ایجنسیز
تہران//تقریباً دو ہفتوں تک مسلسل امریکی فضائی حملوں کے بعد ایران نے ہفتہ کی صبح بتایا کہ گزشتہ رات اس پر کوئی حملہ نہیں ہوا۔ تاہم آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے تنازعے کے باعث خطے میں کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ایرانی وزارت صحت کے ترجمان حسین کرمان پور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’’ایران نے ایک پْرامن رات گزاری‘‘ اور کسی حملے کی اطلاع نہیں ملی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے اس بارے میں فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا، جبکہ گزشتہ 13 راتوں کے برعکس اس بار نئے فضائی حملوں کا بھی اعلان نہیں کیا گیا۔جولائی کے آغاز میں ایک عارضی جنگ بندی ٹوٹنے کے بعد کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔ ایران پر آبنائے ہرمز میں تین بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا گیا، جس کے جواب میں امریکہ نے ایران میں درجنوں اہداف پر حملے کیے۔ ایران نے اس کے ردعمل میں خطے کے عرب ممالک میں اہداف کو نشانہ بنایا۔آبنائے ہرمز، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ ہے، اس تنازعے کا مرکزی محور بنی ہوئی ہے۔ جمعے کو امریکی فوج نے خلیج عمان میں ایک تجارتی جہاز پر بھی فائرنگ کی، جس پر ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کا الزام تھا۔ دوسری جانب ایران نے امریکہ کے اتحادی خلیجی ممالک کو بھی نشانہ بنایا۔