ناٹو ،امریکہ اور برطانیہ نے شکوک کا اظہار کردیا
بروسیلز//روس اور یوکرین کے درمیان جاری تنازع پر ناٹو نے روسی افواج کی جزوی واپسی کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے روس پر فوجی دستے بڑھانے کا الزام عائد کردیا۔ناٹو اور امریکہ کا کہنا ہے کہ روسی فوج کا جزوی یا واضح انخلا دیکھنے میں نہیں آیا، لیکن کریملن سے سفارت کاری جاری رکھنے کے اشارے ملے ہیں۔ یوکرین کے وزیر دفاع کا کہنا ہے ملک میں سیکورٹی صورتِ حال مستحکم ہے ۔دوسری جانب روس یوکرین کشیدگی میں کمی کے آثار کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 4 فیصد تک کمی دیکھی گئی ہے ۔ادھرروس نے کہا ہے کہ یوکرین کے اردگرد موجود مزید افواج دستبردار ہو کر واپس بلائی جا رہی ہیں لیکن امریکا اور برطانیہ نے روس کے ارادوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات پر یقین نہیں ہے کہ انخلا حقیقی ہے یا نہیں۔یوکرین میں وزارت دفاع نے کہا کہ اس کے ویب پورٹل کو لگاتار دوسرے دن ایک بڑے سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے۔عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انخلا کے حوالے سے سب سے اہم عنصر یہ ہوگا کہ مشرق بعید کے روسی دستے اس ہفتے بیلاروس میں ہونے والی بڑی مشقوں میں حصہ لے کر ہزاروں میل دور اپنے اڈوں پر واپس جاتے ہیں یا نہیں۔برطانوی وزیر دفاع بین والیس نے بتایا کہ ہم نے انخلا کے حوالے سے کوئی ثبوت نہیں دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ زمینی حقائق کی بنیاد پر ہم جو مشاہدات دیکھ رہے ہیں وہ روس کے حالیہ بیانات کے برعکس ہیں۔