بانہال
محمد تسکین
بانہال // ضلع رام بن کے حلقہ انتخاب بانہال کے بیشترعلاقوں میں آج 35A کو ہٹانے کی کسی بھی کوشش کے خلاف مکمل ہڑتال کی گئی اور احتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیئے گئے۔ مزاحمتی قیادت کی دو روزہ کال کے پہلے دن بانہال ، کھڑی اور رامسو میں مکمل بند رہا جبکہ لوگوں نے 35 اے کے حق میں احتجاجی مظاہرے کئے۔ مکمل ہڑتال کی وجہ سے معمولات کی زندگی بْری طرح سے اثر انداز رہی اور بازار سنسان تھے۔ بانہال میں سول سوسائٹی بانہال کی طرف سے ریلوے سٹیشن بانہال میں سب سے بڑا اجتماع ہوا اور اس موقع پر تمام مکتبہ فکرسے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی جن میں سیاسی ، سماجی اور دینی جماعتوں کے علاوہ جموں اور کٹھوعہ سے آئے انٹرنیشنل ڈیموکریٹک پارٹی کے عہداروں نے بھی شرکت کی۔ اس بھاری جلسے میں سیاسی ، سماجی لیڈروں ، انسانی حقوق کے کارکنوں ، وکلاء، ماہر تعلیم اور علماء کرام نے شرکت کی۔ اس موقع پر تلاوت کلام پاک کے بعد ،، کشمیر کے جھنڈے لہرا ئے، ترانہ پیش کیا گیا اورتعظیم میں سبھی لوگ بول سے بول ملاتے کھڑے ہوئے۔ اس کے بعد جلسے کی مزید کارروائی شروع کی گئی۔ اس موقعہ پر درجن سے زائد مقررین نے اپنی جامع اور دلچسپ تقریروں کے ذریعے وہاں موجود سینکڑوں لوگوں کو دفعہ35A کی اہمیت اور افادیت کے بارے میں تفصیلی جانکاری دی اور اس کی حفاظت کیلئے کمر بستہ ہونے اور ہماری آنیوالی نسلوں کے ساتھ کی جانے والی کسی بھی سازش کا ہر سطح پر تیار رہنے کی تقلین کی۔ دفعہ 35A اور دفعہ 370 کے دفاع میں بات کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ دفعہ 35 اے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنانے ہم تیارو متحدہ ہیں اور اس کیلئے بھارت سرکار کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لیکر ریاست جموں کشمیر کے زندگی اور موت والے مسئلے میں الجھنے کی غلطی نہ کریں۔ بانہال میں ہوئے احتجاجی جلسے کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں انٹرنیشنلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی کے آل انڈیا صدر آئی۔ ڈی کھجوریہ ساکنہ کٹھوعہ اور ایڈوکیٹ جے۔ اے کاظمی سٹیٹ سیکریٹری ساکنہ جموں کی اپنے رفقاء کے ساتھ شمولیت تھی اور انہوں نے بھی 35 اے کے حق میں پوری ریاست کے لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے اس کے کئی نقصان دہ اور منفی پہلووں پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ اگر کسی نے بھی35 اے کو ہٹانے کی کوشش کی تو تمام سیاست دان اپنی سیاسی وابستگیوں اور سیاسی چولوں کو پھینک کر ریاست کے تشخص کی حفاظت کیلئے میدان عمل میں اتر آئیں گے اور تمام ناطے توڑ دیئے جائیں گے۔ مقررین نے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتیں اقتدار کیلئے عوام کو دھوکے دینے اور بھارت کے قبضے کو جواز بخشنے کیلئے دہائیوں سے سرگرم ہیں اور اج وہ اپنی کرسیوں کی خاطر لوگوں کو بیوقوف بنانے کیلئے اس عوامی تحریک کا حصہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاست جموں وکشمیر کے سیاست دانوں کو واقعی ریاستی عوام اور ریاست کی خصوصی حیثیت اور دفعات سے لگاو ہے تو وہ دہلی میں جاکر مرکزی سرکار کو دو ٹوک الفاظ میں بتائیں کہ ہم آزاد رہنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عارضی الحاق کے بعد بھارت نے ریاست کے آبی وسائل ، جنگلات اور معدنیات کو لوٹا ہے اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیر چھاڑ کی صورت میں ریاست سے جانے والی بجلی ، ریل لائینوں اور شاہراووں کو بند کیا جائے گا اور بھارت کے ساتھ تمام ناطے رشتے مکمل طور سے توڑ دیئے جائیںگے۔ انہوں نے کہا کہ یوں تو دفعہ 35 اے کو ہٹانے کی صورت میں ریاست کاملک کے ساتھ الحاق بھی آئینی طور ٹوٹ جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی جے پی کی فرقہ پرست سوچ نے پوری ریاست کو آگ میں جھونک دیا ہے اور ریاست میں بے چینی کو ہوا دیکر لوگوں کے جذبات کو ابھار رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرستوں کی اِن سازشوں سے تمام لوگ اپنی سیاسی سماجی اور مذہبی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر ایک آواز بن کر کھڑے ہوئے ہیں اور یہی وجہ سے بانہال میں 35 اے کے حق میں ہوئی عظیم الشان تقریب میں کٹھوعہ اور جموں کے نامور سماجی کارکن اور انسانیت کے عملبردار بھی شریک ہوئے۔
کھڑی۔ رامسو
کھڑی ، رامسو ، بزلہ اور ترنہ ، ترگام کے علاقوں میں مکمل ہڑتال اور احتجاجی مظاہروں کے دوران مقررین نے نے خبردار کیا کہ 35 اے کے خلاف کسی بھی قسم کی سازش کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے ریاست کی پوری عوام متحدہ ہے اور اس سازش کو کامیاب ہونے کی صورت میں بھارت سرکار کو سنگین نتائج بھگتنے پڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے مستقبل کی نسل کے ساتھ کسی بھی قسم کی سازش کرنے والے پرقہ پرست طاقتوں اور اْن کی پشت پناہ مرکزی حکومت کو داندان شکن جواب دیکر ثابت کرینگے کہ لوگ اس کیلئے کس حد تک جاسکتے ہیں۔ ریاست گیر دو روزہ ہڑتال کی کال کے پہلے دن بانہال ، کھڑی اور رامسو کے علاوہ شاہراہ پر واقع نوگام ، ٹھٹھاڑ ،چریل ، درشی پورہ ،گنڈ عدلکوٹ ، کسکوٹ ، ڈولیگام ، ترنہ ، ترگام ، بزلہ اور مہو منگت کے علاقوں میں مکمل ہڑتال کی گئی اور سینکڑوں کی تعداد میں سیاسی ، سماجی اور مذہبی جماعتوں سے وابسطہ لوگوں نے بلا کسی رنگ کے ریلیوں احتجاجی مظاہروں اور سمیناروں میں شرکت کی۔ کھڑی آڑپنچلہ میں سکولی بچوں نے بھی دفعہ 35 اے کے حق میں احتجاجی ریلیاں نکالی۔ انہوں نے ہاتھوں میں 35 اے کے حق میں اور اسے ہٹانے کے خلاف عبارات درج کر رکھی تھیں۔ ضلع رام بن کے ان مسلم اکثریتی والے علاقوں میں دفعہ 35 اے کے حق میں مکمل ہڑتال اور مظاہروں کی وجہ سے بیشتر سرکاری و غیر سرکاری سکول ، کالج ، سرکاری دفاتر اور مقامی ٹرانسپورٹ بند رہا اور مارکیٹیں سنسان تھیں۔ٹریفک اور لوگوں کی نقل وحمل سے صدا مشغول رہنے والی جموں سرینگر شاہراہ بھی مکرکوٹ سے نوگام تک سنسان رہی۔ امن و قانون کی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کیلئے ضلع رام بن میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اور کسی بھی علاقے سے کسی بھی ناخوشگوار واقع کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
ڈوڈہ
اسحق عارف
