سرینگر //جنگلی جانوروں کے قریبی بستیوں میں گھس آنے کے واقعات میں اضافہ سیان جانوروں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں جس کی ایک مثال چند روز قبل پتھن پلوامہ واقعہ ہے جہاں مقامی لوگوں نے بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک تیندوے کو پیٹ پیٹ کر ہلاک کر ڈالا۔ایسا نہیں ہے کہ جنگلی جانور بھی حملے نہیں کرتے بلکہ محکمہ جنگلی حیات کا کہنا ہے کہ انکی جانب سے سالانہ حملوں میں اوسطاً 20افراد اپنی جانیں گنوا بیٹھتے ہیںاور 225افراد زخمی ہوتے ہیں۔محکمہ کا کہنا ہے کہ جموں وکشمیر میں گذشتہ 8برسوں کے دوران 161افراد ان حملوں میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ 1792زخمی ہوئے ، جنہیں محکمہ کی جانب سے معاوضہ بھی ادا کیا گیا ہے ۔محکمہ کے پاس موجود عدا د وشمار کے مطابق سب سے زیادہ حملے2013.14میں ہوئے ، جس دوران 36لوگ ہلاک اور 401زخمی ہوئے ۔سال 2012.13میں 16افراد جنگلی جانواروں کا شکارہو گئے،جبکہ 314افراد زخمی ہوئے ۔سال 2015.16میں 26افراد ان حملوں میں اپنی جانیں گنوا بیٹھے، جبکہ 285افراد زخمی ہوئے ۔ 2016.17میں 21افراد ہلاک اور 157زخمی ہوئے ۔
سال 2017.18میں 15افراد ان حملوں میں ہلاک اور 152زخمی ہوئے۔ سال2018.19میں 12افراد ان حملوں میں ہلاک اور 131زخمی ہوئے ۔اسی طرح گذشتہ سال 2019.20میں 18افراد کی موت جنگلی جانوروں کے حملوں میں ہوئی اور اس دوران 120افراد زخمی ہوئے ۔نیشنل وائلڈ لائف کے 20نکاتی ایکشن پلان سے نہ صرف جنگلی جانوروں کے حملوں کے واقعات میں کمی لائی جا سکتی تھی بلکہ اگر حکومت اسے نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتی تو اس سے جنگلی جانوروں کا تحفظ بھی یقینی بنتا۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ حکومت کا یہ منصوبہ بھی ناکامی کا شکار ہوا۔20نکاتی ایکشن پلان کو2016تک پورا کرنے کا ٹارگٹ تھاتاہم یہ منصوبہ ابتدائی ایام میں ہی دم توڑ بیٹھا۔پلان کے مطابق محکمہ کے علاقے کو وسعت دینا،ممنوعہ علاقہ کیلئے موثر مینجمنٹ،جن جانوروں اور پرندوں کا تیزی سے نابود ہونے کا خطرہ ہے، ان کے تحفظ کو یقینی بنانانیز ممنوعہ علاقے سے باہر نکل کرآبادی والے علاقوں میں آنے والے جانوروں کا تحفظ ان اہم معاملات میں شامل ہیں، جن کا احاطہ ایکشن پلان میں کیا گیا ہے۔لیکن اس پر کوئی عمل نہیں ہوا اور زمینی سطح پر صورتحال ابھی بھی جوں کی توں ہے۔ جنگلی جانور انسانی آبادی میں آزاد گھوم رہے ہیں،اور جنگلاتی علاقوں کو حکومت کے زیر تعمیر پروجیکٹوں کو منتقل کرنے کی ایک دوڑ شروع ہوگئی ہے اور ابھی تک صرف پچھلے برس ہی 727ہیکٹر جنگلاتی اراضی تعمیراتی پروجیکٹوں کیلئے منتقل کردی گئی ہے۔معلوم ہو کہ محکمہ وائلڈ لائف کے ممنوعہ ومحفوظ 16000 مربع کلو میٹر کے علاقہ میں ہزاروں انواع و اقسام کے4440 نباتات ، 571جانور، 73میمل(پستان دار جانور)، 358 پرندے،68اقسام کے زمین پر رینگنے والے جانور، 14 انفیوین ، 158بٹر فلائی اور225اقسام کے حشرات الارض پائے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ محکمہ کے پاس 5 نیشنل پارک،14عالمی پناہ گاہیں اور 35 آبی پناہ گاہیں ہیں۔محکمہ کے چیف وائلڈ لائف وارڈن جموں وکشمیر سریش کمار نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا جنگلی جانوروں کے حملے میں حادثاات کے دوران جو بھی شہری ہلاک ہوتا ہے اس کو محکمہ کی طرف سے 3لاکھ روپے معاوضہ فراہم کیا جاتا ہے جبکہ حادثات میں اپاہچ ہونے والوں کو بھی 3لاکھ روپے کا معاوضہ ملتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سال2014میں یہ معاوضہ صرف 1 لاکھ تھا لیکن اب 3لاکھ کر دیا گیا ۔انہوں نے کہا کہ ان حادثات میں زخمی ہونے والوں کو 1لاکھ اور معمولی زخمی ہونے والوں کو 15ہزار روپے کا معاوضہ ادا کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ زیادہ تر دیکھا گیا ہے کہ جب انسان جنگلی جانوروں کے پیچھے بھاگتے ہیں ان سے چھڑ خوانی کرتے ہیں تو ایسی صورت میں ان پر حملے ہو جاتے ہیں ۔