اردو کی پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ لطف النساء امتیاؔز نقطۂ نگاہ

جبیں نازاں
اردو ادب کا پہلا شاعر امیر خسرو کو تسلیم کیا جاتا ہے ۔ خواتین شاعرات میں اول شاعرہ کا درجہ تو کسی اور کو حاصل ہے ،لیکن لطف النساء امتیاؔز کوپہلی صاحبِ دیوان شاعرہ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ اگر چہ یہ درجہ انھیں تاخیر سے ملا ، کیوں کہ ازیں قبل ماہ لقا چندا بائی کو پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ اردو دنیا تسلیم کرچکی تھی۔ بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں   تذکرہ نگاروں نے جیسے سید شمس اللہ قادری، ڈاکٹرسیدمحی الدین قادری زور اور عبد القادری سروری نے بھی لطف النساء امتیاز کے بارے میں خاطر خواہ معلومات فراہم نہیں کیں۔
یہی وجہ رہی کہ اردو دنیا لطف النساء امتیاز کے نام سے واقف نہ ہوسکی ۔
لطف النساء امتیاؔز کے متعلق سب سے پہلے نصیر الدین ہاشمی نے اپنی کتاب اردو قلمی کتابوں کی وضاحتی فہرست میں مرتبہ 1957ء یوں تعارف پیش کرتے ہیں۔
’’امتیاؔز دکن کا شاعرتھا۔ہم کو یہ نہیں معلوم کہ وہ کس کا شاگرد تھا، اس کا حال کسی قدیم اور جدید تذکرے میں موجود نہیں ہے۔ اختتامی شعر میں لفظ کینز آیا ہے اس سے خیال ہوتا ہے ممکن ہے کہ امتیاز کوئی شاعرہ ہو ۔‘‘غرض کہ انھوں  نےلطف النساء امتیاؔزکا کلام دیکھ کر مرد گمان کیا ، لیکن تخلص دیکھ کر خاتون قیاس کرتے ہیں۔
مجلَہ عثمانیہ دکنی ادب نمبر، شعبہ اردو 1963/64ء میں لطف النساء امتیاؔز اور اس کی شاعری پر ڈاکٹر اشرف رفیع نے ایک تفصیلی مضمون تحریر کیا ہے۔ اس مضمون میں وہ لکھتے ہیں ۔’’’کل کی تحقیق نے ماہ لقابائی چنداؔ کو پہلی صاحبِ دیوان شاعرہ کا رتبہ عطا کیا تھا،مگر آج اسی تحقیق نے لطف النساء امتیازؔ کے سر پر اوّلیت کا تاج رکھا ہے۔‘‘ ماہ لقا چندا بائی اور لطف النساء امتیاؔز کے دیوان کے قلمی نسخہ میں ایک سال کا فرق درج ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ہمعصر تھیں ۔‘‘
امتیازؔ کے حالاتِ زندگی کے بارے میں جو بھی معلومات دست یاب ہوئی ہیں اُس کا واحد ذریعہ امتیازؔ کے دیوان میں موجود مثنوی ہی ہے۔اس مثنوی میں ہمیں امتیازؔ کی پیدائش سے لے کر حیدرآباد منتقل ہونے تک کے حالات کی تفصیلات مل جاتی ہے۔ ‘گلشن شعرا ‘ نامی مثنوی 156صفحات پہ مبنی ہے، اس میں کل 36 ہزار اشعار درج ہیں۔ 96 غزلیں ، 15 رباعیاں 5 قطعات، کے علاوہ دیگر شعری اصناف ہیں۔  1212ھ 1797ء تاریخ سال درج ہے ، جب کہ ماہ لقا چندا کے دیوان سنہ   1798ء ہے۔
امتیازؔ نے کس گھرانے میں آنکھ کھولیں اور وہ کس خاندان کی چشم وچراغ تھیں، اس کا کوئی داخلی یا خارجی ثبوت فراہم نہیں ہوتا،لیکن دیوان میں موجود مثنوی کے ایک شعر سے اتنا ضرور پتہ چلتا ہے کہ امتیاؔز کا تعلق ایک اعلیٰ خاندان سے تھا ،پیدائش کے سوا سال بعد ہی ماں کا سایہ سر سے اُٹھ گیا اور باپ نے بھی ان سے منہ موڑ لیا،چناں چہ وہ کہتی ہیں:
کہ اوّل جدائی کیا باپ وماں
سوا برس کی بے شبہ تھی یہ جاں
تو پائی اسی عمر میں ماں نے فوت
دی خلعت بسیرے کی جب آکے موت
موی تو ہوا ایک عالم پہ غم
مرے پر جدائی کا غم تھا ستم
دو چُھٹ پن میں کیا کیا کیا چُھوٹھ جاں
رہا ہوگا کِس طور گریہ کناں
اور اس سانحہ کے بعد امتیازؔ کو کسی لا ولد رئیس نے گود لیا،جس کا وہ یوں اظہار کرتی ہیں :
ہوا پرورش ہائے غیروں کے سات
ہوئے اُن پودِن عید شب شب برات
کیے پرورش وہ تو چاوں کے سات
رکھے دائیاں نیک اور پاک ذات
(بحوالہ ڈاکٹر احمد شکیل کے مضمون سے ماخوذ)
لطف النساء امتیاؔز کی شادی استاد شاعر اسد علی تمنا سے ہوئی ، جو ایک شاعر تھے۔ لطف النساءامتیاز کے دیرینہ شوق و لگن کو شوہر نے جلا بخشی،جس کا وہ اعتراف فراخ دلی سے  یوں کرتی ہیں : مقدر کا تھا جِتَا لکھا پڑھا
تک اور جوانی پہ جب جا چڑھا
لڑکپن سے یہ شوق دل نے کیا
یہ کچھ شعر و اشعار کا مشغلہ
کچھ دنوں بعد امتیاؔز کے شوہرتمنا ‘ کا انتقال ہوگیا ، جوانی میں بیوگی کے غم نے انھیں نڈھال کردیا ۔ امتیاؔز شوہر کی جدائی کا غم غلط کرنے کے لیے شاعری کے سمندر میں غوطہ زن ہوئیں۔ شاعری تنہائی کی بہترین رفیق اور غمگسار بنی ۔ اسے دوسرے زاویہ نظر سے دیکھیں تو غم سے فرار یا زندگی گزارنے کا وسیلہ بھی کہا جاسکتا ہے۔ کچھ دنوں بعد امتیاؔز نے حیدرآباد سکونت اختیار کرلی ، نظام علی خاں آصف جاہ ثانی کی حکومت تھی ، دیوانِ امتیاز یعنی کہ “گلشن شعرا” میں آصف جاہ دوم کی مدح میں قصیدہ موجود ہے۔ اسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ امتیاؔز کی رسائی دربار تک تھی اور یہ مختلف اصناف پہ دسترس رکھتی تھیں،یہ آزاد خیال اور صاف و شفاف ذہنیت کی حامل خاتون تھیں۔ لطف النساء امتیاؔز کواردو شاعری کی تمام اصناف پر عبور حاصل تھا ، انھیں قادر الکلام شاعرہ کے طور پر دنیائے اردوادب تسلیم کرچکی ہے۔ امتیاؔز کے دیوان میں مثنوی کے علاوہ مخمسات مسدسات قطعات روایات قصائد منقبت وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ ان معلومات سے ہمیں عندیہ ملتا ہے کہ لطف النساء امتیاؔز علمی استعداد و قابلیت کا نام ہیں ۔ان کا کلام سہل ممتنع اور چھوٹی بحر میں کثرت سے ملے گا۔ بے ساختہ پن ، روانی منفرد تشبیہات واستعارات اور محاروں کا استعمال انھیں ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔آخر میں چند نمونہ کلام ملاحظہ فرمائیں ۔
شور صحرا میں مرے آنے کی کچھ دھوم سی ہے
عمل قیس کے اٹھ  جانےکی کچھ دھوم سی ہے
منہ پرجب زلف کج خمدار جھکا
صبح روشن پہ گویا ابر گل ہر بار جھکا
آب رواں ہو، سبزہ ہو اور گلزار ہو
ساقی ہو جام اور بغل میں نگار ہو
_(لکشمی نگر ، نئی دہلی)