جائنٹ سیول سوسائٹی ڈوڈہ کی کال پر وادی چناب کے ضلع ڈوڈہ میں مکمل بندرہا ہے اس دوران تمام تعلیمی ادارے دوکانیں و دیگر کاروباری ادارے بند رہے اور سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حرکت بھی کم رہی اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسیشن ڈوڈہ کی طرف سے دو روزہ احتجاج کے تحت عدالتوں میں بھی کام کاج ٹھپ رہا گندو بھلیسہ ٹھاٹھری و دیگر قصبہ جات میں بھی معمولات زندگی متاثر رہی، اسی دوران آج ڈوڈہ صدر مقام پر سماجی و سیاسی کارکنان نے ایک احتجاجی مارچ کیا جو بھرت روڈ سیول لائن ، صدر بازار ، جامع مسجد چوک نہرو چو و قصبہ کے قدیم بازاروں سے گذرتے ہوئے فوارہ چوک ڈوڈہ میں اختتام ہوا احتجاجیوں سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے خبردار کیا کہ دفعہ 35-Aسے کسی بھی طرح کی چھیڑ چھاڑ سے پوری ریاست میں آگ لگ جائے گی ۔ احتجاجی جلسہ سے عبدالقیوم ذرگر ، مرزا مظفر حُسین بیگ، ایدوکیٹ امتیاز احمد میر، شوکت علی مغل، ڈاکٹر ایجاز کریم، نصیر احمد کھوڑا، عبدالمنان بانڈے، آصف جہاں گتو، اشتیاق احمد دیو نے خطاب کیا جبکہ احتجاجی ہڑتال کو چناب سٹیزن کونسل، ڈوڈہ ویلفیئر سوسائٹی، بیوپار منڈل ، ڈسٹرکٹ بار ایسوسیشن ، حق انصاف کونسل، سینئر سٹیزن کونسل، چناب ویلی جرنلسٹ ایسوسیشن، مرکزی سیرت کمیٹی، ڈی ، آر، وائی، اے ، کیمسٹ ایسوسیشن سمیت کئی سیاسی سماجی انجمنوں کی حمایت حاصل تھی ڈوڈہ بند کو تمام طبقوں نے بلالحاظ مذہب و ملت رنگ و نسل تمام طرح کی وابستگیوں سے بالاتر ہوکر مکمل تعاون دیا تھا۔
کشتواڑ
آئی اے بٹ
مسلم شوریٰ کمیٹی کی طرف سے دی گئی دو روزہ بند کال کے پہلے روز آج پورے ضلع میں مکمل ہڑتال کی گئی جس دوران تمام تجارتی و تعلیمی ادارے بند رہے جب کہ ٹریفک بھی نہ کے برابر چل رہا تھا۔ خاص بات یہ رہی کہ امام جامع مسجد ، جو کہ شوریٰ کمیٹی کے صدر بھی ہیں کی طرف سے دی گئی کال پر تمام طبقہ جات نے لبیک کہا اور فرقہ وارانہ طور پر حساس مانے جانے والے قصبہ کشتواڑ میں دن بھر ہوٗ کا عالم رہا، بازار و مارکیٹ سنسان تھی بلکہ کرفیو کا منظر پیش کر رہی تھی۔قصبہ کشتواڑ کے علاوہ ضلع کے تمام اہم قصبہ جات میں بھی بند کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ہڑتال پوری طرح سے پر امن رہی اور کہیں سے بھی کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ہے ۔ آج یعنی جمعہ کے روز بھی ضلع میں بند کی کال دی گئی ہے جس دوران احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے۔
بھدرواہ
طاہر ندیم خان
بھدرواہ میںبیشتر دکانیں اور اسکول بند رہے جب کہ دفاتر میں حاضری بھی بہت کم تھی۔ اس بند کی کال انجمن اسلامیہ بھدرواہ کی طرف سے دی گئی تھی۔ اس موقعہ پر احتجاج بھی کیا گیا جس دوران مقررین نے دفعہ 35A کے ساتھ کی جانے والی چھیڑ چھاڑ کیلئے مرکزی سرکار کو متنبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ یہ شق جموں کشمیر کے لوگوں کی شناخت ہے جس کے تحفظ کے لئے وہ کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اور یہ دفعہ ریاست کو خیرات نہ ملی ہے ناہی کوئی احسان ہے بلکہ یہ سٹیٹ سبجیکٹ کا قانون آزادی سے بیس برس قبل 1927میں اُس وقت کے مہاراجہ ہری سنگھ نے ریاستی عوام بالخصوص کشمیری پنڈتوں اور جموں کے ڈوگروں کے شدید مطالبہ پر لاگو کیا تھا اور دستاویز الحاق میں بھی اس کا ذکر تھا اور پھر ریاست میں پرمٹ نظام کے تحت داخلہ کو ختم کرنے کے لئے 1954میں صدارتی احکامات کے تحت اس دفعہ کو مضبوط کیا گیاتھا۔ مقررین نے دفعہ 35-Aکے سیاسی سماجی معاشی معاشرتی قانونی پہلوؤں پر بھی تفصیلاً بات کی اور خبردار کیا کہ محض انتخابات کے لئے ملک کے لوگوں کو گمراہ کیا جارہا اور یہ وقت لوگوں کو متحد رہ کر اتفاق و اتحاد کا مظاہرہ کرکے جدوجہد کے لئے تیار رہنا ہوگا۔ اس دوران نیشنل کانفرنس ، کانگریس، سی پی ایم کی طرف سے بھی بند کی حمایت کی گئی ہے ۔
