سرینگر//حکومت نے جموں کشمیر کی600کے قریب تسلیم شدہ کاروباری، فلاحی، تعلیمی اور مذہبی،انجمنوں،ایسو سی ایشنوں ،سوسائٹیوںاور یونینوں کو آگاہ کیا ہے کہ 31مارچ تک متعلقہ راجسٹراروں کے سامنے تمام تازہ معلومات فراہم کریں وگر نہ نان دہندگان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔حکومت کی جانب سے جاری سرکیولر میں ان انجمنوں اور سوسائٹوں کا اندراج مختلف سرکاری محکموں میں کیا گیا ہے،اور مشاہدے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ انجمنیںضوابط کی پاسداری نہیں کر رہی ہیں۔عمومی انتظامی محکمہ کے کمشنر سیکریٹری منوج کمار دیویدی کی جانب سے جاری سرکیولر میں کہا گیا ہے ’’انجمنوں کے سلسلے میں ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرتے ہوئے مختلف محکمو ںمیںرجسٹرڈ یونینوں ،ایسو سی ایشنوں اور سوسائٹیوں کامشاہدہ کرنے کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان کی ایک بڑی تعداد کنٹرول کرنے والے ضوابط کی تعمیل نہیں کررہی ہے۔ان میں سے بیشتر انجمنوں نے اپنی رجسٹریشن کی تجدید نہیں کی ہے جبکہ مختلف عہدیداروں کے عہدوں پر انتخابات نہیں کرائے اور رنہ ہی کھاتوں سے متعلق تازہ ترین معلومات،فنڈنگ کے ذرائع و آڈٹ تفصیلات فراہم کی ہیں‘‘۔ سر کیولر میںکہا گیا ہے کہ اس معاملے کو حکام نے سنجیدگی سے لیا ہے ،اسی مناسبت سے ، تمام عہدیداروں پر زوردیا جاتا ہے کہ انجمنوں ،یونینوں ، سوسائٹیوں کو متعلقہ رجسٹرار اور اس سے منسلک تمام معلومات کو اپ ڈیٹ کریں جبکہ اس طرح کے اداروں کی فوری طور پر تمام ضروری قانونی کارروائی مکمل کی جائے‘‘۔ ان انجمنوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ31مارچ2021 تک یہ معلومات فراہم کریں ، نادہندگان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
انتظامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فہرست میں سرکاری محکموں میں مجموعی طور پر582انجمنیں،سوسائٹیاں،ایسو سی ایشنیںاوریونینوں کو شامل کیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وادی میں اس فہرست میں شامل انجمنوں کی تعداد446ہے،جن میںاننت ناگ میں49کے علاوہ ضلع سرینگر میں141،بڈگام میں13اورگاندربل میں3انجمنیں شامل ہیں۔ انتظامی ذرائع کا کہنا ہے کہ شمالی کشمیر کے کپوارہ میں11،بارہمولہ میں136اور بانڈی پورہ میں5کے علاوہ جنوبی کشمیر کے پلوامہ میں21شوپیاں میں41کولگام میں24 انجمنیں شامل ہیں۔
وادی کی انجمنوں میں امیراکدل ٹریڈرس ایسوسی ایشن،ریڈیو انجینئرس ایسو سی ایشن، جموں کشمیر ٹرانسپورٹ ایسو سی ایشن، سمال سکیل انڈسٹریزایسو سی ایشن صنعت نگر، کالج ٹیچرس ایسو سی ایشن،میونسپل ورکرس ویلفیئر ایسو سی ایشن،چیمبر آف سمال سکیل انڈسٹریز،ایم ای ایس بلڈرس ایسو سی ایشن،کنسٹرکشنل کانٹریکٹرس ایسو سی ایشن شیخ باغ،ہول سیل مٹن ڈیلرس ایسو سی ایشن نائو پورہ سرینگر،فیڈریشن چیمبر آف انڈسٹریز باغ علی مرداں،کشمیر ئنگ رائٹرس ایسو سی ا یشن،آرٹزنز ویلفیئر ایسو سی ایشن، جموں کشمیر ایڈمنسٹریٹو آفیسرس ایسوسی ایشن اور دیگر انجمنیںشامل ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ جموں صوبے سے اس فہرست میں136انجمنیں شامل ہیں،جن میں قریب70فلاحی،تعلیمی و مذہبی ادارے بھی شامل ہیں۔
جموں میں چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریزجموں، ایسو سی ایشن آف انڈسٹریز، ایسو سی ایشن آف سمال سکیل انڈسٹریز، سیمنٹ مینو فیکچرس ایسو سی ایشن،رگھوناتھ بازار بزنس ایسو سی ایشن،کانٹریکٹرس ایسو سی ایشن،الجموں کشمیر ٹرانسپورٹ آپریٹرس یونین،رایس ملز ایسو سی ایشن جموں،جموں کشمیر پٹرول ٹینکر اونرس ایسو سی ایشن،ایسوسی ایشن آف جموں ٹراول ایجنٹس،ٹریڈرس فیڈریشن وائر ہاوس،ہول سیل شو مرچنٹ ایسو سی ایشن،تنظیم علماء اہل سنت والجماعت، الفلاح ویلفیئر فائونڈیشن،الخیر فائونڈیشن ڈوڈہ،،بابا غلام شاہ بادشاہ فائونڈیشن،مدرسہ جامع ضیاء القران،سرسید میموریل سوسائٹی اور مسلم انسٹی چیوٹ آٖف ایجوکیشن ٹرسٹ اس میں شامل ہے۔محکمہ عمومی انتظامی کے ڈپٹی سیکریٹری کی جانب سے25جنوری کو اس سلسلے میں ایک آرڈر جاری کیا گیا،جس میں انتظامی سیکریٹریوں سے درخواست دی گئی کہ وہ وہ اپنے محکمہ جات میں تسلیم شدہ(راجسٹرڈ) انجمنوں(ایسوسی ایشنوں و یونینوں) کی تفصیلات کو جمع کریں۔ ان تفصیلات میں انجمنوں کے نام،مقاصد، عہداروں کی نام و فون نمبرات، آخری بار کب انتخابات ہوئے، آدیٹ شدہ بنک کھاتوں کی تفصیلات اور دیگر چیزیں شامل ہیں۔