ابراہیم رئیسی کی انکساری قابل دید تھی: ڈاکٹر ایرج ایران کلچرہاؤس دہلی میں تعزیتی مجلس

یو این آئی
نئی دہلی// اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرآیت اللہ ابراہیم رئیسی،وزیر خارجہ حسین امیر عبد اللہیان ودیگرشہدائے زبردست دلی خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ایران کے سفیر ڈاکٹر ایرج الہٰی نے کہا کہ جو اپنے گھر سے نکلتا ہے اورخداکی راہ میں ہجرت کرتاہے اورسفر میں اس کی موت ہوجاتی ہے اس کا اجر اللہ کے نزدیک بہت زیادہ ہے۔ یہ بات انہوں نے یہاں ایران کلچرہاؤس میں تعزیتی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے اس موقع پررندھی ہوئی آوازمیں کہا کہ ان شہداء کی بات کرنامیرے لئے بہت دشوار گزار مرحلہ ہے بالخصوص آیت اللہ رئیسی کے بارے میں جن کی خدمات اورصفات وکمال کااحاطہ کرنامحال ہے۔ انہوں نے آیت اللہ رئیسی کے بارے میں اپنی گفتگوکوتین حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے مرحوم کی ذاتی شخصیت اوران کے صفات اور کمالات کاذکرکیا۔اس کے علاوہ آیت اللہ مرحوم کی مہارت اورتجربات کے حوالے سے سیر حاصل گفتگوکرتے ہوئے مرحوم صدر ہندوستان کے ساتھ روابط کو کتنی اہمیت دیتے تھے اس پر تفصیل سے اپنے خیالات کاا ظہار کیا۔ایرانی سفیرنے کہاکہ آیت اللہ رئیسی کے بارے میں لوگوں نے بہت کچھ سناہوگاان کی ذاتی صفات اور کمالات سے قطع نظرایک اہم بات یہ ہے کہ ایک ملک کے صدرمملکت ہونے کے باوجودان کے اندرتواضع اورانکساری قابل ذکر تھی۔ انہوں نے ایرانی قوم کوجمہوریہ کے نئے معنی اورمفہوم سے آشنا کیا۔ انہوں نے کہاکہ پہلے صدرمملکت کامنصب عوام کے لئے ایساتھا جہاں عام انسان کی رسائی نہیں ہوسکتی تھی مگر آیت اللہ رئیسی نے اس منصب کوعوام دوست بناتے ہوئے ان کے ہردکھ دردکامداواکرنے میں پیش پیش رہتے تھے۔