قومی سلامتی کیلئے ملی ٹینسی کیخلاف زیرو ٹالرنس کا وژن:وزیر داخلہ
پی آئی بی
نئی دہلی//مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جمعہ کے روز نئی دہلی میں انسداد دہشت گردی کانفرنس2025کا افتتاح کیا۔ دو روزہ کانفرنس کا اہتمام حکومت ہند کی وزارت داخلہ کے تحت قومی تفتیشی ایجنسی(این آئی اے)کر رہی ہے۔ کانفرنس میں ریاستوں/ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے سینئر پولیس افسران، انسداد ملی ٹینسی سے متعلق مسائل سے نمٹنے والے مرکزی ایجنسیوں/ محکموں کے افسران اور متعلقہ شعبوں جیسے قانون، فرانزک، ٹیکنالوجی وغیرہ کے ماہرین شرکت کر رہے ہیں۔اپنے خطاب میں امیت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کے وژن کے تحت یہ سالانہ کانفرنس ابھرتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک پلیٹ فارم بن گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 3سالوں میں ہم اس کانفرنس کو سالانہ روایت بنانے کی سمت میں آگے بڑھے ہیں اور اس کے نتیجے میں ہم ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کا ایک مضبوط گرڈ بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ کانفرنس صرف سلامتی کے لیے ہندوستان کے عزم کو دہرانے کا ذریعہ نہیں ہے۔ شاہ نے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد پچھلے سال ملک اور دنیا میں پیش آنے والے دہشت گردی کے تمام واقعات کا تجزیہ کرنا اور ان کے بارے میں موصول ہونے والی انٹیلی جنس معلومات کا تجزیہ کرنا اور اس کے مطابق ہماری انسداد دہشت گردی کی صلاحیتوں کو بڑھانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی وجہ سے اب دنیا میں دہشت گردی کا منظر نامہ تبدیل ہو رہا ہے اور ہمیں بھی اس کی روک تھام کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ آج منظم جرائم کے نیٹ ورکس پر ایک ڈیٹا بیس جاری کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر ریاست کو این آئی اے اور سی بی آئی کی رہنمائی میں، آئی بی کے تعاون سے، اور اس ڈیٹا بیس کو استعمال کرتے ہوئے، اسے اپنے دائرہ اختیار میں ختم کرنا چاہیے۔مرکزی وزیر داخلہ اور تعاون کے وزیر نے کہا کہ وادی بائسرن میں حملہ ایک ایسا تھا جس نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس حملے کے ذریعے ملی ٹینٹ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو درہم برہم کرنا چاہتے تھے اور ترقی اور سیاحت کے نئے دور کو دھچکا پہنچانا چاہتے تھے،جیسا کہ کشمیر میں شروع ہوا۔ انہوں نے کہا کہ انتہائی درست انٹیلی جنس کی بنیاد پر ہماری افواج نے تینوں ملی ٹینٹوں کو بے اثر کر کے پاکستان کو ایک سخت پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کا یہ پہلا واقعہ ہے جس میں ملی ٹینسی کی کارروائی کی منصوبہ بندی کرنے والوں کو ہم نے آپریشن سندور کے ذریعے سزا دی اور جن لوگوں نے انہیں فراہم کیے گئے اسلحے سے کارروائی کی ان کو آپریشن مہادیو کے ذریعے بے اثر کر دیا گیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ دونوں سروں پر حکومت ہند، ہندوستانی سیکورٹی فورسز اور ہندوستانی عوام نے ہماری سیکورٹی فورسز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذریعے پاکستان کے ملی ٹینٹ آقائوں کو سخت اور مناسب جواب دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم نے پہلگام ملی ٹینسی حملے کی مکمل اور کامیاب تحقیقات کی ہے، جس کا دنیا بھر کی ایجنسیاں آنے والے دنوں میں مطالعہ کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ پہلگام ملی ٹینٹ حملے کی تحقیقات کے نتائج بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر دیں گے۔ شاہ نے کہا کہ جموں و کشمیر پولیس نے دہلی میں ہونے والے دھماکے کی بہترین تحقیقات کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی میں واقعہ 40 کلو گرام دھماکہ خیز مواد کے ساتھ پیش آیا، جب کہ دھماکہ کرنے سے پہلے 3 ٹن دھماکہ خیز مواد برآمد کیا گیا، اور اس سازش میں ملوث پوری ٹیم کو دہلی دھماکہ ہونے سے پہلے ہی پکڑ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پورے نیٹ ورک کی تحقیقات ہماری تمام ایجنسیوں نے انتہائی موثر انداز میں کیں۔ شاہ نے مزید کہا کہ پہلگام اور دہلی بم دھماکوں کے معاملات کی تحقیقات معمول کی پولیسنگ کی مثالیں نہیں ہیں بلکہ سخت تفتیش کی شاندار مثالیں ہیں۔ یہ اس بات کی بھی بہت اہم مثال ہے کہ کس طرح ایک مسلسل چوکس افسر ملک کو اتنے بڑے بحران سے بچا سکتا ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ جب ہم پورے ملک میں ایک مشترکہ اے ٹی ایس ڈھانچہ قائم کرتے ہیں تو یہ ہمیں ہر سطح پر یکساں تیاری کا موقع فراہم کرتا ہے۔ پورے ملک میں پولیس کے لیے اے ٹی ایس کا مشترکہ ڈھانچہ انتہائی ضروری ہے، اور ریاستوں کے تمام ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو جلد از جلد اس پر عمل درآمد کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملٹی لیئر سیکیورٹی ماڈل کی تعمیر اور ملی ٹینسی کے خلاف بے رحم انداز کے ساتھ کام کرنا- یہی وہ چیزیں ہیں جو ہمیں آنے والے دنوں میں محفوظ رکھ سکتی ہیں۔ شاہ نے کہا کہ ملی ٹینٹوں اور مجرموں کے ڈیٹا بیس کو صفر ملی ٹینسی کی پالیسی کا بنیادی اثاثہ بنایا جانا چاہیے۔ وہ ریاستوں کے پولیس ڈائریکٹر جنرلز سے توقع کرتے ہیں کہ وہ اس ڈیٹابیس فریم ورک کو صحیح معنوں میں نافذ کریں گے۔