کیف//یوکرین کے یومِ آزادی کے موقع پر روسی فوج نے یوکرین کے ریلوے اسٹیشن پر حملہ کر دیا، جس کے نتیجے میں 22 افراد ہلاک، اور 50 زخمی ہو گئے۔تفصیلات کے مطابق کیف میں حکام نے کہا ہے کہ ملک کے یوم آزادی کے موقع پر مشرقی یوکرین میں ایک روسی میزائل حملے میں 22 شہری ہلاک اور ایک مسافر ٹرین کو آگ لگ گئی۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے جذباتی وڈیو خطاب میں یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ روسی راکٹ مشرقی یوکرین میں ٹرین سے ٹکرائے، انھوں نے کہا روس کے حملے نے یوکرین کو دربارہ جنم دیا ہے، ہم روسی فوج کو یوکرین سے مکمل طور پر نکال دیں گے۔دوسری طرف یوکرین کے یومِ آزادی پر دارلحکومت کیف سمیت دیگر شہروں میں کرفیو نافذ رہا، ہر قسم کے عوامی اجتماع پر پابندی عائد رہی، جب کہ امریکا، یونان، برطانیہ، جرمنی، بیلجیم اور کینیڈا میں یوکرین کے یومِ آزدی پر شہریوں نے ریلیاں نکالیں اور روس کی یوکرین میں کارروائی کی شدید مخالفت کی۔بدھ کو دیر گئے اقوام متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ راکٹ مشرقی یوکرین میں ڈونیٹسک سے تقریباً 145کلومیٹر (90 میل) مغرب میں واقع چیپلین قصبے کے ایک اسٹیشن پر ایک ٹرین سے ٹکرائے۔مسٹر زیلنسکی نے کہا کہ امدادی کارکن کام کر رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ یوکرین کی صدارتی انتظامیہ کے نائب سربراہ اور زیلنسکی معاون کیریلو تیموشینکو نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک پیغام میں کہا کہ حملے میں ایک 11 سالہ بچہ بھی ہلاک ہوا۔معاون نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ روسی افواج نے چیپلین پر دو بار گولہ باری کی، پہلے حملے میں ایک لڑکا مارا گیا جب ایک میزائل اس کے گھر پر لگا، اور 21 افراد بعد میں اس وقت مارے گئے جب راکٹ ریلوے اسٹیشن پر گرے اور ٹرین کی پانچ بوگیوں کو آگ لگ گئی۔خیال رہے کہ بدھ کو یہ حملہ اس وقت ہوا جب زیلنسکی نے خبردار کیا تھا کہ روس یوکرین کی آزادی کی 31ویں سالگرہ کے موقع پر تقریبات میں خلل ڈالنے کے لیے کوئی سنگین حرکت کر سکتا ہے، بدھ کو روس یوکرین جنگ کو بھی 6 ماہ مکمل ہو گئے ہیں۔
امریکہ کا3 ارب ڈالرز فوجی امداد کا اعلان
نیویارک //امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کے لیے مزید تقریباً 3 ارب ڈالر کی فوجی امداد کا اعلان کیا، کیف کے یوم آزادی کے موقع پر اعلان کردہ یہ پیکج اب تک کا سب سے بڑا امریکی پیکج ہے۔ امریکا کی جانب سے اس بڑے پیکج کا اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کہ حکام نے متنبہ کیا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ روس آنے والے دنوں میں یوکرین کے شہری انفرا اسٹرکچر اور سرکاری تنصیبات پر نئے حملوں کا منصوبہ بنا رہا ہے۔جو بائیڈن نے پیکج کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے لڑنے والے یوکرینی عوام کی حمایت کے لیے پرعزم ہے۔اعلان کردہ نیا پیکیج یوکرین سیکیورٹی اسسٹنس انیشی ایٹو کے فنڈز میں سے دیا جا رہا ہے، اس فنڈ کو کانگریس نے منظور کیا تھا تاکہ جو بائیڈن انتظامیہ یوکرین کی مدد کے لیے موجودہ امریکی ہتھیاروں کے ذخائر میں سے ہتھیار لینے کے بجائے اسلحہ ساز کمپنیوں سے ہتھیار خرید سکے۔امریکی صدر نے روسی حملے کے خلاف یوکرین کی مزاحمت کی تعریف کی، انہوں نے کہا کہ 2 ارب98 کروڑ ڈالر کے ہتھیاروں اور دیگر آلات کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ یوکرین طویل عرصے تک اپنا دفاع جاری رکھ سکے۔جو بائیڈن نے کہا کہ تقریباً 2ارب98 کروڑ ڈالر کی امداد سے یوکرین فضائی دفاعی نظام، انتہائی جدید جنگی سازوسامان اور ریڈارز حاصل کر سکے گا اور اس بات کو یقینی بنانے گا کہ وہ طویل عرصے تک اپنا دفاع جاری رکھ سکتا ہے۔پینٹاگون نے بتایا کہ نئے پیکج میں زمین سے فضا میں ہدف کو نشانہ بنانے والے 6 اضافی میزائل سسٹمز شامل ہوں گے، ان میزائل سسٹمز کو ناسمز کہا جاتا ہے، 24 کاؤنٹر آرٹلری ریڈارز، پوما ڈرونز کے ساتھ ویمپائر نامی انسداد ڈرون سسٹم بھی شامل ہوں گے۔جنوری 2021 میں جو بائیڈن انتظامیہ کی جانب سے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے لے کر اب تک یوکرین کو مجموعی طور پر، امریکا 13ارب 5 کروڑ ڈالر سے زیادہ کی سیکیورٹی امداد کا وعدہ کرچکا ہے۔جنگ عظیم دوئم کے بعد یورپ میں ہونے والی سب سے بڑی جنگ میں دونوں ممالک کے ہزاروں فوجی اور شہری مارے جا چکے ہیں۔