بھدرواہ //روزنامہ میں کیلاڑ علاقہ کے 04 پنچایتوں کو جوڑنے والی سڑک کی خستہ حالی کی خبر شائع ہونے کے بعد انتظامیہ ایک دہائی گہری نیند سے بیدار ہوگئی اور بیرو۔ بستی سے ڈگلی سڑک پر کام دوبارہ شروع کیا ،جسے 10 سال قبل معطل کر کے رکھا گیا تھا۔اس سڑک کی تعمیر سے 16دیہات بشمول کھیلانی، بٹولی،باڈا، گوڈا، لہروٹ، سوتھا، ڈانڈا، شرنڈا، گڈی، شمپروٹہ، نالا، ڈرافدا، ڈالی، گلی،ڈوگلی اور چلی کے 10000 نفوس کو سڑک رابطہ سے جوڑا سکتا تھا۔اس سڑک کا کام 2004میں پی ایم جی ایس وائی کے تحت شروع کیا گیا تھا،جسکی تکیمل کا نشانہ 18ماہ مقرر کیا گیا تھا لیکن14سال گُذر جانے کے بعد بھی اس سڑک کا فاعدہ عام لوگوں کو میسر نہ ہوسکا کیونکہ اس سڑک کی کام 2008. میں نہ جانے کن وجوہات پر معطل کر کے رکھی گئی تھی۔سیاسی نمائندوں اور انتظامیہ او ر پی ایم جی ایس وائی حُکام کی جھوٹی یقین دہانیوں سے تنگ آنے کے بعد ان 04 پنچایتوں کے عوام نے اتفاق رائے سے ایک اجلاس میں فیصلہ لیا تھا کہ اگر بئیرو، باستی سے ڈوگلی پردھان منتری گرامین سڑک یوجنا کے تحت اس سڑک کیک مرمت نہیں کی جاتی ہے تو وہ آنے والے 2019 عام انتخابات کا بائیکاٹ کریں گے۔اور جب روزنامہ کشمیر عظمیٰ نے اس خبر کو اپنے09جون کے شمارہ میں شائع کیا تو انتظامیہ حرکت میں آئی اوراس سڑک پر کام دوبارہ شروع کیا ہے۔ان پنچایتوں کے عوام نے کشمیر عظمیٰ کا شُکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ اس روزنامہ کی بدولت ہی اس سڑک پر ایک دہائی کے بعد کام دوبارہ شروع ہوا ہے۔بھاڈا دیہات کے ایک معمر دیو راج نے کہا کہ ہم نے یہ امید ہی چھوڑی تھی کہ اس سڑک پر بھی کبھی گاڑیاں چلیں گی لیکن کشمیر عظمیٰ نے ہمیں پُر امید بنایا جسکی وجہ سے اس سڑک پر کام دوبارہ شروع ہوا ہے۔