ماسکو//یوکرین کے شہروں خارکیف، چرنی ہیف اور ماریو پول پر روس کے حملے جاری ہیں جبکہ دارالحکومت کیف میں بھی لڑائی جاری ہے ۔یوکرین کے صدارتی ترجمان کے مطابق روس کے حملوں میں وینیسا ائیرپورٹ مکمل طورپرتباہ ہو گیا ہے ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق یوکرین کے دارالحکومت کیف کے قریبی علاقے ارپن میں روسی افواج کی شیلنگ میں 3 شہری ہلاک ہو گئے اور ایک پل بھی تباہ ہوا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی افواج کی پیشقدمی روکنے کے لیے یوکرین آرمی نے ارپن اور بوجا دریاؤں کے پل تباہ کر دیئے جس کے باعث بڑی تعداد میں شہریوں کا ارپن کے علاقے سے انخلا جاری ہے ۔روسی صدر سے ترک اور فرانسیسی صدور نے ٹیلی فونک گفتگو کی جس میں یوکرین میں جنگ بندی پر زور دیا گیا۔روسی صدر نے جواب دیا کہ یوکرین کی طرف سے لڑائی بند کرنے پر ہی یوکرین میں فوجی آپریشن رُکے گا، کسی بھی طرح روس اپنے مقاصد حاصل کر کے رہے گا۔جنگ زدہ علاقوں سے شہریوں کا انخلا جاری ہے اور یوکرین پر 24 فروی کے روسی حملے کے بعد سے اب تک 10 لاکھ سے زائد پناہ گزین پولینڈ میں داخل ہو چکے ہیں۔روسی فوج کے حملے کی صورت میں مزاحمت کے لیے یوکرین کی راجدھانی کیف کی ا ہم شا ہراؤں پر چیک پوسٹ بنادیئے گئے ہیں۔ ادھریوکرین کے تعلیم اور سائنس کے وزیر سرہی شکرلیٹ نے کہا کہ تقریباً 1700 غیر ملکی طلباء سومی شہر میں پھنسے ہوئے ہیں۔مسٹر شکرلیٹ نے یہ معلومات یوکرین کے ٹی وی چینل کو دی۔مسٹر شکرلیٹ نے کہا‘‘اب تک سومی میں تقریباً 1,700 غیر ملکی طلباء پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم ان کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔ طلباء بنکروں میں محفوظ ہیں۔ انہیں گرم کھانا اور پانی فراہم کیا جا رہا ہے ، کیونکہ اس وقت ان کا جانا ہر کسی کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ۔’’24 فروری کو روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے یوکرین پر زبردست حملہ کیا۔ روسی فوج گولہ باری کر رہی ہے اور بڑے انفراسٹرکچر کو تباہ کر رہی ہے ۔ اس کے علاوہ ان کی فوج رہائشی عمارتوں پر میزائل اور راکٹ برسا رہی ہے ۔