پہلے اور دوسرے مرحلے میں گالندر پانپور سے رائے ڈانگرپورہ اور وائل گاندربل تک کام جاری
بلال فرقانی
سرینگر//سرینگر سیمی رنگ روڈ منصوبہ، جسے نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے تحت مختلف مراحل میں مکمل کیا جا رہا ہے، کا پہلا مرحلہ اسی سال مکمل ہونے جارہا ہے۔۔ اس روڑ کو ابتدائی طور پر دسمبر2024میں مکمل کیا جانا تھا، اور مسلسل دو ڈیڈلائنیں بھی ختم ہوچکی ہیں۔ حکام کے مطابق اس منصوبے کا مجموعی طور پر تقریباً 86 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ ابتدائی مرحلے کے تحت گالندر سے سرائے ڈانگرپورہ تک 42 کلومیٹر طویل حصے کی تعمیر کی جا رہی ہے، جس پر تقریبا ً2920 کروڑ روپے لاگت آ رہی ہے۔ اس حصے میں بڑے اورچھوٹے پل، کلوٹ اور انڈر پاسز سمیت وسیع انفراسٹرکچر شامل ہے۔ حکام کے مطابق یہ حصہ زیادہ تر مکمل ہو چکا ہے اور آخری مراحل میں ہے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کی انجینئر ارم جان نے منصوبے کی پیش رفت کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک گرین فیلڈ پروجیکٹ ہے جس میں پانچ اضلاع پلوامہ، بڈگام، سرینگر، بارہمولہ اور گاندربل شامل ہیں، اب تک تقریباً 86 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ منصوبے میں مختلف انجینئرنگ ڈھانچے جیسے3بڑے پل24چھوٹے پل اور 145کلوٹ شامل ہیں، جس کی وجہ سے تعمیراتی عمل قدرے پیچیدہ رہا لیکن کام مسلسل جاری رہا۔دوسرے مرحلے کے پہلے حصے میں سرائے ڈانگرپورہ سے وائل گاندربل تک 24.7 کلومیٹر روڑ کی تعمیر بھی جاری ہے، جس پر تقریباً 1184 کروڑ روپے لاگت آ رہی ہے۔ اس حصے میں 2فلائی اووراور2 وائڈکٹس( فلائی آوار جیسے بلند پل)سمیت127کلوٹ شامل ہیں، اور اب تک تقریباً 48 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے ڈپٹی منیجر پی ایس یادو نے کہا کہ اس حصے پر کام تیزی سے جاری ہے اور اب تک نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم کچھ تکنیکی مراحل ابھی باقی ہیں اور مکانی طور پر یہ حصہ امسال کے آخر تک مکمل ہوگا۔ ابتدائی منصوبہ بندی کے مطابق اس منصوبے کی تکمیل کی ابتدائی تکمیل کی تاریخ دسمبر 2024 تھی، جسے بعد میں بڑھا کر دسمبر 2025 کر دیا گیا۔ تاخیر کی اہم وجوہات میں زمین کے حصول میں مشکلات، معاوضے کے مسائل، موسمی حالات اور قانونی پیچیدگیاں شامل رہیں۔حکام کے مطابق اس اہم منصوبے کی تکمیل کے بعد نہ صرف سری نگر شہر میں ٹریفک کا دبائو کم ہوگا بلکہ وادی کے مختلف اضلاع کے درمیان سفر بھی زیادہ تیز، محفوظ اور آسان ہو جائے گا۔ منصوبے کو خطے کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔وزیر اعظم ترقیاتی پروجیکٹ کے تحت، نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا نے 2018 میں جموں اور کشمیرمیں بیک وقت ان نیم دائرہ نما سڑکوں پر کام شروع کیا۔ اس پروجیکٹ کا سنگ بنیاد وزیر اعظم نریندر مودی نے 2018 میں رکھا تھا۔ ابتدائی برسوں کے دوران اس سڑک کی تعمیر میں محدود پیش رفت ہوئی۔ یہ پروجیکٹ1200کروڑ روپے کے تخمینہ کی لاگت سے تعمیر ہو رہا ہے۔ابتدائی طور پر اس پروجیکٹ کی تعمیر رامکے انفراسٹرکچر لمیٹڈ کو سونپی گئی تھی، لیکن کمپنی کی جانب سے90فیصد اراضی کے حصول کی مانگ پورا کرنے میں انتظامی ناکامی نے اس میں تاخیر کی۔حکومت نے کمپنی کے ساتھ معاہدہ ختم کر دیا اور دوبارہ بولی لگانے کے بعد، پروجیکٹ کو این کے سی پروجیکٹس لمیٹڈ کو 31 مئی 2021 کو الاٹ کیا اور کمپنی نے مئی2021میں کام شروع کیا۔حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے کیلئے 42 کلومیٹر طویل سڑک کے منصوبے کے لیے 590 ایکڑ سے زائد زرعی اراضی حاصل کی گئی ہے جو پلوامہ اور گاندربل اضلاع کو بڈگام کے راستے پانپور، واتھورہ، بڈگام، دھرمنہ بڈگام اور نارہ بل کے ذریعے گرمائی دارالحکومت سری نگر کے مغربی مضافات میں جوڑے گی۔