیکن یہ دوہزار سال پہلے کی بات ہے، فلسطینیوں کا بھلا اس سے کیا واسطہ۔ ہاں دنیا میں یہودی مخالف تحریک، نازی، ہٹلر ، آش وِٹز سب رہے ہیں، مگر کیا اس کے ذمہ دار فلسطینی ہیں؟فلسطینی صرف ایک چیز کودیکھتے ہیںکہ ہم یہاں آئے اور ہم نے ان کا ملک چرا لیا۔آخر وہ اس چیز کو کیوں کر قبول کریں‘‘؟گویا یہ کھلی حقیقت بھی اب مسلم دنیا خاص طور پرعرب ملکوںکے درمیان باہمی نفاق،کشیدگی ،ہٹ دھرمی اور مفادات کے ملبے کے تلے دب چکی ہے اور اُمتِ مسلمہ کے لئے بس ایک کہانی بن کر رہ گئی ہے۔مجھے یاد ہے کہ سعودی عرب کے تعاون سے 2002ء میں عرب امن معاہدے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ 1967ء کی جنگ کے بعد فلسطینیوں کے قبضے کئے گئے علاقوں سے دستبردار ہوجائے تو قیام امن کے اس اقدام کے بدلے میں وہ اسرائیل کیساتھ تعلقات مکمل طور پر بحال کرسکتے ہیںلیکن ایسا آج تک ممکن نہ ہوسکا بلکہ اس کے برعکس اسرائیل ہر حرب و ضرب کا سامان اختیار کرکے نہ صرف فلسطینیوںکا خون بہاتا رہا بلکہ مزید فلسطینی علاقوں پر جابرانہ قبضے جماتا رہا۔ستم بالائے ستم یہ کہ اس صورت حال کے باوجود عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اپنی پالیسیاں تبدیل کیںاور کچھ برسوں کے دوران ہی اسرائیل کیساتھ اپنے تعلقات بحال کرنے میں ہی بہتری سمجھی اور نتیجتاًمتحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان حالیہ معاہدہ کا قیام بھی عمل میں آگیا۔ بلا شبہ امن انسانیت کی ضرورت ہے لیکن حقیقی امن کے لیے انصاف لازم ہے اس کے بغیر قائم ہونے والا امن جس کی لاٹھی اْس کی بھینس کے مترادف اور ظلم کے تسلسل ہی کا دوسرا نام ہوتا ہے۔حالیہ معاہدہ کے متعلق مسلم ممالک کی متضادآرا سے اس بات کا امکان بڑھ گیا ہے کہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد دیگر کئی عرب ممالک بھی امارات کی پیروی کریں اورعرب خطے کا اہم اور بڑا ملک سعودی عرب بھی مکمل طور پر اسرائیل سے تعلقات بحال کرے،تاہم وہ جلد بازی سے کام نہیں لے گا بلکہ وہ خلیجی ممالک اور عرب دنیا کے رد عمل کو دیکھتا رہے گااور اس کے بعد فیصلہ کرے گا کہ اسے کیا کرنا ہے اور کب کرنا ہے۔ کیونکہ مختلف مسلم ممالک کے ساتھ اس دیرینہ تنازعات ، اس کےہٹ دھرمانہ فیصلوں سے بڑھ رہی کشیدگی ، بگڑتی ہوئی معیشت کے ساتھ ساتھ مفادات کے کھیل سے جو دراڑیں عرب ملکوں پڑ گئی ہے۔اْس سے معاملات پہلے جیسے نہیںرہیں گے ،مفادات کی جنگ میںکون کس کا ساتھ دے گااس کا بھی قطعی طور پر کچھ کہا نہیں جاسکتاتاہم اتنا ضرور کہاجاسکتا ہے اس مفاداتی جنگ میں وہ چیز بھی ہاتھ سے جاسکتی ہے جس کا کسی کو گمان بھی نہیں ہو۔عالمی سطح پرمختلف چھوٹے بڑے ممالک کے مابین جس طرح کشیدگی بڑھ رہی ہے،اُس سے جنگ کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے اور اس صورت حال میں مسلم دنیا تقسیم بھی ہوسکتی ہے۔