پیر اقبال رشید
یوسف اور اس کی بیوی کی زندگی گاؤں کی تپتی دھوپ، کھیتوں کی سخت مٹی اور خالی جیب سے عبارت تھی. دن بھر کی محنت و مشقت کے بعد شام کو ان کے گھر مشکلاً چولہا جلتا اور روٹی پکتی تھی.چولہے کے اس دھویں میں ان کو امید کی ایک ہی لکیر دکھائی دے رہی تھی وہ اُمید ان کا اکلوتا بیٹا جمال تھا۔
جمال گاؤں سے کوسوں دور ایک قصبے کے اسکول میں تعلیم حاصل کرتا تھا۔ وہ غیر معمولی ذہانت کا حامل، محنتی اور ہمہ جہت صلاحیتوں سے بھرپور طالب علم تھا۔ پڑھائی ہو یا کھیل، ہر میدان میں اس کی برتری مسلم تھی۔
وقت گزرتا گیا، جماعتیں بدلیں، ڈگریاں حاصل ہوئیں، مگر جب جمال عملی زندگی میں داخل ہوا تو منظر نامہ بالکل مختلف تھا۔ نوکری کے دروازے اس کے سامنے بند تھے۔ وہ ایک دفتر سے دوسرے دفتر تک اپنی اسناد اٹھائے ٹھوکریں کھاتا رہا، ہر جگہ خاموش فائلیں اور سرد لہجے اس کا استقبال کرتے رہے۔ قابلیت، ذہانت اور محنت، یہ سب اس نظام میں بے قیمت ٹھہرے جہاں تعلق، سفارش اور سرمایہ اصل معیار بن چکے تھے۔
وہاں جمال کے والدین وقت کے ہاتھوں کمزور ہو چکے تھے۔ ماں کے بال کب کے پک چکے تھے اور باپ کی لاٹھی اب اس کی طاقت نہیں، مجبوری بن چکی تھی۔ اس کے باوجود وہ روز ایک ہی دعا کرتےکہ شاید کل ان کے صبر کا پھل مل جائے۔ مگر وہ کل، وہ صبح، ان کی دہلیز تک نہ پہنچ پائی۔
وقت گزرتا گیا،جمال چالیس کی عمر پار کر چکا تھا۔ اب اس کے چہرے پر حسرتیں اور آنکھوں میں کئی سوال تھے۔ گھر کی خاموشی میں اکثر ایک تلخ حقیقت سر اٹھاتی اور کہتی کہ
’’کاش تعلیم کے ساتھ کوئی ہنر بھی سیکھ لیا ہوتا۔‘‘
یہ سوال محض ایک خاندان کا نہیں، بلکہ پورے معاشرے کا نوحہ ہے۔ ہم نے نسلوں کو یہ سکھایا کہ ڈگری ہی نجات ہے مگر یہ نہ بتایا کہ ڈگری کے بغیر ہنر بے کار ہے اور ہنر کے بغیر ڈگری بوجھ۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوان تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار ہیں اور ان کے خواب فائلوں میں دفن ہو چکے ہیں۔
���
[email protected]