مشتاق الاسلام
پلوامہ//بورڈ آف اسکول ایجوکیشن کی جانب سے دسویں اور بارہویں جماعت کے امتحانی نتائج کا اعلان کیے جانے کے پندرہ روز گزرنے کے باوجود بورڈ کے مختلف سب آفسوں میں تاحال طلبہ کے مارکس کارڈ دستیاب نہیں ہو سکے، جس کے باعث طلبہ اور ان کے لواحقین میں شدید مایوسی اور بے چینی پائی جا رہی ہے۔ طلبہ اور والدین کا کہنا ہے کہ نتائج کے اعلان کے فورا بعد وہ روزانہ کی بنیاد پر بورڈ دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیں، تاہم انہیں ہر بار یہی جواب دیا جاتا ہے کہ مارکس کارڈ ابھی موصول نہیں ہوئے۔ والدین کے مطابق مارکس کارڈ کی عدم دستیابی کے سبب طلبہ کو آگے داخلہ لینے، اسکالرشپ فارم جمع کرانے اور دیگر تعلیمی امور میں سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ متعدد تعلیمی اداروں نے داخلوں کے لیے مارکس کارڈ لازمی قرار دئے ہیں لیکن بروقت فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے ان کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ کئی والدین نے الزام عائد کیا کہ بورڈ کی جانب سے اس اہم معاملے پر کوئی واضح وضاحت یا حتمی تاریخ نہیں دی جا رہی، جس سے بے اعتمادی میں اضافہ ہو رہا ہے۔دوسری جانب، تعلیمی و سماجی حلقوں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بورڈ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مارکس کارڈ کی فوری فراہمی کو یقینی بنایا جائے اور اس تاخیر کی وجوہات عوام کے سامنے رکھی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مستقبل سے جڑے اس اہم معاملے میں لاپرواہی ناقابلِ قبول ہے۔ طلبہ اور والدین نے بورڈ آف اسکول ایجوکیشن سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری اقدامات کرتے ہوئے سب آفسوں میں مارکس کارڈ کی تقسیم شروع کرے تاکہ طلبہ بلا رکاوٹ اپنی آئندہ تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