کشتواڑ//تحصیل دچھن کے علاقہ ہونزڈ میںگزشتہ ماہ کی 27تاریخ کو پیش آئے المناک سانحہ میں ہنوز لاپتہ 19افراد کی تلاش جاری ہے اور13ویں روز کا وقت گزر جانے کے بعد بھی لاپتہ افراد کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔پیر کو بھی تلاشی کاروائی میں لگی ٹیموں پولیس ، فوج ،این ڈی آر ایف ،ایس ڈی آر ایف نے کئی مقامات پر تلاشی کاروائی کی تاکہ ملبہ کے نیچے دبے افراد کو نکالا جاسکے لیکن آج بھی انکے ہاتھ کچھ نہیں لگا۔ اگرچہ این ڈی آ ر ایف ، ایس ڈی آر ایف و پولیس کی ٹیمیں بچائو کاروائی میں لگی ہیں تاہم پولیس کے اعلیٰ عہدیداران واپس آگئے ہیں۔ ادھر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ ضلع انتظامیہ دلی سے اس سلسلے میں خصوصی ٹیم کو بلانے کیلئے تگ ودو کررہی ہے تاکہ لاپتہ افراد کا جلد سے جلد پتہ لگ سکے ۔لاپتہ افراد میں 60سالہ ساجا بیگم اہلیہ غلام محی الدین ، 31سالہ خورشید احمد ولد محمد اقبال، فداحسین 26سالہ ولد محمد رمضان ،40سالہ محمد شریف ولد غلام رسول ، 22برس کی المینہ تبسم دختر محمد اقبال، ماتا بیگم 45برس اہلیہ لالہ تانترے ، 70سالہ غلام محمد ولد غلام رسول ، 18سالہ فاضل حسین ولد رستم علی چوپان، 50سالہ طارق حسین ولد نذیر احدم 40سالہ زرینہ بیگم اہلیہ طارق حسین، 45سالہ ماتا بیگم اہلیہ غلام رسول ، 56سالہ فاطمہ بیگم اہلیہ غلام احمد کے علاوہ 45سالہ بشیر احمد ولد رستم علی ، بیگم 45برس اہلیہ عبدالرحمان ، 38برس کی شریفہ بیگم اہلیہ غلام محمد ، 22برس کا شاکر حسین ولد غلام احمد ، 65برس کا غلام احمد ولد عبدالعزیز ، زبیدہ بانو عمر 25برس دختر غلام احمد اور خالد ولد حاجی گمی شامل ہیں۔ان فراد کو ڈھونڈنے کی کارراوئی میں گزشتہ دو ہفتوں سے ایس ڈی آر ایف ، پولیس اور مقامی لوگ شامل ہیں ۔