سرینگر//انسپکٹر جنرل پولیس کشمیروجے کمار نے کہا ہے کہ جنوبی ضلع پلوامہ میں مہلوک 3جنگجوئوں میں سے 2 نوگام حملے میں ملوث تھے ۔انہوں نے کہا کہ یہ حملہ لشکر طیبہ اور البدر تنظیم نے مشترکہ طور پر کیا تھا کیونکہ پلوامہ جھڑپ میں مہلوک جنگجوئوں سے نوگام میں پولیس سے چھینی گئی رائفل کے علاوہ جنگجوئوں کی جانب سے استعمال کی گئی گاڑی برآمد ہوئی ہے۔ پولیس کنٹرول روم سرینگر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پی نے کہا کہ نوگام حملے کے 24 گھنٹوں سے بھی کم عرصہ میں پولیس نے حملے میں ملوث چار میں سے 2جنگجوئوں کو ہلاک کرکے معاملہ حل کیا۔وجے کمار نے کیا’’پلوامہ پولیس کے ساتھ سری نگر پولیس نے کچھ خاص معلومات پر کام کیا اور پلوامہ ضلع کے گھاٹ علاقے کا محاصرہ کیا،جبکہ اس سے قبل ایک بالائے زمین کارکن اشفاق احمد کو گرفتار کیا گیاتھا ، جس نے گھاٹ گاؤں کے ایک مکان میں چھپے ہوئے جنگجوئوں کے بارے میں اطلاع دی تھی ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ جنگجوئوں کو بار بار ہتھیار ڈالنے کی پیش کش کی گئی تاہم انہوں نے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا اور اس کے بجائے5 شہریوں کو یرغمال بنا دیاجس کے نتیجے میں آپریشن میں تاخیر ہوئی،جبکہ ان سے آمنا سامنارات4بجکر35منٹ پر ہوا تھا۔انہوں نے کہا کہ 3 جنگجو ہلاک ہوئے اور مہلوکین کی شناخت سہیل نثار لون ، یاسر وانی کے طور پر ہوئی ہے اور ، یہ دونوں کھریو کے رہائشی اور جنید احمد پرچھو پلوامہ کے رہائشی تھے۔آئی جی کشمیر نے کہا کہ یاسر اور سہیل نے رواں سال فروری میں جنگجوئوں کے صفوں شمولیت اختیار کی تھی اور جنیداس سال مارچ میں جنگجوئوں میں شامل ہوا تھا۔
نو گام حملے میں ملوث
انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ سہیل اور جنیدگزشتہ روزکے نوگام حملے میں ملوث تھے، جس میں پولیس اہلکار رمیز راجہ مارا گیا تھا اور اس کی بندوق چھین لی گئی تھی ۔انہوں نے کہاسہیل نے جمعرات کے روز برقعہ پہن رکھا تھا۔وجے کمار کے مطابق سہیل اور جنید البدر تنظیم سے وابستہ تھے،اور ان کے قبضے سے ایک،اے کے47رائفل ، ایک پستول اور ایس ایل آر زیر نمبر 51392 برآمدکی گئی۔ یہ وہی ایس ایل آر ہے، جو نوگام حملے کی جگہ سے چھین لی گئی تھی ۔انہوں نے مزید کہا’’اس سے واضح ہوتا ہے کہ مہلوک جنگجوئوں کی یہ جوڑی کل کے نوگام حملے میں ملوث تھی۔انہوں نے بتایا کہ لشکر طیبہ کے مزید دو جنگجو عبید اور شاہد سری نگر کے رہائشی ہیں۔وجے کمار نے بتایا کہ ایک گاڑی آلٹو زیر نمبرE/2098 JK13 جو سہیل اور جنید نے نوگام سے پلوامہ جانے کیلئے استعمال کی تھی، گھر کے باہر ملی جہاں3 جنگجو جاں بحق ہوئے۔ان کا کہنا تھا’’گاڑی گھر کے مالک کی ہے جہاں تصادم ہوا،اور ہم نے’’یو ایل پی اے‘‘ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ نوگام حملے میں مطلوب جنگجوئوں سمیت سری نگر میں کتنے جنگجو سرگرم ہیںہیں ، تو انہوں نے کہا کہ شہر میں چھ سرگرم جنگجو ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پلوامہ میں کراس فائرنگ کے دوران ایک خاتون ٹانگ میں گولی لگنے سے زخمی ہوئی جبکہ تین شہریوں کو پیلٹ سے چوٹیں آئیں‘‘۔
سیاستدانوں کی سیکورٹی
آئی جی پی کشمیر نے کہا اہم شخصیات اور سیاستدانوں کی حفاظت کرنے والے پولیس اہلکاروں کو تازہ مشورے اور تربیت دی جائے گی۔آئی جی پی کشمیر نے کہا کہ ان سیاستدانوں کی سیکورٹی اور حفاظت کا جائزہ لینے کے بارے میں کافی غور و خوض ہوا ہے جن کو خطرات کا سامنا ہے۔ انہوں نے یک سوال کے جواب میں کہا’’ہمارے اہلکار خاص الخاص شخصیات اور دیگر سیاست دانوں کے تحفظ کے لئے تعینات ہیں ، ان کو تربیت کے نئے سیشن ، معیاری عملیاتی طریقہ کاراور مشورے ملیں گے،میں یقین دلاتا ہوں کہ اگر سیاست دانوں کو نشانہ بنانے کے لئے جنگجوں کی طرف سے کوئی کوشش کی گئی، تو اسے ناکام بنا دیا جائے گا ‘‘۔انہوں نے کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں میں بی جے پی کو زیادہ خطرہ ہے اور اسی کے مطابق پولیس جنگجوئوں کے خطرات کا سامنا کرنے والوں کو مکمل سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات اٹھائے گی۔ وجے کمار نے کہا کہ ہم سب کو سیکورٹی نہیں دے سکتے ، لیکن جن لوگوں کو خطرات لاحق ہیں ، انہیں معقول سیکورٹی فراہم کی جائے گی‘‘۔آئی جی پی نے کہا ، جہاں بھی ضرورت ہو ہم سیکورٹی عملے کو تبدیل کریں گے اور اسی کے مطابق ان لوگوں کے احاطہ میں اضافہ کریں گے جن کو اس کی ضرورت ہے۔