عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران ڈیجیٹل گورننس، ضوابط میں آسانی، غیر ضروری قانونی پیچیدگیوں کے خاتمے اور اعتماد پر مبنی انتظامی نظام کے ذریعے ملک کے کاروباری ماحول میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا اور بھارت کی عالمی مسابقتی صلاحیت مضبوط ہوئی ہے۔پریس انفارمیشن بیورو (پی آئی بی) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق بھارت کا کاروباری نظام اب ایک پیچیدہ اور کاغذی کارروائیوں سے بھرپور ڈھانچے سے نکل کر سہولت پر مبنی نظام میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں شفافیت، رفتار اور کاروبار کرنے میں آسانی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔حکومت کے مطابق عالمی بینک کی ’’ایز آف ڈوئنگ بزنس‘‘ درجہ بندی میں بھارت 2014 میں 142ویں مقام سے ترقی کرکے 2019 میں 63ویں مقام پر پہنچ گیا، جبکہ آئی ایم ڈی عالمی مسابقتی درجہ بندی میں 2021 کے 43ویں مقام سے 2025 میں 41ویں مقام پر آگیا۔ اسی طرح بھارت کو عالمی بینک کے ’’گَو ٹیک میچورٹی انڈیکس‘‘ میں مسلسل اعلیٰ درجہ حاصل رہا ہے۔حکومت نے دعویٰ کیا کہ ’’اسٹارٹ اپ انڈیا‘‘ پروگرام نے ملک میں کاروباری سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع میں زبردست اضافہ کیا ہے۔ 2016 میں تسلیم شدہ اسٹارٹ اپس کی تعداد صرف 502 تھی جو مارچ 2026 تک بڑھ کر 2.23 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔
ان اداروں نے 23.3 لاکھ سے زیادہ براہ راست روزگار کے مواقع پیدا کیے۔حکومت کے مطابق تقریباً 48 فیصد اسٹارٹ اپس میں کم از کم ایک خاتون ڈائریکٹر یا شراکت دار موجود ہے، جو خواتین کی بڑھتی ہوئی معاشی شمولیت کی عکاسی کرتا ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ڈیجیٹل انڈیا لینڈ ریکارڈز ماڈرنائزیشن پروگرام‘‘ کے تحت ملک بھر میں 97.37 فیصد زمینی نقشوں کو ڈیجیٹل شکل دی جا چکی ہے۔ 29 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں 36 کروڑ سے زیادہ زمینی قطعات کو منفرد شناختی نمبر (ULPIN) دیا گیا ہے جسے ’’زمین کا آدھار‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔قومی دستاویز رجسٹریشن نظام (NGDRS) اب 17 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں فعال ہے، جس سے جائیداد کی رجسٹریشن اور زمینی ریکارڈ کی منتقلی کا عمل آسان اور شفاف ہوا ہے۔کاروبار کے لیے مختلف اجازت ناموں اور لائسنسوں کے حصول میں تاخیر کم کرنے کے لیے متعدد اصلاحات نافذ کی گئی ہیں۔ حکومت کے مطابق نیشنل سنگل ونڈو سسٹم (NSWS) کے ذریعے اب تک 8.29 لاکھ سے زائد منظوریوں کا اجراء کیا جا چکا ہے۔اسی طرح ماحولیاتی منظوریوں کے لیے ’’پریویش‘‘ پورٹل متعارف کرایا گیا، جس کے نتیجے میں منظوری کے اوسط وقت میں نمایاں کمی آئی ہے۔حکومت نے کہا کہ گورنمنٹ ای مارکیٹ پلیس (GeM)، اوپن نیٹ ورک فار ڈیجیٹل کامرس (ONDC)، پی ایم گتی شکتی اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے کاروباری سرگرمیوں اور لاجسٹکس کے نظام کو مزید مؤثر بنایا ہے۔GeM کے ذریعے اب تک 18.4 لاکھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کی خرید و فروخت ہو چکی ہے، جبکہ ONDC سے 7.64 لاکھ سے زیادہ فروخت کنندگان اور خدمات فراہم کرنے والے وابستہ ہیں۔حکومت کے مطابق پردھان منتری مدرا یوجنا (PMMY)، کریڈٹ گارنٹی اسکیم اور دیگر مالیاتی پروگراموں کے ذریعے چھوٹے اور متوسط درجے کے کاروباروں کو قرضوں تک رسائی آسان بنائی گئی ہے۔مدرا یوجنا کے تحت 2015 سے اب تک 40 لاکھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے قرضے 57 کروڑ سے زیادہ کھاتوں کے ذریعے فراہم کیے جا چکے ہیں، جن میں خواتین اور نئے کاروباری افراد کی بڑی تعداد شامل ہے۔بیان میں کہا گیا کہ 2017 میں جی ایس ٹی کے نفاذ نے متعدد بالواسطہ ٹیکسوں کو ایک نظام میں ضم کرکے کاروباری طبقے کے لیے ٹیکس ادائیگی کا عمل آسان بنایا۔جی ایس ٹی کے تحت رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد 2017 کے تقریباً 60 لاکھ سے بڑھ کر اپریل 2026 تک 1.64 کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے۔ فیس لیس اسیسمنٹ، ای-فائلنگ اور ای-وے بل جیسے اقدامات نے بھی کاغذی کارروائی میں کمی لائی ہے۔حکومت نے کہا کہ بھارت کا ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر ملک کی معاشی ترقی کا اہم ستون بن چکا ہے۔ یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) نے مالی سال 2025-26 کے دوران 24 ہزار کروڑ سے زیادہ لین دین انجام دیے جن کی مجموعی مالیت تقریباً 314 لاکھ کروڑ روپے رہی۔بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) بھی یو پی آئی کو لین دین کے حجم کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ریئل ٹائم ادائیگی نظام قرار دے چکا ہے۔احکومت کے مطابق ’’جن وشواس‘‘ اصلاحات کے تحت مختلف قوانین میں موجود سیکڑوں معمولی خلاف ورزیوں کو غیر فوجداری قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 47 ہزار سے زیادہ ضوابط اور رسمی تقاضوں کو ختم، آسان یا ڈیجیٹل بنایا گیا ہے۔حکومت کا کہنا ہے کہ کاروباری رجسٹریشن، ٹیکس نظام، زمینی انتظام، لاجسٹکس، ڈیجیٹل انفراسٹرکچر، تجارتی سہولت کاری اور دیوالیہ پن سے متعلق اصلاحات کے مجموعی اثرات نے بھارت کو سرمایہ کاری اور کاروبار کے لیے ایک مضبوط اور مسابقتی عالمی مرکز کے طور پر ابھارا ہے۔بیان کے مطابق ڈیجیٹل گورننس، پالیسی اصلاحات اور اعتماد پر مبنی ضابطہ کاری کے ذریعے بھارت میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ سازگار ماحول پیدا ہوا ہے۔