جموں// کثیر اللسانی ادبی تنظیم ادبی کُنج جے اینڈ کے کے زیراہتمام ایک خصوُصی سُر مئی ادبی نثری نِشست کا اِنعقاد ہوُا۔جِس میں ادب اورسنگیٖت کے دِلداداؤں کی ایک بڑی تعداد نے حِصّہ لِیا۔ اِس سنگیٖت نُما ادبی نِشست کی صدارت کے فرائض جانے مانے شاعروگلوکار ویداُپل ؔ نے سر انجام دِئے۔ جبکہ نِشست کی نِظامت کے فرائض اِس بارگوجری و اُردوُکے شاعر و گلوکار محمّد سروَر چوہان حبیٖبؔ نے انجام دِئے۔ نِشست کے آغاز میںگلوکار شعراء نے گلوکاری کے مختلف پہلوؤںپراپنے خیالات کا اِظہار بھی کِیا۔ اِ س موقعہ پر گلوکار شعراء نے اپنی اور اپنے غزل گو شعراء ساتھیوں کی غزلیں گا کرسب کو مسروُر کر دِیا۔آج کے نظمی دور میں نوجوان شاعر عبالجبّار بٹ کی ایک اُردوُ غزل’اگر اِس کارواں میں خوف کاعالم نہیں ہوتا ، سفر میں پھِر کِسی کا حوصلہ بھی کم نہیں ہوتا۔ آج کے شعری دوَر میں حِصّہ لینے والے شعراء کے اِسمائے گرامی اِس طرح ہیں:۔ آرشؔ دلموترہ ، سنتوش شاہ نادا نؔ،ہرجیت سنگھ اُپلؔ، سروَر چوہان حبیٖب، چمن سگوچؔ ، عبدالجبّار بٹ، ایس کے گٗپتا، راجیو کُمار، اور شام طالبؔ۔نِشست کے خصوُصی دوَر میں سینئر ایڈووکیٹ ڈی سی رینہ کی ریاست کو ایڈووکیٹ جنرل کے عہدہ پر فائز کئے جانے پر اُنھیں دِل کی گہرائیوں سے مُبارکباد دی گئی۔ اُھیں اپنے وکالتی شعبہ میں 44سال کا طویل تجربہ حاصل ہے ۔ جِس دوران وہ پہلے بھی دو بار اِس عہدہ پر اپنے فرائض ادا کرچُکے ہیں۔رینہ صاحب ایک نامور سماجی خدمتگار اورادب دوست بھی ہیں۔جو ادبی کُنج کے پُرانے پریمی اور مہربان بھی ہیں۔ نِشست کا اِختتام تنظیم کے چئیرمین آرشؔ دلموترہ کی پیش کردہ شُکریہ کی تحریک سے ہوُا۔