نیویارک// اقوامِ متحدہ نے پورپین ممالک کو ہدایت کی ہے کہ پورپ میں بسنے والے تارکین وطن کو صحت کی بہتر سہولیات فراہم کی جائیں۔ تفصیلات کے مطابق پورپ میں پناہ لینے والے مہاجرین امراض کا شکار ہورہے ہیں، جبکہ ماضی کے مقابلے میں مرض میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پورپ آنے والے نئے مہاجرین سے بیماریوں میں اضافہ ہورہا ہے، جو دوسروں میں منتقلی کا سبب بھی ہے۔ رپورٹ میں پورپین ممالک کو ہدایت کی گئی ہے کہ پناہ گزینوں اور مہاجرین کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ اس اہم مسئلے پر فوری طور پر قابو پایا جاسکے۔ مہاجرین کے ذریعے دیگر ممالک سے منتقل ہونے والی بیماریوں کا یورپ میں علاج موجود ہے، طبی سہولیات بڑھا دی جائیں تو اس پر فوری طور پر کنٹرول ممکن ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پورپ میں مکمل آبادی کا دس فیصد حصہ مہاجرین کا ہے، بہتر روزگار اور خوشگوار زندگی گزارنے کی خواہش لیے اب تک ہزاروں مہاجرین غیرقانونی طور پر یورپ داخلے کے دوران بحیرہ روم میں ڈوب کر ہلاک ہوچکے ہیں۔ خیال رہے کہ دو روز قبل ہی بحیرہ روم میں غیر قانونی طور پر یورپ جانے والی تارکین وطن کی کشتی ڈوبنے سے 117 مہاجرین ہلاک ہوگئے۔