ایجنسیز
ماسکو//روسی حکام کے مطابق یوکرین کے ایک طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملے کے نتیجے میں مغربی سائبیریا کے شہر تیومین میں واقع ایک بڑی آئل ریفائنری میں آگ لگ گئی۔ یہ تنصیب یوکرین کی سرحد سے تقریباً دو ہزار کلومیٹر دور واقع ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یوکرین اب روس کے اندر دور دراز توانائی کے انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تیومین کے گورنر الیگزینڈر مور نے بتایا کہ ہنگامی امدادی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں، تاہم نقصان یا ریفائنری کی پیداوار پر اثرات کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ ماہرین کے مطابق اس ریفائنری کی سالانہ پیداواری صلاحیت تقریباً 80 لاکھ ٹن ہے، جہاں سے بڑی مقدار میں پیٹرول اور ڈیزل تیار کیا جاتا ہے۔ اگر اس کی پیداوار متاثر ہوئی تو روس میں ایندھن کی پہلے سے جاری قلت مزید بڑھ سکتی ہے۔دوسری جانب روس کے زیرِ قبضہ یوکرینی علاقے زاپوریڑڑیا میں ماسکو کے مقرر کردہ حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرینی حملے میں سیاحتی مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں آٹھ افراد ہلاک اور 14 زخمی ہوئے، جبکہ ہلاک ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔ یوکرین نے اس دعوے پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ادھر یوکرین کے شمال مشرقی علاقے سومی میں روسی ڈرون حملے کے نتیجے میں تین افراد ہلاک ہو گئے۔ مقامی حکام کے مطابق ڈرون نے ایک شہری تنصیب کو نشانہ بنایا، جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ ہلاک ہونے والے نجی کوریئر کمپنی نووا پوشتا کے ڈرائیور تھے۔ روسی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس نے سومی میں یوکرینی ڈرونز کے ذخیرہ اور لانچنگ مقام کو نشانہ بنایا۔