ساری دنیا کی طرح وادیٔ کشمیر میںبھی پھیلی ہوئی وبائی بیماری کی تباہ کاریاں دیکھ کرہر کوئی لرزہ براندام ہیں ہے ۔ہر حلقہ اور ہر طبقہ سے وابستہ لوگ وبائی بیماریوں پر اپنی آراء پیش کررہے ہیں،تبصرے اور تجزیے کرنے والے بھی اپنے علم کی ساری دولت نچھاور کررہے ہیں ۔دینی اور دنیاوی علوم کے واقف کار،سائنس و حکمت کے جانکار وماہرین اورڈاکٹروں سمیت دانشور،ادیب و قلم کار اپنی جانکاری اور حساب دانی کے تحت جہاںوبائی بیماریوں کے نزول اور ان سے بچائو کے حقائق وقصے سُنا رہے ہیں وہیں احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے کے فوائد بھی بتا رہے ہیں اور اپنی فکر و فہم کے مطابق زمینی ، آسمانی،جغرافیائی اور سائنسی دلائل پیش کررہے ہیں۔کسی کا علم اس بات پر خرچ ہوجاتا ہے کہ کیا اکیسویں صدی کے اس سائنس و ٹیکنالوجی کے جدید دور میں بھی انسان اِس قدر نااہل و نابکار ہے کہ اُس کے پاس ایسی آفتوں سے نمٹنے یا ان پر روک لگانے کا کوئی سازو سامان ہی نہیں ہے۔ کوئی سائنس دانوں،ڈاکٹروں اور طبی ماہرین کی کوتاہ اندیشی کی بات کررہا ہے اور کوئی حکومتوں کو قصوروارقرار دے رہا ہے اور کوئی عام لوگوں کو احتیاطی تدابیر کو بالائے طاق رکھنے پر جاہل،گنوار ،کوتاہ اندیش اور توہم پرست کے القاب سے نواز کر کوستا رہتا ہے ۔خیر!اپنی اس وادی کے بعض عوامی حلقے یہ سوال بھی کرتے ہیں کہ ہم توسادہ لوح لوگ ہیں،امن پسند ہیں، باشعور ہیں،غمزدہ ہیں،بد مست نہیںہیں،گذشتہ تین دہائیوں سے شدید مصائب و آلام کے شکار ہیںاوربدستورنا مساعد حالات میں کسم پُرسی کی حالت میںجی رہے ہیںتوپھر ہم پر یہ وباء کیوں ٹوٹ پڑی ہے؟بقول ِ اُن کے جو بد مست ہیں،جو ظالم وجابر ہیں ،جو گناہوں میں لتھڑے ہوئے ہیں، اللہ نے یہ عذا ب صرف اُنہی پر نازل کیوں نہیں کیا؟جبکہ اس وباء کو ہمارے گناہوں کی سزاکہہ کر ہم مفلوک الحال کا مذاق اُڑایا جارہا ہے۔
قارئین کرام !لوگوں کے اس سوال پر مجھے امام ِ کائنات سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو احادیث یاد آتے ہیںاورمیری آنکھیںاپنے گریباں میں گڑ جاتی ہیں،پُر نم ہوجاتی ہیںاور شرمسار ہوکرفکر و فہم میں یہی بات اُبھرآتی ہے کہ شائد وہ خطا کار اور قصور وار میں ہی ہوں، جس کے گناہوں کی سزامیری ملت کے معصوم لوگوں کو مل رہی ہے ۔ حدیث شریف میںجناب سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:’’جس وقت غنیمت کو ذاتی دولت ٹھہرایا جائے ،امانت کو غنیمت سمجھا جائے ،زکواۃ کو تاوان سمجھا جائے ،آدمی اپنی بیوی کی اطاعت کرے ،اپنی ماں سے نافرمانی کرے، اپنے باپ کو اپنے سے دور رکھے ،فاسق و فاجر شخص کو اپنے قبیلے کا سردار بنائے،ذلیل اور کمینہ شخص کو قوم کا رہبر سمجھا جائے،آدمی کی عزت اس کے شَر کے ڈر سے کی جائے،گانے بجانے والیاں اور باجے ظاہر ہوجائے،شراب پی جائے،جوا کھیلا جائے اور اُمت کے لوگ اپنے پہلے گذرجانے والوں پر لعنت بھیجیں تو پھر انتظار کرو اُس وقت سرخ ہوا کا ،زلزلوں کا ،زمین کے دھنس جانے کا ،پتھروں کے برسنے کا ،وبائی بیماریاں پھوٹنے کااور پے درپے نشانیوں کا جیسے موتیوں کی لڑی ٹوٹ جائے اور دانے پیہم گرنے لگیں ‘‘۔