ہزاروں عزاداروں کی نوحہ و مرثیہ خوانی، جگہ جگہ سیکورٹی کے وسیع انتظامات
سرینگر//جمعہ کو یوم عاشور پورے جموں و کشمیر اورلداخ میں مذہبی عقیدت و احترام کیساتھ منایا گیا۔اس مقدس دن کے سلسلے میں شہر سرینگر پٹن اور بڈگام کے علاوہ کرگل میں بڑے بڑے ماتمی جلوس بر آمد ہوئے۔ یوم عاشورہ کامرکزی روایتی جلوس بوٹا کدل سے امام باڑہ زڈی بل تک نکالا گیا ۔جلوس ذوالجناح میں سیاہ لباس پہنے ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی ۔ عاشورہ اور جلوس ذوالجناح کے پیش نظر جڈی بل اوربوٹہ کدل سمیت کئی علاقوںمیں جموں وکشمیر پولیس اورسیول انتظامیہ کی جانب سے سیکورٹی کیساتھ ساتھ عزاداروں کی راحتاور فوری طبی سہولیات فراہم کرنے کیلئے بھی خصوصی اسٹال اور کیمپ لگائے گئے تھے ۔
کشمیر میں 10محرم کویوم عاشورہ کاسب سے بڑا اور مرکزی اجتماع زڈی بل سری نگرمیں منعقدہوا،جس میں شرکت کیلئے وادی کے مختلف حصوں سے ہزاروںکی تعدادمیں عزادار جمعہ صبح سے جمع ہوئے اور یہاں شہدائے کربلا کی یادمیں مرثیہ اورنوح خوانی کرتے رہے اور مجالس کے ذریعے شہدائے کربلاکو خراج عقیدت پیش کیاگیا۔ بوٹہ کدل سے ذوالجناح اور علم شریف کاجلوس نکالا گیا ،جس میں ہزاروں لوگوںنے شرکت کرکے شہدائے کربلا کے تئیں اپنی والہانہ محبت وعقیدت کااظہارکیا ۔راستے میں عزاداروں کو جگہ جگہ پانی کی بوتلیں اور دیگر مشروبات فراہم کی گئیں ۔مرثیہ اور نوح خوانی کرتے ہوئے ذوالجناح کے جلوس میں شامل ہزاروں عزادارامام باڈہ جڈی بل پہنچے ،جہاں مقررین نے حضرت امام حسین ؑ اور دیگر شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کیساتھ ساتھ یوم عاشورہ پر بھی روشنی ڈالی ۔یہ جلوس کئی گھنٹوں کے بعد جڈی بل پہنچا اور انتظامیہ نے جلوس کے پر امن انعقاد کیلئے پائین شہر کے اس حصے کے ٹریفک کو بند کردیا تھا اور شہر کے کئی راستے بھی بند کئے گئے تھے۔ انتظامیہ نے یوم عاشورہ کی مرکزی تقریب کے ہموار انعقاد کو آسان بنانے کیلئے وسیع انتظامات کیے تھے، صحت کی سہولیات، پینے کا پانی، صفائی، ٹریفک کے ضابطے اور عاشورہ اور جلوس ذوالجناح جلوس کے راستے میں ہنگامی ردعمل کی خدمات بھی دستیاب رکھی گئی تھیں۔ادھریوم عاشورہ کے موقع پر پٹن کے ہانجی ویرا میں ہزاروں عزاداروں نے شہدائے کربلا کی یاد میں ایک پرامن جلوس میں شر کت کی۔جلوس میں عقیدت مندوں کو گہرے مذہبی عقیدت اور احترام کے ساتھ مقررہ راستے پر مارچ کرتے ہوئے دیکھا گیا، کربلا میں دی گئی عظیم قربانیوں کی یاد میں نوحہ خوانی اور روایتی ماتمی رسومات ادا کی گئیں۔ پورے راستے میں سیکورٹی اہلکار تعینات رہے، جبکہ سوگواروں اور عام لوگوں دونوں کی آسانی سے نقل و حرکت کی سہولت کے لیے ٹریفک کے انتظامی اقدامات پر عمل درآمد کیا گیا۔ بڈگام میں بھی بہت بڑا ماتمی جلوس بر آمد ہوا جو میر گنڈ کے روایتی راستے سے شروع ہوکر بڈگام میں اختتام کو پہنچا۔ اس جلوس میں لوگوں کا سیلاب نظر آیا۔اسی طرح کی صورتحال وادی کے دیگر کئی علاقوں میں رہی۔جہاچھوٹے چھوٹے ماتمی جلوس نکالے گئے۔البتہ کرگل میں بہت بڑا ماتمی جلوس بر آمد ہوا جس میں ہزاروں لوگوں کی بھیڑ تھی اور جو مرثیہ و نوحہ خوانی کررہے تھے۔
جموں
چندرکوٹ رام بن علاقے میں مجالسِ عزا، ماتمی جلوس اور دیگر مذہبی تقریبات نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد کی گئیں۔ ذوالجناح کا جلوس امام بارگاہ چندرکوٹ سے برآمد ہوا، جو چندرکوٹ شاہراہ سے ہوتا ہوا شام کے وقت کربلا چندرکوٹ میں اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر فوج کی 48 راشٹریہ رائفلز کی جانب سے امام بارگاہ چندرکوٹ میں ایک مفت طبی کیمپ بھی منعقد کیا گیا۔
جلوسوں کا احسن سے انعقاد، آئی جی پی کی منتظمین کی تعریف
سرینگر/عظمیٰ نیوز سروس/ انسپکٹر جنرل آف پولیس(آئی جی پی)کشمیر، وی کے۔ بردی نے جمعہ کو کہا کہ کشمیر بھر میں عاشورہ کے جلوس کے پرامن انعقاد کے لیے وسیع اور جامع انتظامات کیے گئے تھے۔ آئی جی پی نے کہا کہ تمام ضروری حفاظتی اور لاجسٹک اقدامات کی پہلے سے منصوبہ بندی کی گئی تھی تاکہ مذہبی تقریب کو آسانی سے منایا جا سکے۔ انہوں نے منتظمین اور رضاکاروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی فعال شرکت نے جلوس کے کامیاب انعقاد کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔بردی نے منصوبہ بندی کے عمل کے دوران پولیس اور سول انتظامیہ کے ساتھ قریبی تال میل برقرار رکھنے پر منتظمین کی تعریف کی، جس نے پورے پروگرام میں نظم و ضبط، عوامی سہولت اور پرامن نقل و حرکت کو یقینی بنانے میں مدد کی۔انہوں نے عوام کے تعاون اور حکام کی طرف سے جاری کردہ رہنما خطوط پر عمل کرنے پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی کوششوں نے عاشورہ کے پرامن اور منظم طریقے سے منانے میں اہم کردار ادا کیا۔