بلال فرقانی
سرینگر//کشمیر کی اقتصادی شہ رگ سرینگرجموں شاہراہ گزشتہ8برسوں کے دوران مجموعی طور پر 311 دنوں سے زائد عرصہ تک بند رہی، جس کے نتیجے میں وادی کی معیشت، تجارت، سیاحت اور روزمرہ زندگی کو شدید دھچکا لگا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بار بار کی بندشوں نے نہ صرف ٹرانسپورٹ نظام کو متاثر کیا بلکہ کاروباری سرگرمیوں کو بھی مفلوج بنا کر رکھ دیا۔سرکاری دستاویز ’’روڈ بلاکیڈ سمری آف این ایچ ڈبلیو لاسٹ 08 ایئرز‘‘ کے مطابق سال 2018 سے 2025 تک قومی شاہراہ 7 ہزار 467 گھنٹے سے زائد وقت تک بند رہی، جو تقریباً 311 دن بنتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق سال 2018 میں شاہراہ 1002 گھنٹے یعنی تقریباً 41 دن بند رہی جبکہ 2019 میں یہ دورانیہ بڑھ کر 1297 گھنٹے یعنی تقریباً 54 دن تک پہنچ گیا۔سال 2020 میں شاہراہ 1138 گھنٹے یا تقریباً 47 دن بند رہی جبکہ 2021 میں 549 گھنٹے یعنی تقریباً 23 دن تک ٹریفک متاثر رہا۔سال 2022 میں دوبارہ صورتحال بگڑ گئی اور شاہراہ 989 گھنٹے یعنی تقریباً 41 دن تک بند رہی۔سب سے زیادہ بندش سال 2023 میں ریکارڈ کی گئی جب قومی شاہراہ 1458 گھنٹے یعنی تقریباً 58 دن تک بند رہی۔
اسی طرح 2024 میں شاہراہ 488 گھنٹے 17 منٹ جبکہ 2025 میں 546 گھنٹے 7 منٹ تک بند رہی ہے۔کارباریوںکے مطابق شاہراہ کی مسلسل بندشوں نے وادی کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پھلوں سے لدے سینکڑوں ٹرک کئی کئی دنوں تک درماندہ رہتے ہیں، جس سے باغبانی شعبے کو بھاری مالی خسارہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ایندھن، اشیائے ضروریہ اور دیگر سامان کی سپلائی بھی متاثر ہوتی ہے۔سیاحتی شعبہ بھی اس صورتحال سے بری طرح متاثر ہوتا ہے کیونکہ شاہراہ بند ہونے کے باعث ہزاروں سیاح سفر منسوخ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جس سے ہوٹل، ٹرانسپورٹ اور دیگر وابستہ شعبوں کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔ حکام کے مطابق رام بن، بانہال سیکٹر میںپسیاں اور پتھرگر آنے، سیلابی ریلوں اور کمزور پہاڑی ڈھانچہ بار بار بندشوں کی بڑی وجہ بنتا ہے۔حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کیلئے کئی بڑے منصوبے شروع کئے ہیں جن میں ڈگڈول، پنتھیال ٹنل، شیر بی بی۔ رامسو وائڈکٹ اور دیگر ٹنل و فلائی اوور منصوبے شامل ہیں تاکہ ہر موسم میں محفوظ رابطہ یقینی بنایا جا سکے۔کشمیر تریڈر س اینڈ مینو فیکچرس فیڈریشن کے چیئرمین ابرار خان نے کہا کہ جموں، سرینگر شاہراہ کی بندش سے وادی کی تجارت کو یومیہ تقریباً 100 کروڑ روپے کا نقصان ہوتا ہے۔