عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// نیشنل کانفرنس صوبہ کشمیر کے خواتین ونگ کا ایک طویل اور اہم اجلاس کل پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح پر منعقد ہوا، جس کی صدارت پارٹی صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ آنے والے پنچایتی اور بلدیاتی انتخابات میں خواتین کیلئے 33فیصد نشستیں مخصوص ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ آج سے ہی باصلاحیت، تعلیم یافتہ، قابل اور عوامی ساکھ کی حامل خواتین کو آگے لایا جائے تاکہ وہ عوام کی بہتر نمائندگی کرسکیں اور جمہوری نظام میں موثر کردار ادا کریں۔انہوں نے کہا کہ جموںوکشمیر میں بھاری عوامی مینڈیٹ کے ذریعے ایک جمہوری حکومت قائم ہوئی، تاہم نئی دلی نے یہاں غیر جمہوری نظام جاری رکھا ہے۔ یوٹی نظام و افسر شاہی راج کی وجہ سے عوامی حکومت کو مختلف رکاوٹوں کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت انتہائی مشکل حالات میں بھی عوامی فلاح و بہبود، تعمیر و ترقی اور لوگوں کی راحت رسانی کیلئے سنجیدگی اور خلوص کیساتھ کام کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جب جموںوکشمیر کو خصوصی آئینی حیثیت حاصل تھی اور ریاستی درجہ برقرار تھا تب بیوروکریسی عوامی نمائندوں اور منتخب حکومت کے تابع ہوتی تھی، لیکن دفعہ370 اور 35اے کی منسوخی کے بعد اختیارات محدود ہوگئے ہیں۔ فاروق عبداللہ نے تمام وزراء ، اراکین پارلیمان اور اراکین اسمبلی کو ہدایت دی کہ ترقیاتی منصوبوں کی تیاری، فنڈس کی تقسیم اور عوامی فلاحی پروگراموں کے نفاذ کے دوران خواتین ونگ کی عہدیداروں کی رائے اور مشاورت کو ترجیح دی جائے تاکہ خواتین کے مسائل اور ضروریات کو موثر انداز میں حل کیا جاسکے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کے منشور میں خواتین کی سیاسی، سماجی اور معاشی شعبوں میں مساوی شمولیت کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