سرینگر //جموں و کشمیر سرکار نے 31 جولائی کے بعد اعلیٰ تعلیمی ادارے اور فروغ ہنر مراکز کو مرحلہ وار کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔تاہم آف لائن کلاسوں کیلئے زیر تعلیم طلبہ اور عملہ کی کورونا مخالف ٹیکہ کاری کی لازمی ہوگی۔سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کو دفتری کام کاج کیلئے محدود عملہ کی موجودگی کی شرط پر سکول کھولنے اور عیدالالضحیٰ کو دیکھتے ہوئے 19 اور 20جولائی سے دکانیں صبح 6 بجے سے کھولنے کی اجازت دی ہے۔ 16 جولائی کو چیف سیکریٹری کی زیر نگرانی سٹیٹ ایگزیکٹیو کمیٹی کی میٹنگ کے دوران نجی اور سرکاری تعلیمی اداروں کو ٹیکہ لگوانے والے عملہ کے چند افراد دفتری کام کاج کیلئے سکولوں میں موجود رہنے کی اجازت دی گئی ہے۔ میٹنگ کے دوران بتایا گیا کہ گذشتہ ہفتہ کے مقابلے میں چند اضلاع میں کورونا صورتحال میں بہتری آئی ہے۔ روزانہ مثبت قرار دئے جانے والے کیسوں کی تعداد میں اتار چڑھائو دیکھنے کو ملا ہے اور اسلئے کورونا مخالف اقدامات برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ تمام ڈپٹی کمشنروں سے کہا گیا ہے کہ وہ 19اور 20 جولائی کے رش کو دیکھتے ہوئے صبح 7بجے دکانیں کھولنے میں ایک گھنٹے کی نرمی دیں تاکہ بھیڑ کو کچھ حدتک کم کیا جاسکے۔ حکم نامہ میں تما م میڈیکل بلاکوں میں مثبت کیسوں کی شرح پر نظر گزر رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ ڈپٹی کمشنروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ بلاک سطح پر کورونا وائرس کی روکتھام اور انتظام اور پابندیوں کا فیصلہ خود کریں، وہ بلاکوں، سرکاری اور نجی دفاتر، کیمونٹی ہالوں، شاپنگ مالوں، بازاروںمیں کورونا وائرس کی رکھتام کے احکامات کو سختی سے نافذ کرے، اگر ان بلاکوں میں مثبت کیسوں کی شرح 4فیصد سے زیادہ ہوجائے۔ تمام میڈیکل بلاکوں میں ٹیسٹنگ، رابطوں کی تلاش اور علاج پر توجہ مرکوز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ ہونے والے ٹیسٹنگ میں آر ٹی پی سی آر کی شرح 70فیصد تک بڑھائی جائے اور مثبت آنے والے افراد کو قرنطین کرکے انکو علاج و معالجہ فراہم کیا جائے اور انکے رابطوں کی تلاش میں بھی تیزی لانے کی کوشش کی جائے۔ ہر ہفتہ پنچایتی سطح کے اعدادو شمار جمع کریں گے اور تمام پنچایتوں میں مثبت کیسوں کی شرح پر نظر گزر رکھیں گے۔