میں یہ حدیث مبارکہ پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ اِن میںبھَلا اُن لوگوں کا کیا قصور جو خاموش ہیں ،پُر امن ہیں،مہذب ہیں،چپ چاپ نیکی کے ساتھ اپنی زندگی گزار رہے ہیں ۔ان پر عذاب کیوںاُترے۔توجناب!پھر میں مسند احمد میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشادِ گرامی سے کانپ کر رہ جاتا ہوں ۔آ پ ؐ نے فرمایا ہے :’’ اللہ عام لوگوں پر خاص لوگوں کے عمل کے باعث اس وقت تک کوئی عذاب نازل نہیں کرتا جب تک ان میں یہ عیب پیدا نہ ہوجائے کہ اپنے سامنے بُرے اعمال ہوتے دیکھیں اور انہیں روکنے کی قدرت رکھتے ہوئے بھی انہیں نہ روکیں ۔جب وہ ایسا کرنے لگتے ہیں تو پھر اللہ عام اور خاص سب پر عذاب نازل کرتا ہے ‘‘۔اب ذرا اگرآپ بھی غور کریںاور دنیا بھر کے موجودہ ترقی یافتہ ، ترقی پذیر اور دیگر غریب و پسماندہ اقوام پر نظر ڈالیں تو دنیا کا کون سا خطہ ایسا ہے جہاں کی قوم متذکرہ بالا خرابیوں، بُرائیوں، رَزالت، غفلت اور کوتاہیوں سے صاف و پاک ہے اور اس عذاب الٰہی سے مستثنیٰ ہے؟
قارئین کرام!اپنی اس وادی ٔ کشمیر میں اس وبائی بیماری کے پھیلنے کے بعد مشاہدے میں یہ بات بھی آرہی ہے کہ جن لوگوں کے عزیز و اقارب اس بیماری کی نذر ہوگئے ہیں یا جو گھرانے متاثر ہوچکے ہیں،اُن میں سے بیشتر متاثرین نفسیاتی مسائل سے دوچار ہورہے ہیں،خاص طور پر اپنوں کی بے رُخی اور دوسروں کی بے مروتی سے اُن میں جو کیفیات پیدا ہورہی ہیں ان میں بیزاری،کام کاج سے دوری،بیگانگی،احساسِ گناہ،اُکتاہٹ،اور زندگی سے مایوسی نمایاںہیںاورجو لوگ اس بیماری سے شفایاب ہوئے ہیں، اُن کے خیالوں اور خوابوں میں تباہی کے مختلف مناظر نمودار ہوتے رہتے ہیں جس کے باعث وہ صدمے سے پوری طرح باہر ہی نہیں آتے اور یہ بات اُن کے لئے انتہائی اذیت ناک ثابت ہورہی ہے ۔ظاہر ہے کہ ایسی کیفیات میں انسان کو مسلسل توجہ،ہمدردی ،رفاقت،حُسنِ سلوک اور اپنے غموں میں دوسروں کی شرکت کا احساس دلانے کی اشد ضرورت رہتی ہے ،مگرلاک ڈاون ،سماجی دوری ،احتیاطی تدابیر،بے کاری،بے روز گاری،مالی دشواری اور کئی دوسرے مسائل کے پیش نظر ہمارے بیشترکورونا متاثرین کے لئے ایسی ساری ضروریات کافی حد تک فراموش کی جارہی ہیں۔ جس کے نتیجہ میںاُن کے حوصلے کمزور ہورہے ہیں،اُن کا عزم متزلزل ہورہا ہے اور ان میںموجود بہترین صلاحیتیں بھی متاثر ہوجاتی ہیںاوریہ تشویش ناک صورت اس وقت پیدا ہورہی ہے جب کہ ابھی اس وادیٔ کشمیر میں کرونا ؔ نامی وبائی بیماری اپنے ابتدا ئی مرحلے میں ہے اور روزانہ آٹھ دس انسانی زندگیوں کو نِگل رہی ہے اور سینکڑوں لوگوں کو متاثر کرتی جارہی ہے۔یہ وبائی بیماری آخری مرحلے میں داخل ہونے تک کتنی تباہی مچائے گی، اس کے متعلق کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا ۔یاد رہے کہ عالمی صحت ادارے نے دو ماہ قبل یہ بات واضح کردی ہے کہ ہوسکتا ہے یہ وبائی وائرس انسانی معاشروں کا ہی حصہ بن جائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے یہ بیماری کبھی ختم ہی نہ ہوجائے جبکہ عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وبائی بیماری سے نجات پانے کے لئے کسی دوائی یا ویکسین کی تیاری بہت سنجیدہ اور دیرینہ کوشش کی متقاضی ہے۔اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ محض پیسے کے بلبوتے یا فنڈس کی فراہمی کی بنیاد پر ویکسین نہیں بنتے ہیں ،ایک موثر ویکسین بنانے کی کم از کم مدت چار سال اور زیادہ سے زیادہ اٹھائیس سال ہے۔خاص طور پر ایک ایسے وائرس کے لئے جو جدید اور انتہائی خطر ناک ہواور اس کی تمام تر خاصیتوں کا علم سائنسی دنیا کو بھی نہ ہو ا ہو۔اس لئے اگر کوئی ویکسین بنائی جاسکے تو وہ اُس وائرس کے لئے غیر موثر ثابت ہوسکتی ہے جو وائرس تبدیل ہوجاتا ہے چنانچہ کورونا وائرس ایک ایسا ہیRNA وائرس ہے جو تبدیل ہورہا ہے ،اسی لئے اس کے لئے بنائی گئی ویکسین بھی بے اثر ہوجاتی ہے۔اس لئے لازم ہے کہ جب تک اس وبائی بیماری کی انتہا نہ ہوجائے تب تک انسان اُن احتیاطی تدابیر پر حتی المکان عمل کرتا رہے جو طبی ماہرین کی طرف سے جاری کردئے گئے ہیں،کیونکہ ربط و ضبط اور پر ہیزاعلیٰ ترین معالج ہے اورکسی بھی خطرے سے بچائو تدابیر پر عمل نہ کرنا ہلاکت کاموجب بن جاتا ہے۔یا د رہے کسی بھی چیز کی انتہا تب ہوتی ہے جب اس کا خاتمہ یقینی بن جاتا ہے ،چونکہ ابھی تک کورونا وائرس کے مکمل خاتمے کے لئے کوئی ویکسین بن ہی نہیں پارہی ہے اس لئے اس کی انتہا نہیں ہوئی ہے۔یہاں یہ بات بھی کہنا ضروری سمجھتا ہوںکہ اس وبائی بیماری سے بچنے کے لئے اپنے آپ کو ،اپنے اہل وعیال کو،اپنے اردگردکے لوگوں کو محفوظ رکھنے کے لئے ہمیں خود ہی ایسے ٹھوس فیصلے لینے ہوں گے جن کے تحت کرونا ؔنامی اس وبائی بیماری کے ساتھ جی سکیں۔ہمارے یہاں کے ذرائع ابلاغ اور میڈیا کو بھی یہ نازک معاملات پیش نظر رکھنے چاہئیں،انہیں ہر معاملے اور ہر مسئلے پر صرف تنقیدی پہلووں کو ہی اُجاگر نہیں کرنا چاہئے ،بلکہ تعمیری کاموں کی ترغیب کو اہمیت دینا چاہئے ۔خصوصاًمتاثرین کو مختلف تبصروں،تجزیوں، خبروں اور رپورٹوں میں یہ اُمید دلانا چاہئے کہ جن مسائل سے وہ دوچار ہوئے ہیں، وہ کسی انسان کے پیدا کردہ نہیںہیں ۔یہ قدرت کا نظام ہے جس کے تحت وباء، طوفان،زلزلہ اور سیلاب بھی آتے رہتے ہیں ۔ان کی وجوہ نظام فطرت کے تحت ارض و سماع میں جاری وہ تغیرات ہیں جو ہر وقت رونما ہوتے ہیں ۔یہی تغیرات زمین پر زندگی کو برقرار رکھنے کا کام کرتے ہیں ۔کبھی کبھی ان میں تناسب کا فرق پڑنے سے کوئی بڑی تبدیلی رونما ہوتی ہے ۔انسانی تدبیروں سے تباہیوں کی شدت میں کمی ضرور لائی جاسکتی ہے لیکن ان سے مکمل نجات حاصل نہیں کی جاسکتی،جو کچھ زمین کامقدر ہے وہی انسان کا بھی مقدر ہے۔ہمارے اسلاف نے مختلف قدرتی آفات کا مقابلہ کرتے ہوئے زندگی کا سلسلہ جاری رکھا اور ہمیں بھی یہی کچھ کرنا ہے ۔انسان کی عظمت اس میں ہے کہ وہ تباہی اور سانحوں کا شکار ہوجانے کے بعد بھی نئی ہمت ،حوصلے اور ولولے کے ساتھ دوبارہ زندگی کے معمولات شروع کردیتا ہے ،ہر سانحے کا تلخ تجربہ اسے نئے سانحوں سے بچنے کے طریقے سیکھنے کی ترغیب دیتا ہے ۔وادیٔ کشمیر کے کرونا متاثرین کو بھی اپنی آئندہ نسلوں کو اچھی زندگی فراہم کرنا ہے ۔ان کے لئے حوصلے اور ہمت کی ضرورت ہے ۔ان کے جذبہ استقلال کو پہلے سے زیادہ قوی ہونا چاہئے۔