جموں//زبان و ادب کے مختلف رنگوں سے آراستہ ریاست کی کثیر اللسانی ادبی تنظیم ادبی کُنج جے اینڈ کے جموں کے زیر اہتمام اِس کے ادبی مرکزکڈذی سکول تالاب تِلّوجموں میں گذشتہ روز ایک شعری تنقیدی نشست کا اِنعقاد ہوا جس کی صدارت کے فرا ئض اُردو زبان کے جواں سال غزل گو شاعر عبدالجبّار بٹ نے سر انجام د ئیے۔جبکہ ڈوگری شاعر کالو رام سلگوترہ ریٹائر پرنسپل مہمانِ خصوصی تھے۔ تنظیم کے ادبی سیکرٹری اور اُردو ،ہندی اورڈوگری کے شاعر بِش داس خاکؔ نے نشست کی نظامت کے فرائض انجام دِئے۔ آج کی اِس نشست کے ادبی دور کی خصوصیت ایک شعری دور تھا جس میں خصوصی طور پر مختلف شعرا کی طرف سے پیش کردہ کلام پر سیر حاصل تبصرہ ہوا۔ نو آموز شعراء کو رموزِ غزل کے مختلف پہلوؤں سے روشناس کرایا گیا۔ شعراء حضرات کو مشق کیلئے ایک طرح مِصرعہ دِیا گیا جو اِس طرح تھا۔ ’سینے میں تیری یاد کا طوفان اُٹھا ہے‘۔ نشست میں ایک خراجِ عقیدت دوَر بھی ہوا جس میں اُردو زبان و ادب کی معروف شخصیت سرکردہ ادیٖب و شاعر اور ستارۂ اُردو ادب ڈاکٹر خلیق انجم کے دوسرے یوم ِوفات،18۱کتوبر پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اُن کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں پر مفصّل روشنی ڈالی گئی۔ ڈاکٹر خلیق انجم نے بہت سے موضوعات پر کام کیا ہے۔انھوں نے فلسفہ ٔغالبؔ پر بھی کام کیا۔ جس کیلئے وہ ماہر غالبؔ کہے جاتے تھے ۔ وہ کئی برس تک انجمنِ ترقیء اُردوہِند دھلی کے سیکرٹری بھی رہے۔ خصوصی طور پر وہ ادبی کنج کی کارکردگی سے بہت متاثر تھے۔ نثری دوَر میں شام طالبؔ کی طرف سے ایک خصوصی عکس نامہ ’ڈاکٹر خلیق انجم سے ایک ملاقات‘ پیش کیا ۔ آرشؔ دلموترہ نے ایک جذباتی اُردو مٖضمون ’آزادی بنام بربادی‘ پیش کیا۔ شعری دوَر کا آغاز تنظیم کے گلوکارو شاعر چمن سگوچ کی طرف سے پیش کی گئی ایک معروف غزل سے ہوا جس کا مطلع تھا؛ ’بہاروں کو چمن یاد آگیا ہے، انہیں وہ گلبدن یاد آگیا ہے‘۔ اِس شعری نشست کے دیگر شعراکے اِسم گرامی اِس طرح ہیں؛ آرشؔ دلموترہ ، کے آر سلگوترہ، عبدالجبّار بٹ ، چودھری سرور چوہان حبیبؔ، بشن داس خاکؔ، راج کمل، راجیو کمار ، ایس کے گپتا، مہاراج کرشن اور شام طالبؔ ۔ نِشست کا اِختتام تنظیم کے چیئرمین آرشؔ دلموترہ کی طرف سے پیش کردہ شکریہ کی تحریک سے ہوا۔ جس میں آپ نے موسمی تبدیلی بارے آئندہ نشست کے اوقات میں شام 4بجے سے 6بجے تک ہونے کی ایک بار پھر یاد دہانی کرائی۔