بلا شبہ سائنسی انقلاب، صنعتی ترقی اور ادارہ جاتی نظم نے مغرب کو غیر معمولی قوت،برتری اور اثر و رسوخ عطا کیا ہے، تاہم اس ترقی نے انسان کو ایک ایسے تصورسے جو ڑدیا ہے، جس میں افادیت، منڈی اور طاقت کو مرکزی حیثیت حاصل ہوئی ہے، جبکہ اخلاقی اقدار، روحانی معنویت و اجتماعی بھلائی کو ثانوی درجے میں رکھا گیا ہے۔جس سے یہی اخذ کیا جاسکتاہے کہ ترقی نے انسان کو سہولت تو دے دی ہے مگر مقصد نہیں، اختیار بھی تو دیا ہے، مگر ذمّہ داری نہیں۔نتیجتاًمغربی تہذیب میں اخلاقی اور فکری بحران بڑھتا جارہا ہے۔ظاہر ہے کہ جب علم محض تکنیک بن جائے، سیاست طاقت کا کھیل اور معیشت انسانی رشتوں پر غالب آ جائے تو تہذیب بظاہر عروج پر ہوتے ہوئے بھی اندر سے عدم ِتوازن کا شکار ہو جاتی ہےاور یہی وہ معاملہ ہوتاہے جہاں زوال کسی بیرونی حملے سے نہیں بلکہ داخلی تضادات سے جنم لیتا ہے۔بے شک تاریخ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ پائیدار تہذیبی غلبہ نہ تو طاقت کے انبار سے قائم ہوتا ہے، نہ ہی دولت کی فراوانی سے، بلکہ اخلاق، علم اور انسان دوستی کے باہمی توازن سے جنم لیتا ہے۔ جب یہ توازن بگڑ جائے تو عروج خود اپنے اندر زوال کا اعلان بن جاتا ہے اور مغربی تہذیب اپنی تمام تر کامیابیوں کے باوجود اس آفاقی تاریخی قانون سے ہرگز ماورا نہیں۔تہذیبی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب اخلاقیات محض تقریروں اور عالمی اعلامیوں تک محدود ہو جائیں اور عملی زندگی میں طاقتور طبقات ان سے مستثنیٰ قرار پائیں تو زوال ایک تدریجی مگر یقینی عمل بن جاتا ہے۔ آج ایپسٹین کا بدنامِ معاملہ اسی زوال کی علامتی تصویر ہے۔ایپسٹین ایک ایسا آئینہ جس میں مغربی تہذیب کا وہ چہرہ جھلکتا ہے، جسے برسوں انسانی حقوق اور اخلاقی قیادت کے خوش نما نعروں سے ڈھانپا جاتا رہا ہےاور یوں ایپسٹین فائل کسی ایک ملک، ایک طبقے یا ایک دور کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک آفاقی تنبیہ ہے۔ ظاہر ہے کہ جب انصاف انتخابی ہو جائے، اخلاقیات طاقت کے تابع ہو جائیں اور انسانی وقار کو مفاد کے ترازو میں تولا جانے لگےتو تہذیبیں اپنے عروج کے عین لمحے میں زوال کے مرحلے میں داخل ہو جاتی ہیں اور تاریخ کا فیصلہ یہی رہا ہے کہ ایسے زوال کو نہ میڈیا کا شور روک سکتا ہے، نہ اداروں کی چمک، کیونکہ اخلاقی دیوالیہ پن آخرکار خود کو آشکار کر ہی دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آج مغربی تہذیب میں طاقت کے نشے، پیچیدہ سیاسی چالاکیوں اور گہرے اخلاقی انحطاط کا جو مجموعہ نظر آتا ہے، وہ اس امر کااشارہ کرتا ہے کہ یہ تہذیب اپنے عروج کی آخری سیڑھی پر کھڑی ہے، جہاں بلندی کے ساتھ ساتھ گرنے کا امکان بھی زیادہ ہوتا ہے۔ تاریخ کی روشنی میں دیکھا جائے تو تہذیبیں عموماً اندر سے ٹوٹتی ہیں۔ اعتماد کا بتدریج زوال، اخلاقی ساکھ کا بکھرنااور فکری و معنوی برتری کا خاتمہ، یہ وہ خاموش عمل ہیں جو طاقتور نظاموں کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ جب ادارے اپنی اخلاقی بنیاد کھو بیٹھیں، قانون مساوی نہ رہے اور بیانیہ حقیقت سے کٹ جائے تو ظاہری استحکام ایک دھوکہ بن کر رہ جاتا ہے۔یہ سوال محض ایک تہذیب کے مستقبل سے متعلق نہیں بلکہ تاریخ کے اس آفاقی قانون کی یاد دہانی ہے جو ہر دور میں طاقت، اخلاق اور انصاف کے باہمی تعلق کو پرکھتا آیا ہے۔ تاریخ کا قانون اٹل ہے۔ جو تہذیب انصاف سے منہ موڑ لے، وہ زیادہ دیر تک تاریخ کے مرکز میں نہیں رہ سکتی۔ انصاف محض ایک اخلاقی قدر نہیں بلکہ تہذیبی بقاء کی شرط ہے ۔ جب مفاد انصاف پر غالب آ جائے اور طاقت حق کی جگہ لے لے، تو تہذیبیں اپنے ہی تضادات کے بوجھ تلے دبنے لگتی ہیں۔ یہی وہ مرحلہ ہوتاہے جہاں عالمی قیادت کا دعویٰ اخلاقی جواز سے محروم ہو جاتا ہے۔ آج دنیا واقعی ایک نئے دور کے دہانے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ یہ دور طاقت کے یک طرفہ استعمال کا نہیں بلکہ اقدار کے نئے امتحان کا دور ہے ،جہاں سیاسی و عسکری برتری کے بجائے اخلاقی صداقت، انسانی وقار اور منصفانہ نظام فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔تہذیبیں اسلحے کے انبار، معاشی اعداد و شمار یا تکنیکی برتری سے زندہ نہیں رہتیںبلکہ کردار، انصاف اور اخلاقی سچائی سے دوام پاتی ہیں۔