تاریخ گواہ ہے کہ جب تک مسلمانوں نے قرآن وحدیث کو مقدم رکھا اور اس پر عمل پیرا رہے تو وہ نہ صرف دنیا میں غالب رہے بلکہ سربلند بھی رہے،لیکن جب انہوں نے قرآن سے دوری کا راستہ اختیار کیا تو وہ تنزلی کاشکار ہوگئےاور آج مسلمان جس ماحول میں جی رہے ہیں ،وہ انتہائی پُر آشوب دور ہے۔بغور دیکھا جائے تو دنیا بھر کے بیشتر ممالک،جن میں مسلم ممالک بھی شامل ہیں،میں مسلمانوں کی صورت حال انتہائی دُکھ دہ اور افسوسناک ہے۔جہاں اسلام مخالف ہر سُو مسلمانوں کے خلاف غلط بیا نیاں و زبان درازیاں کررہے ہیں،وہیں خواب ِ غفلت کے شکار مسلمانان تقسیم در تقسیم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔
کہیں انہیں علاقائی سطح پر محدودکیا جا رہا ہے تو کہیں نسلی لسانی عصبیتوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اس طرح اُمّت مسلمہ کا تصور مدھم پڑتا جا رہا ہے۔جس پر مسلمانوں کو نہ صرف سنجیدہ غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اس بات کا بھی فیصلہ کرنا ہے کہ آیااُنہیںاِسی طرح نسلی ،لسانی، علاقائی عصبیتوں اور مذہبی فرقہ واریت کا شکار رہ کر تباہی و بربادی کی جانب بڑھتے رہنا ہے یا خالص قرآن و سنت کے پاکیزہ دامن سے وابستہ ہو کر اِن تمام لعنتوں سے اپنے دامن جھٹک کر دنیا و آخرت کی فلاح حاصل کرنا ہے۔ یاد رہے! آج بھی اسلام اور مسلمانان ،دشمنانِ اسلام کا ہدفِ اول ہیں اور وہ مسلمانوں کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کر کے ایک تیر میں دو شکار کررہے ہیں ۔ ایک طرف وہ مسلمانوں اس لئےکمزور کر رہے ہیں تاکہ اُنکی قوت ومزاحمت دم توڑ جائے اور وہ من مانی پالیسیوں کے ذریعے مسلمانوں پر براجمان رہ سکیں۔دوسری طرف اسلام پر دہشت گردی و بربریت کا لیبل لگا کر مسلمانوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
اس صورت حال کے باوجود آج اسلام جس تیزی سے مقبول ہو رہا ہے،وہ بھی اُن کے لئے زہر الماس ثابت ہورہا ہے ،جس کے باعث اُن کی پوری توجہ مسلمانوں کی طرف ہے اور وہ مسلمانوں کے اندر فرقہ وارانہ و علاقائی تعصبات اور دیگر فتنے پیدا کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑرہے ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانان ہر طرح کے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے خالص قرآن و سنت کی بنیاد پر اتحاد و یکجہتی اختیار کریں اور ایک دوسرے کی مساجد ومدارس اور دیگر مراکز کااحترام کریں۔ یاد رکھیں کہ سرورِ دوعالمؐ نے ایک کلمہ گو مسلمان کی عزت و حرمت بیت اللہ سے بھی زیادہ قرار دی ہے ۔بے شک آج ہم انتہائی پُرفتن دورمیں زندہ ہیں ،اس لئے تمام ترفتنوں اور آفات سے محفوط و مامون رہنے کا بس ایک ہی ذریعہ ہے اور وہ خالص کتاب و سنت سے والہانہ وابستگی، اتحاد تنظیم اور باہمی اخوت و محبت ہے۔
تمام اہل اسلام کے لئے لازم ہے کہ وہ اللہ اور رسول اللہ ؐ کےاحکامات و ہدایات پر بھرپور عمل کریں، اسلام دشمنوں کی سازشوں اور خرافات کو سمجھیں اور اپنے خالص دین سے تمسک اختیار کرتے ہوئے باہمی یگانگت ،اتحاد و اتفا ق کے ذریعے اُن کے منصوبوں کو ناکام بنا دیں۔ بالخصوص علماء پر بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کسی طرح کی کشیدگی کو ہوا دینے کی بجائے،تحمل و برداشت اور رواداری اختیارکریں اور اس سلسلے میں عوام الناس کا شعور بیدار کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ہمارے پیارے نبی ؐ نے اُمّت مسلمہ کے اتحاد و یکجہتی، فکری و نظریاتی ہم آہنگی اور نظم و ضبط پر بے انتہا زوردیا ہے۔
چنانچہ آج جب ہم اُمتِ مسلمہ کی زبوں حالی اور کسمپرسی پر نگاہ ڈالتے ہیںاور اس ذلت و رسوائی کے اسباب و عوامل پر غور کرتے ہیںتو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ اُمّت اپنے اصل منہج سے دور ہو گئی ہے،جس کی وجہ سے ربّ العزت کی رحمتیں ہم سے دور ہو گئی ہیں۔ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ جب تک اہل ِسلام فکری و نظریاتی بنیادوں پر استوار رہے، دنیاوی ترقی و عروج اُن کا مقدر ٹھہرے، لیکن جب اسلام کی نظریاتی اساس یعنی قرآن و حدیث سے رو گردانی کی گئی اور من چاہے افکار و نظریات پر مبنی فرقہ وارانہ سوچ کو پروان چڑھایا گیا تو وحدتِ اُمت پارہ پارہ ہوتی چلی گئی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دین ِاسلام جو ایک اللہ اور ایک رسول اللہؐ کے فرامین پر مبنی ایک اُمت کا تصور لئے ہوئے تھا ،بٹواروں کا شکار ہوتا چلا گیا اور مختلف اسلام دشمن قوتوں کی رختہ اندازیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا ،جو آج تک جاری ہے۔