گول
زاہد بشیر
پوری ریاست کے ساتھ ساتھ سب ڈویژن گول میں بھی 35Aدفعہ کو ہٹائے جانے کے خلاف آج احتجاجی مظاہرہ ہوا اور اس دوران پورے دن بازار بند رہا۔ سب ڈویژن گول کے صدر مقام کے علاوہ سنگلدان ، داڑم میں بھی مکمل طو رپر بند ررہا اور لوگوں نے اس دفعہ کو ہٹائے جانے کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا ۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ یہ دفعہ ریاست کی شناخت ہے اور اگر کسی نے بھی اس کو ہٹانے کی کوشش کی گئی تو آگ لگ سکتی ہے اور اس کے خلاف ہر اُس کے خلاف احتجاج کیا جائے گا جو اس دفعہ کے خلاف ہے اور یہ ریاستی عوام کی ایک شناخت اور تحفظ ہے جو ہمیں پورے ملک میں الگ پہچان دیتا ہے ۔ پورے دن بازار بند رہا ہے بازار میں احتجاجی ریلی نکالی گئی ۔ اس موقعہ پر مقررین نے کہا کہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کرنے کی ہر سازش کو ہر صورت میں ناکام بنا دیا جائے گا ۔ریاست کی عوان سیاسی سطح سے اوپر اُٹھ کر اس قانون کی جان دے کر حفاظت کریں گے اور ان عناصر اور طاقتوں کومنہ توڑ جواب دیں گے جو اس مکروہ سازش کے پیچھے ہیں اور اُن کے ناپاک منصوبوں کو کسی بھی قیمت پر کامیاب نہ ہونے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا ہے کہ ریاست کو حاصل خصوصی پوزیشن اور دفعہ 35A کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کو کسی بھی قیمت پر برداشت نہ کیا جائے گا۔ کچھ فرقہ پرست طاقتیں اور عناصر ان دفعات کو ہٹاکر اور ریاست کی خصوصی پوزیشن کو ختم کر کے یہاں کی عوام کو ان فوائد سے محروم کرنا چاہتے ہیں جو یہ دفعہ انہیں فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ 35A کی منسوخی سے پوری ریاست میں فسادات اور بد امنی پھیل جائے گی ۔ مقررین نے متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ریاست کی خصوصی پوزیشن کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرے کیوں کہ اس کے تباہ کن نتائج نکلیں گے۔احتجاج کے بعد گول بازار مکمل طور پر بند رہا ۔ ادھر سنگلدان اور داڑم علاقہ میں بھی آج دفعہ35Aکو ہٹائے جانے کے خلاف بند رہا اور کہا کہ اس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔
مہور
زاہد ملک
مہور بازار میں دفعہ 370 اور 35A کی حمایت کیلئے مقامی نوجوانوں،بیوپار منڈل کے اراکین،معزز شہریوں اور تمام سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں نے ایک جلوس نکالا اور دفعہ 35A اور 370 کی حفاظت کا عہد کیا۔انہوں نے مرکزی سرکار کو یاد دلایا کہ اگرچہ مرکزی سرکار نے دفعہ 370 اور 35A کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو مہور گلابگڑھ کا بچہ بچہ خون بہائے گا۔آخر میں سینئر ایڈوکیٹ عبدلغنی بٹ نے نوجوانوں کے کوجذبات پر قابو رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ دفعہ 370 اور 35A کی روٗ سے جموں کشمیر کو خصوصی درجہ حاصل ہے کوئی عدالت یا مرکزی حکومت اگر ان دفعات کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرے تو وہ الحاق کی دشمن ہے اور ہم اس دشمنی کو کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور دفعات کے خلاف جو مقدمہ سپریم کورٹ میں ہے وہ واپس لینا چاہئے اور سپریم کورٹ کو بھی چاہئے کہ وہ آئین کی محافظ ہے نہ کہ آئین ساز ہے اس لئے وہ اس کی حفاظت کا فریضہ ادا کرے۔